بھارت کا پاکستانی سفارتی عملے کو ہراساں کرنے کےخلاف قراردادمتفقہ طور پرمنظور

لاہور: پنجاب اسمبلی کے ایوان نے بھارت میں پاکستانی سفارتخانے کے عملے کو ہراساں کرنے کےخلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ،پارلیمانی سیکرٹری کی جانب سے پی ٹی آئی کی خاتون رکن ڈاکٹر نوشین حامد سے ناروا رویے پراپوزیشن نے اجلاس کی کارروائی سے احتجاجاًواک آﺅٹ کیا صوبائی وزیر شیخ علاﺅ الدین زائد پراپرٹی ٹیکس وصول کرنے کےخلاف اپنی ہی حکومت پر برس پڑے،وقفہ سوالات کے دوران سیکرٹری صحت کی عدم موجودگی کے باعث سپیکر نے اجلاس 15منٹ کےلئے موخر کر دیا ۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز بھی اپنے مقررہ وقت کی بجائے ایک گھنٹہ 40منٹ تاخیر سے سپیکر رانا محمد اقبال کی صدارت میں شروع ہوا۔صوبائی وزیر چوہدری محمد شفیق اور پارلیمانی سیکرٹری حسان ریاض نے ایجنڈے پر موجود محکمہ سپشلائز ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن اور سپیشل ایجوکیشن سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ۔اجلاس کے دورا ن قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید کی جانب سے قواعد کی معطلی کی تحریک کی منظوری کے بعد بھارت میں پاکستانی سفارتی عملے اور ان کے خاندانوں کو ہراساں کرنے کےخلاف قرارداد پیش کی گئی ۔جس کے متن میں کہا گیا کہ بھارت میں پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بلا تعطل جاری ہے جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔بھارت نے بین الاقوامی سفارتی آداب کی بھی دھجیاں بکھیر دیں ہیں۔پاکستان کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ بھارت سے اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے اور بھارت میں موجود اپنے سفارتی عملے کوواپس بلا لے۔یہ ایوان بھارتی حکومت کی پاکستان دشمنی،کینہ پروری اور عدم برداشت کی پرزور مذمت کرتا ہے۔قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ یہ معاملہ عالمی اداروں کے سامنے اٹھائے کہ وہ بھارت کو راہ راست پر لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔قبل ازریں وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکرٹری حسان ریاض کی جانب سے خاتون رکن ڈاکٹر نوشین حامد کے ساتھ اپنائے جانے والے ناروا رویے کےخلاف اپوزیشن نے ایوان سے احتجاجاًواک آﺅٹ کیا ۔ سپیکر کے حکم پر صوبائی وزیر شیخ علاﺅ الدین اپوزیشن کو منا کر ایوان میں واپس لائے۔ڈاکٹر نوشین حامد نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہا سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر نجی ہسپتالوں میں جاکر کام کررہے ہیں جہاں سے وہ بھاری فیسیں وصول کر رہے ہیں ۔سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر کو پابند کیا جائے کہ وہ پہلے اپنی ڈیوٹی مکمل کریں پھر نجی ہسپتالوں میں جائیں۔سوال کا جواب دینے کی بجائے پارلیمانی سیکرٹری نے خاتون کو وی آئی پی کلچر کی پیداوار قرار دے دیا ۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہا ان لوگوں کو غریب آدمی کے مسائل کا پتہ نہیں اور یہاں ہمارا وقت ضائع کرنے آ جاتے ہیں ۔جس پر اپوزیشن اراکین نے ایوان میں ہنگامہ آرائی شروع کردی۔سپیکر نے پارلیمانی سیکرٹری کے رویے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اآپ کو جواب دینا چاہیے ناکہ کسی کی ذات کو تنقید کا نشانہ بنانا چاہیے۔صوبائی وزیر شیخ علاﺅ الدین نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا رہائشی اور کمرشل پراپرٹی مالکان سے غیر ضروری اور بلاجہ اضافی ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے ۔یہ بھی پابندی ہے کہ کوئی شخص ان غیر ضروری ٹیکسوں کو عدالت میں چیلنج بھی نہیں کر سکتا۔جس کے جواب میں وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا حکومت اس معاملے کو دیکھ رہی ہے اوراس کو جلد حل کرلیا جائے گا۔قائد حزب اختلاف میاں محمو د الرشیدنے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا نیب کی جانب سے وزیر داخلہ کو ایک خط لکھا گیا تھا جس میں سفارش کی گئی تھی کہ نواز شریف فیملی کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں لیکن وزارت داخلہ نے اس خط پر اعتراض لگا دیا ہے ۔وزیر داخلہ احسن اقبال نے آئین اور اپنے حلف سے روح گردانی کی ہے لہٰذاہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نواز شریف فیملی کے نام فوری طور پر ای سی ایل میں ڈالے جائیں ۔جس پر سپیکر نے کہا کہ میں اس ایشو پر یہاں بات کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا یہ وفاق کا معاملہ ہے ۔بعد ازراں سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کےلئے ملتوی کردیا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.