کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپانے پرکوئی صادق و امین نہیں رہتا، میاں ثاقب نثار

اسلام آباد : چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپانے پر کوئی صادق و امین نہیں رہتا‘ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت طے کرنا باقی ہے‘ یہ فیصلہ طے کرنا باقی ہے کہ ایسی نااہلی پانچ سال کے لئے ہوتی یا تاحیات ‘ نواز شریف کیس میں کہہ دیا ہے اثاثہ چھپانہ بددیانتی ہے۔ جمعہ کو کنٹونمنٹ بورڈ میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپانے پر کوئی صادق و امین نہیں رہتا۔ کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپانے پر عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 99 کا اطلاق ہوتا ہے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مددت طے کرنا باقی ہے۔ یہ فیصلہ کرنا باقی ہے کہ ایسی نااہلی پانچ سال کے لئے ہوتی یا تاحیات۔ پانچ رکنی بینچ تیس جنوری سے شروع ہونے والے مقدمے میں نااہلی کے عرصے کا تعین کرے گا۔ نواز شریف کیس میں کہہ دیا ہے اثاثہ چھپانا بددیانتی ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.