Daily Taqat

اگر احتساب کرنا جرم ہے تو ہوتا رہےگا، جسٹس (ر) جاوید اقبال

پشاور: قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ شخصیت پرستی سے بالاتر ہو کر تحقیقات کرتے ہیں،اگر احتساب کرنا جرم ہے تو ہوتا رہے گا،نیب کے نوٹس ذاتی نہیں ہوتے،بیوروکریسی کی خدمات پاکستان کے ساتھ ہونی چاہیے نہ کہ حکومت کے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز نیب خیبر پختونخواہ میں تقریب برائے تقسیم چیک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ چیئرمین نیب جاوید اقبال نے کہا کہ ملک 84 ارب ڈالر کا مقروض ہوچکا مگر ان پیسوں کا مصرف آج تک نظر نہیں آرہا۔بیوروکریسی کی خدمات پاکستان کے ساتھ ہونی چاہیے نہ کہ حکومت کے۔ انہوں نے کہا کہ ناخداں کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے ،نیب کی تمام تر وفاداریاں صرف پاکستان کے ساتھ ہیں، شخصیت پرستی سے بالاتر ہو کر تفتیش و تحقیقات کرتے ہیں۔نیب کو اپنے کسی اقدام پر کسی قسم کی تشہیر کی ضرورت نہیں نیب قانون اور آئین کے دائرہ میں رہتے ہوئے اختیارات کا استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے نوٹس ذاتی نوٹس نہیں ہوتے،احتساب کرنا اگر جرم ہے تو ہوتا رہے گا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »