Daily Taqat

این آئی سی ایل کرپشن کیس‘سپریم کورٹ کے حکم پر سابق چیئرمین ایازخان گرفتار

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے حکم پر نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ (این آئی سی ایل)کے سابق چیئرمین ایاز خان نیازی کو گرفتار کرلیا گیا، عدالت نے لاہور اور کراچی کی احتساب عدالتوں کو ایاز نیازی کے خلاف مقدمات کا ٹرائل دو ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا ،جبکہ عدالت نے کرپشن کیس کے دوسرے کردار محسن حبیب وڑائچ کو بھی فوری گرفتار کرنے کے احکامات جاری کردئیے،عدالت نے قرار دیا کہ اگر ایاز خان نیازی احتساب عدالت سے ضمانت پر نہیں تو انہیں گرفتار کر لیں، عدالتی حکم پر نیب حکام نے ایاز نیازی کو گرفتار کر لیا۔اتوار کوچیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے این آئی سی ایل میں مبینہ کرپشن کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر این آئی سی ایل کے سابق چیئرمین ایاز خان نیازی عدالت میں پیش ہوئے۔ سابق چیئرمین این آہی سی ایل ایاز خان نیازی عدالت میں پیش ہو گئے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایاز نیازی کے پاس ایک نہیں تین گاڑیاں ہیں۔ ایاز نیازی دو کنال کے گھر میں رہتے ہیں۔ ایاز نیازی کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ نیازی صاحب یہ پاکستان ہے لوٹ مار نہیں، چیف جسٹس نے ایاز نیازی سے کہا کہ آپ کو ایک ایک پائی کا حساب دینا ہو گا۔ نیب حکام نے بتایا کہ مخدوم امین فہیم کے توسط سے ایاز نیازی کا تقرر کیا گیا تھا۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے کہا کہ سابق چیئرمین این آئی سی ایل کہاں ہیں، ذرہ روسٹرم پر آ جائیں۔ ایاز نیازی روسٹرم پر پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی آنکھیں آج نیچے ہیں، بتائیں آپ کی قابلیت کتنی ہے، کتنے تعلیم یافتہ ہیں، آپ کو کس نے تعینات کیا تھا اور آپ نے ملک بھر میں کتنی جائیدادیں خریدیں۔ اس پر ایاز نیازی نے بات کو ردوبدل کر کے پیش کرنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت کے سامنے ذرہ بھی جھوٹ بولا تو آپ کی ساری ضمانتیں منسوخ ہو جائیں گی۔ اس پر ایاز نیازی نے بتایا کہ پاکستان میں لاہور، اسلام آباد، کراچی اور دبئی میں انہوں نے جائیدادیں خریدیں۔ چیف جسٹس کے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ کوڑیوں کی زمین کروڑوں روپے کے داموں خریدی گئی۔ ایاز نیازی نے بتایا کہ انہیں مخدوم امین فہیم نے بلوایا تھا اور وہ فروری 2009ءمیں پاکستان آئے تھے۔ چیف جسٹس نے ایاز نیازی سے استفسار کیا کہ آپ کی تنخواہ کتنی تھی اس پر ایاز نیازی نے کہا کہ مجھے یاد نہیں میری تنخواہ کتنی تھی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو یہ بھی یاد نہیں کہ آپ کی تنخواہ کتنی تھی؟ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ این آئی سی ایل کی 90 کروڑ روپے کی کرپشن کے کیس میں اب تک 49 کروڑ وصول کئے جا چکے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق ایاز نیازی کے ساتھ معاملات کریں۔ ٹھیکے کی زمینیں کروڑوں روپے میں خریدی گئیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایاز نیازی دو کنال کے گھر میں رہتا ہے ان کی گاڑیاں بھی بے نامی ہیں۔عدالت کو بتایا گیا کہ ایاز نیازی پہلے ایف آئی اے کے مقدمات میں عدالتوں سے ضمانت پہ تھے بعد میں نیب نے مقدمات کو ٹیک اوور کیا تو ان کی ساری ضمانتیں غیرموثر ہو گئی تھیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ اگر مقدمہ نیب میں ہے تو ایف آئی اے کی ضمانت قابل قبول نہیں۔ انہیں ضمانت دوبارہ کروانی پڑے گی۔ اس موقع پر نیب حکام نے کمرہ عدالت کے بارہ سے ایاز نیازی کو فوری طور پر گرفتار کر لیا جبکہ چیف جسٹس نے لاہور اور کراچی کی احتساب عدالتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ایاز نیازی کے خلاف کیسز کا فیصلہ دو ماہ میں کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دوسرا ملزم محسن حبیب وڑائچ کہاں ہے۔ اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ محسن حبیب تاحال گرفتار نہیں ہو سکا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم را¶ انوار کو پیش کروا سکتے ہیں تو محسن حبیب کیا چیز ہے۔ عدالت نے محسن حبیب وڑائچ کی عدم گرفتاری پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور ان کو فوری طور پر گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »