Latest news

ہماری اولین ترجیح معاشی نظام کو مستحکم بنیادوں پر چلانا ہے : وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری اولین ترجیح معاشی نظام کو مستحکم بنیادوں پر چلانا ہے جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع پیدا ہو نگے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور مقامی صنعتوں کو فروغ ملے گا، پرائیویٹ سیکٹر کو ایس ایم ایز کے فروغ کے لئے شامل کیا جائے، کاروبار میں آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ سرمایہ کار کسی دقت یا ہچکچاہٹ کے بغیر سرمایہ کاری کر سکیں، مقامی سطح پر چھوٹے صنعتی یونٹس کو ترجیح دی جائے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔

جمعرا ت کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت معاشی ٹیم کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراء مخدوم خسرو بختیار ، عمر ایوب، حماد اظہر، محمد میاں سومرو، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داود، مشیر اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، معاونین خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، یوسف بیگ مرزا، شوکت ترین، چیرمین ایف بی آر شبر زیدی، چیرمین سرمایہ کاری بورڈ، چیرمین این ڈی ایم اے اور سینئر افسران بھی موجود تھے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح معاشی نظام کو مستحکم بنیادوں پر چلانا ہے جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع پیدا ہو نگے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور مقامی صنعتوں کو فروغ ملے گا۔ اجلاس میں چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایس ایم ایز) کے فروغ، بیمار صنعتوں کی بحالی اور تعمیرات سیکٹر کو مرعات دینے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی ۔بیمار صنعتوں کی بحالی کے حوالے سے وزیر اعظم کوآگاہ کیا گیاکہ کل 687 ایسے یونٹس ہیں جن کو فوری طور پر بحال کرنے کے لئےاقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پبلک پرا ئیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ان کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔ وزیراعظم نے ہدایت جاری کی کہ 60 دن کے اندر ایک مفصل منصوبہ بندی کے تحت ان یونٹس کو بحال کرنے کے لیے جن قوانین اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے، ان کو مکمل کیا جائے۔ چھوٹے اور درمیانی صنعتوں کے فروغ کے حوالے سے آگاہ کیا گیا کہ ایس ایم ایز میں اس وقت سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی کمی، ہنر مند افراد کی کمی ، قوانین میں تبدیلی ، سمیڈا میں اصلاحات، ریسرچ کا فقدان جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

اس ضمن میں وزیرِ اعظم نے کہ پرائیویٹ سیکٹر کو ایس ایم ایز کے فروغ کے لئے شامل کیا جائے۔ کاروببار میں آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ سرمایہ کار کسی دقت یا ہچکچاہٹ کے بغیر سرمایہ کاری کر سکیں۔ مقامی سطح پر چھوٹے صنعتی یونٹس کو ترجیح دی جائے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.