Daily Taqat

مستونگ اور پشاور دھماکوں کے خودکش حملہ آوروں کی شناخت ہوگئی

اسلام آباد: آئی جی بلوچستان نے مستونگ خودکش حملہ آور اور کے پی کے پولیس حکام نے دعوی کیا ہے کہ دونوں خودکش حملہ آوروں کی شناخت ہوگئی ہے،اس بات کا دعویٰ بلوچستان اوت خیبر پختون خوا کے اعلیٰ پولیس حکام نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ کے اجلاس میں بریفنگ کے دوران کیا۔کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو سینیٹر رحمان ملک کی صدارت میں
ہوا۔ آئی جی بلوچستان محسن بٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ ہ مستونگ خودکش بمبار کی شناخت ہوگئی ہے، حملہ آور کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا خود کش حملہ آور کا نام حافظ نواز تھا۔آئی جی بلوچستان نے بتایا کہ خودکش حملہ آور حافظ نواز ایبٹ آباد سے سندھ گیا جہاں وہ لشکرِ جھنگوی سمیت دیگر کالعدم تنظیموں سے وابستہ رہا اور بعد میں کالعدم شدت پسند تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کرلی۔ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی بھی داعش نے ہی کی تھی۔ خودکش بمبار کے دو سہولت کاروں کا بھی پتہ چل گیا ہے، سہولت کار مفتی حیدر اور حافظ نعیم کالعدم داعش کے مقامی کمانڈر ہیں جنہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ افغانستان میں داعش نے کنٹرول سنبھال لیا، وہاں سے بلوچستان بھی آگئی ہے۔دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے شہید رہنما ہارون بلور کے حوالے سے خیبرپختون خوا پولیس حکام نے دعوی کیا ہے کہ ہارون بلور پر حملہ کرنے والے خودکش بمبار کا پتہ لگا لیا گیا ہے، خود کش حملہ آور کا تعلق ہنگو سے تھا اور اس کے دو سہولت کار تھے جن کی گرفتاری کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ ہارون بلور کو کوئی تھریٹ موصول نہیں ہوا تھا اس سلسلے میں جے آئی ٹی بنا دی گئی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی خیبرپختونخوا نے بھی ہارون بلور پر حملے کے مرکزی کردار کی گرفتاری کا دعوی کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے سی ٹی ڈی تحقیقات کر رہی ہے اور مزید کرداروں تک جلد پہنچ جائیں گے۔علاوہ ازیں ہارون بلور پر حملے سے متعلق نیکٹا کے سربراہ ڈاکٹر سلیمان نے کہا کہ ہارون بلور پر حملے سے متعلق کوئی رپورٹ نہیں تھی، ہارون بلور مقامی پولیس سے رابطہ رکھتے تو حملے کو روکا جاسکتا تھا۔ سربراہ نیکٹا نے بتایا کہ عوامی نیشنل پارٹی سے متعلق تھریٹس موجود ہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »