Daily Taqat

شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرینسزٹرائل کی مدت میں 9جون تک توسیع

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے احتساب عدالت کو مزید ایک ماہ کا وقت دے دیا۔بدھ کو جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس عظمت سعید پر مشتمل دو رکنی خصوصی بینچ نے احتساب عدالت کی شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کے ٹرائل مکمل کرنے میں توسیع سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔عدالت نے نواز شریف کے وکیل اور نیب پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد احتساب عدالت کو ٹرائل مکمل کرنے کی تاریخ میں 9 جون تک کی توسیع کردی۔سماعت کے آغاز پر جسٹس اعجاز الاحسن نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ آپ کو مزید کتنا وقت چاہیے جس پر وکیل نے کہا کہ ٹرائل اور پوائنٹس مکمل کرنے لیے تین ماہ کا وقت درکار ہوگا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہونے والا ہے، جلد بازی سے ٹرائل متاثر ہونے اور ملزمان کا فئیر ٹرائل کا حق متاثر ہوسکتا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے رمضان میں جنگیں بھی لڑی ہیں جس پر نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ جنگ لڑوا لیں لیکن یہ ذہنی کام ہے، مشقت بہت ہے، رمضان میں یہ کام مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اگر اس مقررہ مدت میں ٹرائل مکمل نہ ہو تو عدالت یہاں بیٹھی ہے آجائیے گا، انصاف کا قتل عام نہیں ہونے دیں گے اور ملزمان کے حقوق کا تحظ کریں گے۔ آپ کے تمام حقوق اور آرٹیکل 18 اے کا تحفظ کیا جائے گا، یقین دلاتے ہیں کہ ٹرائل شفاف ہوگا۔نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ ہم نے پراسیکیوشن سے کہا تھا کہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا اور دیگر گواہان کے بیان تینوں ریفرنسز میں اکٹھے کرلیں۔خواجہ حارث نے کہا کہ صرف 38 قانونی نکات ایسے ہیں جن پر جرح ہونی ہے، واجد ضیا اور عمران ڈوگر کے بیان پر جرح کے مزید دو سیشن ہونے ہیں۔اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ایک ریفرنس میں 18 گواہان کے بیانات ہوچکے ہیں اور ایون فیلڈ ریفرنس میں ملزمان کے بیانات باقی ہیں۔سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی ٹرائل مکمل کرنے کی توسیع کی درخواست منظور کرتے ہوئے مزید ایک ماہ کا وقت دے دیا۔یاد رہے کہ پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں احتساب عدالت کو شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کا ٹرائل 6 ماہ میں مکمل کرنا تھا جس کی مدت 13 مارچ کو مکمل ہوئی۔احتساب عدالت نے چھ ماہ مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں توسیع کے لیے رجوع کیا جس پر عدالت نے 2 ماہ کی توسیع دی تھی جو 12 مئی کو مکمل ہورہی ہے جب کہ سپریم کورٹ نے ٹرائل مکمل کرنے کے لیے احتساب عدالت کو ایک مرتبہ پھر مزید ایک ماہ کا وقت دے دیا ہے۔سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا۔العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اب تک احتساب عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت انہیں مفرور قرار دے کر ان کا کیس الگ کرچکی ہے۔نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں تین ضمنی ریفرنسز بھی دائر کیے گئے ہیں جن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز ضمنی ریفرنس میں نواز شریف کو براہ راست ملزم قرار دیا گیا ہے۔جب کہ العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ضمنی ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر)صفدر نامزد ہیں۔

آئٹم نمبر ——-46——— 9 مئی 2018ئ
صوبے کی سخت فکر ہے ،بلوچستان کو خود سے حکمرانی کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی، چیف جسٹس
بلوچستان پسماندہ نہیں بلکہ دولت سے مالامال ہے، آپ قوم کے رہنما ہیں، بلوچستان کو جید رہنما کی ضرورت ہے، ہمیں بتائیں عدلیہ بلوچستان کے حالات کے حوالے سے کیا کردار ادا کر سکتی ہے،جسٹس ثاقب نثار کا عبدالمالک بلوچ سے مکالمہ
ہم نے حکومت کو فعال کرنے کی کوشش کی ، بلوچستان میں غیر جانبدارانہ الیکشن ہونا چاہیے، آج تک غیر جانبدار الیکشن نہیں ہوا، بلوچستان کو وفاق سے اس کا حصہ نہیں ملتا،سابق وزیر اعلیٰ کا عدالت میں بیان
مالک بلوچ اور ہماری حکومت بلوچستان کو پتھر کے دور سے واپس لائی،عدالت اچھے کاموں کی تعریف کرے،ثناءاللہ زہری
اسلام آباد(اے این این ) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ بلوچستان کو خود سے حکمرانی کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی، وہاں کے لوگ سیاسی طور پر طاقت میں نہیں۔بدھ کو سپریم کورٹ میں بلوچستان میں پانی کی قلت سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ سابق وزرائے اعلی ثنا اللہ زہری اور عبدالمالک بلوچ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے عبدالمالک بلوچ سے استفسار کیا کہ کیا آپ اپنے صوبے میں پانی کی صورتحال سے مطمئن ہیں، بلوچستان میں جھیلیں سوکھ گئی ہیں آپ نے کیا اقدامات کیے؟، ہمیں بلوچستان کی بہت فکر ہے، آپ نے حکومت کو فعال کرنے کی کوشش کی؟۔عبدالمالک بلوچ نے جواب دیا کہ حکومت کو فعال کرنے کی بہت کوشش کی، امن و امان صحیح کیے بغیر کچھ درست نہیں ہوسکتا، 2013 سے 2015 تک جرائم کی شرح میں کمی ہوئی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا ان دنوں ہزارہ برادری کے قتل عام میں کمی ہوئی؟۔عبدالمالک بلوچ نے بتایا کہ کمی ہوئی تھی، جب اقتدار سنبھالا تو فرقہ واریت سے قتل عام میں 248 افراد ہلاک ہوئے تھے، ٹارگٹ کلنگ 248 سے کم ہو کر 48 پر آگئی تھی، 2013 کا الیکشن ایک جنگ تھی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیوں بلوچستان کو خود سے حکمرانی کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ؟ بلوچستان کے لوگ سیاسی طور پر طاقت میں نہیں ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے میں 6054 اسکولوں کی دیوار اور بیت الخلا نہیں ہیں، 100 اسکولوں کو بھی سالانہ اپ گریڈ کریں گے تو 6 ہزار اسکولوں کو اپ گریڈ کرنے میں 60 سال لگیں گے، کوئٹہ کے ہسپتالوں میں سی سی یو اور سہولیات نہیں ہیں، اسپتالوں کی حالت انتہائی خراب ہے جس کو دیکھ کر دکھ ہوا، جب میں نے دورہ کیا ہسپتالوں کا عملہ کئی روز سے ہڑتال پر بیٹھا تھا، بلوچستان پسماندہ نہیں بلکہ دولت سے مالامال ہے، آپ قوم کے رہنما ہیں، بلوچستان کو جید رہنما کی ضرورت ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں بتائیں عدلیہ بلوچستان کے حالات کے حوالے سے کیا کردار ادا کر سکتی ہے، عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں غیر جانبدارانہ الیکشن ہونا چاہیے، آج تک غیر جانبدار الیکشن نہیں ہوا، بلوچستان کو وفاق سے اس کا حصہ نہیں ملتا۔عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ جن لوگوں نے کام کیا ان کی ستائش اور کام نہ کرنے والوں کی سرزنش کریں، کئی علاقوں میں اب بھی شرپسند موجود ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سیاسی بات نہیں کرتے، آپ وزیراعلی تھے تو وفاق میں آپکی حکومت تھی، بلوچستان میں پانی ختم ہو رہا ہے، یہی صورتحال رہی تو لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوں گے، تمام معاملات کو اس وقت زیر بحث نہیں لا سکتے، کل رات کوئٹہ رجسٹری میں سماعت کر لیتے ہیں، جنہوں نے کام نہیں کیا ان پر زمہ داری عائد کرنا پڑے گی۔ثنا اللہ زہری نے کہا کہ ہم سے پہلے بلوچستان پتھر کے دور میں چلا گیا تھا، سریاب کے علاقے میں لوگ جا نہیں سکتے تھے، ان کے اور ڈاکٹر عبدالمالک کے آنے کے بعد حالات بہتر ہوئے، عدالت اس کی تعریف بھی کرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بتا دیں کہ پانچ سال میں پانی کا مسئلہ حل ہوا ؟ عدلیہ حالات کی بہتری کے لیے معاونت کرنا چاہتی ہے، خدارا جا کر دیکھیں حالات کیا ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ تمام معاملات کو اس وقت زیر بحث نہیں لا سکتے، جنہوں نے کام نہیں کیا ان پر ذمہ داری عائد کرنی پڑے گی۔ کیس کی مزید سماعت جمعرات کو کوئٹہ رجسٹری میں ہوگی۔
آئٹم نمبر ——-47——— 9 مئی 2018ئ
شایدپٹرولیم پر آج بھی ڈھاکہ ریلیف ٹیکس موجود،قیمتوں کا فرانزک آڈٹ کرائیں گے، چیف جسٹس
جب بھی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوتی ہے سیل ٹیکس لگا دیا جاتا ہے، جب عوام کو ریلیف دینے کی باری آتی تو ٹیکس لگ جاتا ہے،بھارت سے قیمتوں کا موازنہ نہ کریں، چارٹ بنا کر دیں کہ پٹرولیم مصنوعات پر کتنے قسم کے ٹیکسز کا اطلاق ہوتا ہے، آئل کمپنی اور ڈیلر کا مارجن کتنا ہے ؟،جسٹس ثاقب نثار ایڈیشنل اٹارنی جنرل پر برہم
اسلام آباد(اے این این ) سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات پر بے تحاشا ٹیکسز کے اطلاق کے معاملے پر وزارت پٹرولیم و دیگر متعلقہ اداروں سے تحریری وضاحت طلب کر لی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے پٹرولیم مصنوعات پر آج بھی ڈھاکہ ریلیف ٹیکس عائد ہے ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا فرانزک آڈٹ کروائیں گے۔ بدھ کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پٹرولیم مصنوعات پر ہوشربا ٹیکسزکے اطلاق سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پٹرولیم مصنوعات پر 25 فیصد ٹیکس لگتا ہے، جب بھی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوتی ہے سیل ٹیکس لگا دیا جاتا ہے، جب عوام کو ریلیف دینے کی باری آتی تو ٹیکس لگ جاتا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ پٹرولیم مصنوعات پر کس قسم کے ٹیکسز کا اطلاق ہوتا ہے اورعالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی کیا قیمتیں ہیں اور یہاں پر پٹرولیم مصنوعات کی کیا قیمتیں ہیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ قیمتیں 100 ڈالر سے 50 ڈالر پر آجائے حکومت قیمتیں کم نہیں کرتی، پٹرولیم مصنوعات پرکس قسم کے ٹیکسز کا اطلاق ہوتا ہے، عالمی مارکیٹ اور پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کیا قیمتیں ہیں ؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہمارے یہاں ریجن سے کم ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوں تو عوام کو ریلیف نہیں ملتا، بھارت سے قیمتوں کا موازنہ نہ کریں، چارٹ بنا کر دیں کہ پٹرولیم مصنوعات پر کتنے قسم کے ٹیکسز کا اطلاق ہوتا ہے، آئل کمپنی اور ڈیلر کا مارجن کتنا ہے ؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پٹرولیم پر کسٹم ڈیوٹی، لیوی اور سیل ٹیکس کا اطلاق ہوتا ہے، پٹرول پر 11.5فیصد ٹیکس لگتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ شاید پٹرولیم پرڈھاکہ ریلیف فنڈز لگا ہے، متعلقہ وزارت اور ادارے، پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کے حوالے سے تحریری جواب داخل کریں۔ ہم قیمتوں کا فرانزک آڈٹ کروائیں گے، ہمیں چارٹ بنا کر دیں کہ پٹرولیم مصنوعات پر کتنی قسم کے ٹیکسز کا اطلاق ہوتا ہے۔عدالت نے متعلقہ وزارت اور ادارے کو تحریری جواب داخل کرانے اور پیٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے وضاحت کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ہفتہ تک ملتوی کردی۔
آئٹم نمبر ——-48——— 9 مئی 2018ئ
اسحاق ڈار اثاثہ جات ریفرنس: گواہ محمدعظیم پر جرح مکمل نہ ہوسکی، سماعت ملتوی
سابق وزیر خزانہ کی اسٹیٹمنٹ آف اکاو¿نٹ میں نے نہیں بنائی بلکہ وہ کمپیوٹر جنریٹڈ تھی، جس کی ٹرانزیکشنز کی تاریخ انہیں یاد نہیں،گواہ کا بیان
اسلام آباد(اے این این ) احتساب عدالت میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ضمنی ریفرنس کی سماعت کے دوران وکیل صفائی قاضی مصباح کی گواہ محمد عظیم پر جرح مکمل نہ ہوسکی اور عدالت نے گواہ سے اسحاق ڈار سے متعلقہ تمام ریکارڈ ساتھ لانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔بدھ کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ محمد عظیم نے بتایا کہ وہ 2001 سے 2004 تک نجی بینک میں ڈیٹا اِن پٹ آفیسر رہے اور پھر سپروائزر بنا دیئے گئے۔گواہ نے بتایا کہ اسحاق ڈار کی اسٹیٹمنٹ آف اکاو¿نٹ انہوں نے نہیں بنائی بلکہ وہ کمپیوٹر جنریٹڈ تھی، جس کی ٹرانزیکشنز کی تاریخ انہیں یاد نہیں۔محمد عظیم کے مطابق غیر ملکی ٹرانزیکشنز کی انٹری انہوں نے نہیں کی اور نہ ہی اس پر ان کے دستخط ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ٹرانزیکشن کا عمل نہیں کیا بلکہ اسے سپروائز کیا۔گواہ محمد عظیم کے مطابق والیوم چار میں لگے چیک پر کلیئرنگ کے ساتھ ان کے دستخط ہیں اور بینک ٹرانزیکشن رپورٹ انہوں نے بینک ریکارڈ کو سامنے رکھ کر خود تیار کی۔وکیل صفائی نے گواہ محمد عظیم سے استفسار کیا کہ ‘سب انٹریاں آپ کی مرضی سے ہوئیں یا آپ کو کوئی ہدایت دی گئی تھی؟۔جس پر محمد عظیم نے جواب دیا کہ ‘مجاز اتھارٹی نے ہدایت دی تھی کہ کیش، کلیئرنگ اور ٹرانسفر کی الگ الگ انٹریاں کی جائیں’۔وکیل صفائی قاضی مصباح نے گواہ سے سوال کیا کہ ’28 جون 2011 کا چیک کس کے لیے جمع ہوا؟’۔گواہ نے بتایا کہ یہ چیک ہجویری ٹرسٹ کے لیے جمع ہوا جبکہ 27 نومبر 2012 کو ہجویری ٹرسٹ کے لیے 10 لاکھ روپے کا چیک جمع ہوا۔وکیل صفائی نے سوال کیا کہ ‘کیا یہ چیک آپ کی برانچ کا ہے اور اصل چیک آپ کے پاس موجود ہے؟۔گواہ محمد عظیم نے بتایا کہ ‘یہ درست ہے کہ وہ چیک ان کی برانچ کا ہے اور اصل چیک موجود ہے’۔ سماعت کے دوران گواہ محمد عظیم پر وکیل صفائی کی جرح مکمل نہ ہوسکی، جس کے بعد عدالت نے گواہ کو اسحاق ڈار سے متعلقہ تمام ریکارڈ ساتھ لانے کا حکم دیتے ہوئے آمدن سے زائد اثاثوں کے ضمنی ریفرنس کی سماعت 16 مئی تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ استغاثہ کے گواہ محمد عظیم کے مرکزی ریفرنس میں ریکارڈ کرائے گئے بیان کو ہی ضمنی ریفرنس کا حصہ بنایا گیا تھا۔مذکورہ کیس کی 2 مئی کو ہونے والی گذشتہ سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ شیر دل خان کا بیان قلمبند کرکے جرح مکمل کرلی گئی تھی، جبکہ محمد عظیم پر جرح نہیں ہوسکی تھی۔سپریم کورٹ کے 28 جولائی 2017 کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں نیب نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کے 831 ملین روپے کے اثاثے ہیں جو مختصر مدت میں 91 گنا بڑھے۔گذشتہ برس 27 ستمبر کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں کے نیب ریفرنس میں اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔اسحاق ڈار 7 مرتبہ احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوچکے ہیں۔تاہم بعدازاں مسلسل غیر حاضری پر احتساب عدالت نے 11 دسمبر 2017 کو اسحاق ڈار کو اشتہاری ملزم قرار دے دیا تھا۔سابق وزیر خزانہ اِن دنوں علاج کی غرض سے بیرون ملک مقیم ہیں۔رواں برس 26 فروری کو نیب نے اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ضمنی ریفرنس بھی احتساب عدالت میں دائر کیا، جس میں نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد کے علاوہ نعیم محمود اور منصور رضوی کو بھی شریک ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا۔5 مارچ کو احتساب عدالت نے ضمنی ریفرنس میں نامزد ملزمان پر فرد جرم عائد کردی تھی، جس کے بعد استغاثہ گواہان کے بیان ریکارڈ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
آئٹم نمبر ——49———- 9 مئی 2018ئ
عدلیہ مخالف احتجاج، 2 لیگی اراکین اسمبلی سمیت 6 افراد پر فرد جرم کیلئے تاریخ مقرر
اپنے کیے پر شرمندہ ہیں، عدلیہ اور قوم سے اپنے معافی مانگتے ہیں، ہم نے عدلیہ کے حق میں تحریک چلائی اور عدلیہ کی عزت کرتے ہیں
لاہور (اے این این ) لاہور ہائیکورٹ نے قصور میں عدلیہ مخالف احتجاج کرنے والے مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی وسیم اختر شیخ اور رکن پنجاب اسمبلی نعیم صفدر انصاری سمیت 6 افراد پر فرد جرم کے لئے 11 مئی کی تاریخ مقرر کردی۔بدھ کو جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے عدلیہ مخالف احتجاج پر لیگی اراکین اسمبلی کے خلاف درخواست پر سماعت کی، اس موقع پر کمرہ عدالت میں ملزمان کی تقاریر کی ویڈیو بھی چلائی گئی۔ملزمان نے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اپنے کیے پر شرمندہ ہیں، عدلیہ اور قوم سے اپنے معافی مانگتے ہیں، ہم نے عدلیہ کے حق میں تحریک چلائی اور عدلیہ کی عزت کرتے ہیں۔جسٹس مظاہر علی نقوی نے کہا کہ ملزمان نے عدالت میں اپنا جرم قبول کرتے ہوئے اپنے کیے پر افسوس کا اظہار کیا، ملزمان شرمندہ ہیں مگر عدالت میں جرم قبول کرلیا ہے۔ملزمان کی جانب سے غیر مشروط معافی مانگنے کے بعد عدالت نے ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو پراسیکیوٹر مقرر کرتے ہوئے فرد جرم کے لیے 11 مئی کی تاریخ مقرر کردی۔ یاد رہے کہ 18 اپریل کو قصور میں عدلیہ مخالف ریلی میں(ن) لیگ کے رکن قومی اسمبلی وسیم اختر شیخ اور رکن پنجاب اسمبلی نعیم صفدر انصاری بھی شریک تھے جنہوں نے شرکا کے ساتھ مل کر عدلیہ کے خلاف غیر مہذب زبان استعمال کی۔میڈیا پر عدلیہ مخالف ریلی کی خبریں نشر ہونے کے بعد پولیس نے چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران مسلم لیگ (ن) کے ضلعی نائب صدر جمیل احمد خان سمیت متعدد کو حراست میں لے لیا تھا۔
آئٹم نمبر ——50———- 9 مئی 2018ئ
رمضان ٹرانسمیشن اور مارننگ شوز کے حوالے سے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کے معاملے پر فیصلہ محفوظ
رمضان میں دھمال نہیں چلے گی،عامرلیاقت، ساحرلودھی، فہدمصطفی، وسیم بادامی باز نہ آئے تو پابندی لگا دیں گے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ریمارکس
اسلام آباد(اے این این ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے رمضان ٹرانسمیشن اور مارننگ شوز کے حوالے سے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کرلیا،عدالت کی جانب سے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے خبر دار کیا گیا کہ میزبان ڈاکٹر عامر لیاقت، ساحر لودھی، فہد مصطفی اور وسیم بادامی باز نہ آئے تو تاحیات پابندی لگا دیں گے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے رمضان ٹرانسمیشن اور مارننگ شوز کے حوالے سے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد سے متعلق شہری وقاص ملک کی درخواست پر سماعت کی، اس دوران پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن (پی بی اے) پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی(پیمرا)، پاک سیٹ کے نمائندے اور درخواست گزار پیش ہوئے۔کیس کی سماعت کے دوران عدالت کے طلب کرنے پر پیمرا کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ پاکستان کے کل 117 چینلز میں 3 چینلز اذان نشر کررہے ہیں۔اس دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ رمضان المبارک کے دوران سحر اور افطار ٹرانسمیشن میں اچھل کود اور دھمال نہیں چلنے دیں گے، اچھل کود کا کلچر ڈاکٹر عامر لیاقت نے متعارف کرایا، باقی سب شاگرد ہیں۔اس موقع پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے خبردار کیا کہ ڈاکٹر عامر لیاقت، ساحر لودھی، فہد مصطفی اور وسیم بادامی باز نہ آئے تو تاحیات پابندی لگا دیں گے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ کرکٹ میچ پر تجزیہ کرانے کے لیے بیرون ملک سے ایکسپرٹ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں لیکن اسلامی موضوعات پر بات کرنے کے لیے کرکٹرز اور اداکاروں کو بیٹھا دیا جاتا ہے۔دوران سماعت عدالت نے ہدایت دی کہ مارننگ شوز اور رمضان ٹرانسمیشن میں اسلامی موضوعات پر پی ایچ ڈی اسکالر سے کم کوئی بات نہیں کرے گا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس نے کہا کہ عجیب تماشا لگا ہے، حمد، نعت اور تلاوت، سب موسیقی کے ساتھ چل رہے ہیں، مغرب کی اذان کے 5 منٹ پہلے اشتہار نہیں بلکہ درود شریف یا قصیدہ بردہ شریف نشر کی جائے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان ٹیلی ویژن(پی ٹی وی) کے 8 چینلز کو الگ سے ہدایات جاری کریں گے۔کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ پاکستان میں بھارتی چینلز کون چلا رہا ہے؟ اس حوالے سے رپورٹ پیش کی جائے، جو بھارت سے دوستی کی بات کرے اسے سیکیورٹی رسک قرار دیا جاتا ہے۔اس پر ڈی جی آپریشنز پیمرا نے بتایا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے چینلز کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے، جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ اداروں کے خلاف بات سنسر ہوتی ہے تو دین کے خلاف کیوں نہیں ہوسکتی۔سماعت کے دوران وکیل پی بی اے نے کہا کہ پی بی اے چینلز، پیمرا، آئین اور ضابطہ اخلاق کے تحت چل رہے ہیں، عدالت کوئی عام حکم جاری نہ کرے بلکہ پیمرا کو ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کے لیے ہدایات جاری کرے۔اس پر جسٹس شوکت عزیز صدیق نے ریمارکس دیئے کہ میں کوئی ایسا حکم نہیں کرتا جس پر عملدرآمد نہ کراسکوں، بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔خیال رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران پیمرا کی جانب سے رمضان ٹرانمیشن کے حوالے سے مرتب کی گئی گائیڈ لائن پیش کی گئی تھی۔پیمرا کی گائیڈ لائنس پر عدالت نے ریمارکس دیئے تھے کہ رمضان میں کسی چینل پر کوئی نیلام گھر اور سرکس نہیں ہوگا۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے تھے کہ رمضان ٹرانسمیشن میں سرکس لگتے رہے تو پابندی لگا دیں گے، کوئی چینل رمضان المبارک میں اذان نشر نہیں کرتا لیکن اذان کے اوقات میں چینلز ناچ گانا اور اشتہارات چلاتے ہیں، پی ٹی وی نے بھی اذان نشر کرنا بند کردی ہے، ایسے ہی چلنا ہے تو پاکستان کے نام سے اسلامی جمہوریہ ہٹا دیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی عدالت نے کہا کہ بتایا جائے پاکستان میں انڈین چینلز کو کون آپریٹ کر رہا ہے اس کی تفصیلات بتائی جائیں ۔عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »