ایف آئی اے نے راو انوارکی بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام بنادی

اسلام آباد : مبینہ پولیس مقابلے میں نوجوان نقیب اللہ محسود کو قتل کرنے کے الزام میں معطل سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر راو انوار کی اسلام آباد کے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام بنادی گئی۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)  ذرائع کے مطابق راو انوار کی دستاویزات کو شک کی بنا پر مسترد کرتے ہوئے انہیں دبئی جانے سے روکا گیا۔ ان دستاویزات میں 20 جنوری کو جاری کیا گیا سندھ حکومت کا این او سی (اجازت نامہ) بھی شامل تھا۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق راو انوار کو حراست میں نہیں لیا گیا کیونکہ انہیں اس قسم کے احکامات موصول نہیں تھے جبکہ راو انوار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ راو انوار ذاتی طور پر ایئرپورٹ نہیں آئے بلکہ انہوں نے اپنی سفری دستاویزات ایک ساتھی کے ذریعے اسلام آباد ایئرپورٹ بھجوائی تھیں۔ دوسری جانب راو انوار نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ وہ بالکل ٹھیک اور خیریت سے ہیں اور میڈیا پر ان کے دبئی فرار ہونے کی کوشش سے متعلق خبر غلط ہے۔ یاد رہے کہ راو انوار نے 13 جنوری کو کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاون میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں 27 سالہ نوجوان نقیب اللہ محسود کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقتول کا تعلق دہشت گرد تنظیم سے تھا۔ تاہم نقیب کے اہلخانہ نے راو انوار کے پولیس مقابلے کو جعلی قرار دے دیا تھا جس کے بعد نوجوان کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے کیے گئے اور چیف جسٹس پاکستان نے بھی اس معاملے کا از خود نوٹس لیا۔بعدازاں سوشل میڈیا اور میڈیا پر معاملہ اٹھنے کے بعد آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے آئی جی سی ٹی ڈی ثنا اللہ عباسی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی تھی۔ تحقیقاتی کمیٹی نے نقیب اللہ کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے پولیس پارٹی کے سربراہ ایس ایس پی ملیر راو انوار کو معطل کرکے گرفتار کرنے اور نام ای سی ایل میں ڈالنے کی بھی سفارش کی جس پر انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.