Daily Taqat

اگرملک میں دو یاتین متوازی حکومتیں ہوں تو آپ ملک نہیں چلاسکتے، نوازشریف

اسلام آباد :  پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ اگر ملک میں دو یا تین متوازی حکومتیں ہوں تو آپ ملک نہیں چلا سکتے ¾ صرف ایک  آئینی حکومت کا ہونا ضروری ہے ¾ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین پارٹی چھوڑ کر نہیں گئے ¾ انہیں لے جایا گیا ہے ¾ دوبارہ حکومت ملی تو اپنی پالیسیاں جاری رکھیں گے ۔ایک انٹرویو میں سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف نے اپنے اور اہل خانہ کے خلاف جاری احتساب کے عمل کے بارے میں رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں 2 یا 3 متوازی حکومتیں ہوں تو آپ وہ ملک نہیں چلا سکتے، ا س کےلئے صرف ایک آئینی حکومت کا ہونا ہی ضروری ہے۔نواز شریف نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ جانے والے ارکان بالخصوص جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سابق اراکین کے بارے میں کہا کہ وہ پارٹی چھوڑ کر نہیں گئے، انہیں لے جایا گیا ہے اور ساتھ ہی سوال کیا کہ انہیں کون لے کر گیا؟جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ گر وہ واقع ’محاذ‘ تھا تو وہ 2 دن بھی اس پر کیوں نہ ڈٹ سکے اور فوری طور پر تحریک انصاف میں شامل ہونے کےلئے انہیں کس نے مجبور کیا؟۔ نوازشریف نے کہاکہ لوگوں میں مجھے کیوں نکالا؟ کا نعرہ بہت مقبول ہے اور لوگ اس حوالے سے خاص جذبات رکھتے ہیں۔جب نواز شریف سے پوچھا گیا کہ آئندہ انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کون کرےگا اور کیا شہباز شریف ممکنہ طور پر وزارت عظمیٰ کے اگلے امیدوار ہوں گے تو انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی خدمات کے سب ہی معترف ہیں ¾ آپ شہر پر نظر دوڑائیں انہوں نے اس کا حلیہ بدل کے رکھ دیا ہے۔ایک سوال پر انہوں نے 2014 میں عمران خان کے دھرنے کے تناظر میں کہا کہ جب پہلے سال سے ہی غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جائیں گی تو اصلاحات کیسے ممکن ہوں گی؟۔جب نواز شریف سے پوچھا گیا کہ ان کی حکومت کے خاتمے کی وجہ کیا تھی تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات کا تذکرہ کرتے کہا کہ ہم نے اپنے آپ کو تنہا کرلیا ہے ¾ہماری قربانیوں کے باوجود ہمارا موقف تسلیم نہیں کیا جارہا ¾افغانستان کا موقف سنا جاتا ہے لیکن ہمارا نہیں ¾اس معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے ممبئی حملوں کے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلنے والے مقدمے کے حوالے سے کہا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی؟ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنہیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے ¾ مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں انہیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر 150 لوگوں کو قتل کردیں ¾یہ عمل ناقابل قبول ہے یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے، یہ بات روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور چینی صدر ژی جنگ نے بھی کہی، ان کا کہنا تھا کہ ہماری مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 7 فیصد ہوسکتی تھی لیکن نہیں ہے۔انہوں نے اس رائے سے اختلاف کیا کہ تیسری مرتبہ وزیراعظم کے عہدے سے برطرفی ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ اگر پھر حکومت ملی تو وہ اس سے مختلف کچھ نہیں کریں گے۔سابق وزیر اعظم نے کہاکہ آئین سب سے مقدم ہے اور اس کے علاوہ کوئی راہ نہیں ہم نے ایک آمر کے خلاف مقدمہ چلایا جو اس سے قبل کبھی نہیں ہوا۔جب ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا وہ ماضی کی طرح حراست سے بچنے کےلئے جلاوطنی اختیار کرنے کےلئے ڈیل کی کسی پیشکش پر دوبارہ غور کریں گے؟ جس پر ان کا کہنا تھا کہ میں 66 پیشیاں بھگتے کے بعد ایسا کیوں کروں گا ؟ مجھے اتنی بھی مہلت نہیں دی گئی کہ لندن میں زیر علاج اپنی اہلیہ سے ملاقات کرنے جا سکوں، دور رہنا آسان نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں، یہ کھیل بہت عرصے سے جاری ہے اب کچھ تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »