عمران خان طویل دورانیےکی نگران حکومت چاہتےہیں ،احسن اقبال

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے قبل از وقت الیکشن کے مطالبے کو ساز ش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان طویل دورانیے کی نگران حکومت چاہتے ہیں ،بلوچستان  کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر پاکستان اور بلوچستان کیساتھ زیادتی کی گئی ،امید کرتا ہوں کہ بلوچستان میں آئندہ ایسا کھیل نہیں کھیلا جائیگا ، ہمیں منفی پراپیگنڈے سے باہر نکلنا چاہیے، قصور کا معاملہ ثبوت ہے کہ کس طرح معاملات کو سوشل میڈیا کے ذریعے گھمایا جاتا ہے، یہ ففتھ جنریشن وار فیئر کا ٹول ہے،ویزہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تاہم سیاحوں اور سرمایہ کاروں کیلئے ویزے میں نرمی اور سہولیات فراہم کرنا ہو گی ،ان غیر ملکی این جی اوز کی رجسٹریشن نہیں کی جائیگی جو اپنے جاسوس پاکستان بھیجتی ہیں ، تاہم ترقی اور جمہوری عمل میں کردار ادا کرنیوالی غیر ملکی این جی اوز کو سہولیات فراہم کرنا ہوں گی ،ممنوعہ بور کے آٹومیٹک ہتھیاروں کو سیمی آٹو میٹک کرانے کیلئے صوبائی حکومتوں سے رابطے میں ہیں اور اس پالیسی پر مﺅثر طریقے سے عملدرآمد کرایا جائیگا ، قصور واقعہ کا ملزم پکڑا گیا لیکن سوشل میڈیا کے ذریعے بے بنیاد پروپیگنڈہ کرکے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جارہا ہے ، قومی شناختی کارڈز کے اجرا کیلئے موبائل وینز کا دائرہ کار دیہاتوں تک پھیلا جارہا ہے تاکہ دیہی آبادی کی خواتین بھی اپنے شناختی کارڈز بنا سکیں ، ایک لاکھ پچیس ہزار بلاک شناختی کارڈز کو جلد کھولنے کیلئے ضلعی سطح پر کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں۔جمعہ کو وزارت داخلہ میں نادرا کی موبائل رجسٹریشن وینز کے افتتاح کی تقریب سے خطاب اور گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہا کہ موبائل وینز کا مقصد ملک کے دور دراز کے علاقوں میں شہریوں کو شناخت کارڈز کی فراہمی کی سہولت کو یقینی بنانا ہے ۔خواتین کو بھی قومی شناختی کارڈز بنا کر دیئے جارہے ہیں اور یہ موبائل وینز گھر گھر جا کر خواتین کو شناختی کارڈز بنا کر دیں گی کیونکہ حکومت چاہتی ہے کہ خواتین بھی آئندہ الیکشن میں اپنے ووٹ کا حق استعمال کرسکیں اور جمہوری عمل میں پوری طرح شریک ہو سکیں، خواتین کی عدم شرکت سے جمہوری عمل مکمل نہیں ہو سکے گا ۔انہوں نے کہاکہ 78موبائل وینز نادرا نے رجسٹریشن کے لئے اپنی ٹیم میں شامل کی ہیں جبکہ مزید 100وینز شامل کر نے کا کہہ دیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت مختلف وجوہات کے باعث ایک لاکھ پچیس ہزار شہریوں کے شناختی کارڈز بلاک ہیں اور شناختی کارڈز کی بحالی کیلئے ضلعی سطح پر کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں ان کمیٹیوں میں اراکین پارلیمنٹ کو شامل کیا گیا ہے تاکہ وہ شہریوں کی تصدیق کریں اور شناختی کارڈز بحال ہو سکیں ۔ کمیٹی جب کسی شہری کے کوائف کی تصدیق کردے گی تو اس کے بعد شناختی کارڈ ز کی بحالی میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کی جائے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیرداخلہ نے کہاکہ ویزہ پالیسی میں کوئی تضاد اور تبدیلی نہیں کی گئی ملکی سکیورٹی کے خدشات کو سامنے رکھتے ہوئے ویزہ پالیسی پر کاربند ہیں اور ملکی سکیورٹی پر کوئی کمپرومائز نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاروں اورسیاحوں کیلئے ویزہ پالیسی میں نرمی کرتے ہوئے انہیں سہولیات فراہم کرنی ہوں گی کیونکہ اگر دنیا سے آنے والے سرمایہ کاروں اورسیاحوں کیلئے ویزہ کا حصول مشکل بنا دیں گے تو پھر بھول جائیں کہ کوئی سرمایہ کار یا سیاح پاکستان کا رخ کرے ۔وزیرداخلہ نے کہاکہ ہم ویزہ پالیسی میں توازن پیدا کرنا چاہتے ہیں جس میں سکیورٹی بھی ہو اور سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لئے سہولیات بھی ہوں کیونکہ ہمارا مقابلہ امریکہ ، برطانیہ یا جاپان سے نہیں اور ہم یہ کہیں کہ مذکورہ ممالک کے وزیر ہمارے سفارت خانوں میں جاکر ویزے حاصل کریں تو پھر کوئی پاکستان کا رخ نہیں کرے گا اس لئے ہمیں جذباتیت کی بجائے ہوش مندی سے کام لینا ہو گا اور سکیورٹی کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ناپسندیدہ لوگوں کو ملک میں داخلے سے روکنا بھی ہو گا ۔ایک سوال پر وزیرداخلہ نے کہاکہ غیر ملکی این جی اوز دوطرح کی ہیں کچھ ایسی این جی اوز ہیں جن کی آڑ میں غیر ملکی جاسوس پاکستان آتے ہیں ایسی این جی اوز کو کسی صورت رعایت نہیں دی جارہی ، تمام این جی اوز ملک دشمن اورجاسوسی کیلئے نہیں آتیں مثال کے طورپر آغا خان فاﺅنڈیشن کی رجسٹریشن بھی رکی ہوئی تھی اور ایسی این جی اوز کی رجسٹریشن کو روکنا ملک کے ساتھ انصاف نہیں کیونکہ یہ ملکی ترقی اور عوام کی فلاح کیلئے کام کرتی ہیں ۔ہم نے ان این جی اوز کو سہولیات فراہم کرنی ہیں جو ملکی ترقی اور جمہوری عمل میں مثبت کردار ادا کرتی ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان میں جرائم میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور امن وامان کی صورتحال بہتر ہورہی ہے پاکستان میں چین کے بیانیے کو منفی انداز میں پیش کرنے کیلئے منظم مہم چلائی جارہی ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کے دشمنوں کی زبان بول رہے ہیں ۔چین نے ایک ایسے وقت میں پاکستان کا بازو پکڑا ہے جب ہمارے اپنے سرمایہ کار ملک میں سرمایہ کاری کرنے پر تیار نہیں تھے سی پیک پر ہمیں چین کا احسان مند ہونا چاہیے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ قصور میں زینب کے قتل کا ملزم پکڑا گیا ہے اس سے پنجاب حکومت کو نیک نامی ملنا تھی لیکن ایک فیلر چھوڑ کر سوشل میڈیا کے ذریعے افواہیں پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہیں کیونکہ یہ سال الیکشن کا سال ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے بیرونی ایجنسیاں پاکستان میں من گھڑت خبریں پھیلا رہی ہیں جس کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا اور جمہوری عمل کو آگے بڑھنے سے روکنا ہے۔ ہمیں منفی پراپیگنڈے سے باہر نکلنا چاہیے، قصور کا معاملہ ثبوت ہے کہ کس طرح معاملات کو سوشل میڈیا کے ذریعے گھمایا جاتا ہے، یہ ففتھ جنریشن وار فیئر کا ٹول ہے۔ ۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ممنوعہ بور اسلحہ میں آٹو میٹک ہتھیاروں کو سیمی آٹو میٹک کرانے کے معاملے پر صوبائی حکومتوں سے رابطے میں ہیں اور کوشش کررہے ہیں کہ موثر طریقے سے نئی اسلحہ پالیسی پر عملدرآمد ہو تاہم اس میں بنیادی کردار صوبوں نے ادا کرنا ہے ۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیرداخلہ نے کہاکہ آصف علی زرداری سمیت جس کسی نے بھی بلوچستان میں منتخب حکومت کو ہٹانے کا کھیل کھیلا اس نے پاکستان اور بلوچستان کیساتھ زیادتی کی ۔ اس وقت جب دشمن قوتیں آزاد بلوچستان کا کھیل کھیل کررہی ہیں تو منتخب حکومت کا تختہ الٹنا مناسب نہیں تھا ۔امید کرتا ہوں کہ آئندہ ایسے کھیل نہیں کھیلے جائیں گے کیونکہ یہ ملک اور جمہوریت کیلئے اچھا نہیں ۔وزیرداخلہ نے کہاکہ عمران خان قبل از وقت انتخابات چاہتے ہیں ان کی کوشش ہے کہ جو نگران حکومت بنے وہ طویل دورانیے کے لئے کام کرے لیکن حکومت جولائی سے پہلے انتخابات نہیں کرائے گی اور نہ ہی یہ ممکن ہے جو کوئی بھی قبل از وقت انتخابات کی مہم میں شریک ہے وہ جمہوری عمل کے خلاف سازش میں حصہ دار ہوگا ۔قبل ازیں جمعہ کو ایوان بالا میں پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے رپورٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گوادر سے کوئٹہ تک ستر سالوں سے روڈ نہیں بن سکی تھی، اب اس پر کام جاری ہے۔ اس سے بلوچستان کی معیشت مضبوط ہو رہی ہے، دو ماہ میں گوادر تک سڑک مکمل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سڑک پر ٹریفک چل چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی سندھ اور جنوبی بلوچستان کی معیشت اس سے منسلک ہو رہی ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان ۔ ژوب سڑک کی تعمیر کی تعمیر کی سفارش حکومت نے نہیں کی تھی، یہ آل پارٹیز کانفرنس میں خیبر پختونخوا کی قیادت نے متفقہ طور پر سفارش کی تھی کہ اس سڑک کو بنایا جائے۔ اس ایکسپریس وے منصوبے میں ڈیرہ اسماعیل خان ۔ ژوب اور ژوب ۔ کوئٹہ کی سڑکوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حویلیاں ڈرائی پورٹ تک ایکسپریس ہائی وے بن گئی ہے، حویلیاں سے تھاکوٹ کو بھی اس میں شامل کرلیا گیا ہے۔ چین سے راولپنڈی تک فائبر آپٹک کیبل گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے علاقوں سے ہوتی ہوئی آئے گی۔ فائبر آپٹک سے گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے علاقوں کا اسی طرح دنیا سے رابطہ ہوگا جیسے راولپنڈی، اسلام آباد اور پشاور کے لوگوں کو یہ سہولت میسر ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی ایسی مراعات چینی سرمایہ کاروں کو نہیں دی جا رہیں جو پاکستان کے سرمایہ کاروں کو حاصل نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ یورپ، امریکہ، مشرق وسطی سے کوئی سرمایہ کار توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری نہیں کر رہا تھا، چین کی تعریف کرنی چاہئے کہ وہ توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور تھر جیسے کوئلے کے اہم منصوبے پر بھی کام آگے بڑھ رہا ہے اور کوئی ایسا منصوبہ کوئلے کا نہیں ہے جس میں ماحولیاتی تقاضے پورے نہ کئے ہوں۔اسی طرح قابل تجدید توانائی اور سولر انرجی کے بھی منصوبے مکمل کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد علاقائی اور مقامی ترقی وفاقی حکومت کے دائرہ کار میں نہیں رہی، وفاقی حکومت صرف قومی سطح کے منصوبے مکمل کرنے کی ذمہ دار ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کے لئے ایک ارب روپے سے زمین کی خریداری مکمل کی ہے۔ اسی سال اس کا سنگ بنیاد رکھ دیا جائے گا۔پہلے بھی افتتاح ہوتے رہے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں ہوا، لواری ٹنل منصوبہ بھی موجودہ حکومت نے مکمل کیا ہے، ساڑھے چار ہزار میگاواٹ کا داسو ڈیم بھی مکمل کیا جائے گا۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اعلی تعلیم کے منصوبوں کے لئے فنڈز فراہم کئے گئے ہیں تاکہ ان علاقوں کے طلبا بھی گھروں کے نزدیک اعلی معیاری تعلیم حاصل کر سکیں۔ خیبر پختونخوا میں رواں مالی سال کے دوران بھی مختلف منصوبوں کے لئے 95 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.