Daily Taqat

ہرکوئی اپناکام کرے،عدالتوں کا کام حکومت چلانا اورمیراکام عدالتیں چلانا نہیں، وزیراعظم

نارووال/پسرور :  وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہر کوئی اپنا کام کرے،عدالتوں کا کام حکومت چلانا اور میرا کام عدالتیں چلانا نہیں ہے ،ملک عدالتی فیصلوں سے نہیں جمہوریت سے ترقی کرتا ہے،کچھ لوگ چاہتے ہیں  الیکشن نہ ہوں ،انتخابات سے گھبرانے والے اپنا کام کریں ،الیکشن 25جولائی سے پہلے ہوں گے،تاخیر ہوئی تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور عوام میں جائیں گے، ہمارا مقابلہ ان لوگوں سے جن کی کوئی کارکردگی نہیں ،جوخود کچھ نہیں کرسکتے وہ الزام لگا رہے ہیں۔ہفتہ کو نارووال میں موٹروے لنک ہائی وے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نوازشریف الیکشن نہیں لڑرہے لیکن ہرپاکستانی جانتا ہے کہ ووٹ نوازشریف کا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقابلہ ان لوگوں سے جن کی کوئی کارکردگی نہیں ہے۔جوخود کچھ نہیں کرسکتے وہ الزام لگا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ہوکام وہ کرے جس سے ملک کی ترقی ہو انتشار نہ پھیلے۔۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سب جانتے ہیں کس جماعت نے ملک کی ترقی کی ہے۔۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک عدالتی فیصلوں سے ترقی نہیں کرتا۔میں نے ہمیشہ کہا کہ ملک کوچلنے دیں۔ جمہوریت کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ملک اس وقت ہی ترقی کرے گا جب جمہوریت ہوگی۔ یہ سلسلہ جاری رہا،سیاست آگے چلتی رہی عوام نے صحیح فیصلہ کیا توملک اورترقی کرے گا۔ ہماری حکومت آئی تو3 فیصد گروتھ تھی آج 6 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح ے فیصلے آرہے ہیں کہ کوئی بھی افسر کام کرنے کوتیار نہیں ہے۔ہم نے کبھی عدالتی فیصلوں کوچیلنج نہیں کیا۔ کوئی شبہ نہیں کہ انتشارنہ ہوتا تو ہم بہت زیادہ ترقی کے قابل ہوتے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آپ وہ کام مت کریں جس سے ملک اندھیروں میں جائے۔۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک میں الیکشن 25جولائی سے پہلے ہوں گے،30 جولائی تک الیکشن نہ ہوئے تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور اور عوام کے پاس جائیں گے۔بہت سے لوگوں کی خواہش ہے کہ الیکشن نہ ہوں یہ لوگ سیاسی میدان میں مقابلے سے خوفزدہ ہیں ،الیکشن سے خوف زدہ اور بھاگنے والے لوگ اپنے کام پر توجہ دیں ۔جولائی کے الیکشن میں مسلم لیگ ن پہلے سے زیادہ سیٹیں لے کرکامیاب ہوگی۔انہوں نے کہا کہ عوام کا فیصلہ سب دیکھ لیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک عدالتوں کے فیصلوں اور نیب کے الٹے سیدھے کاموں سے ترقی نہیں کرتا، ملک میں ایسے ایسے فیصلے آتے ہیں نیب کی کارروائیں ہوتی ہیں کہ کوئی سرکاری افسر کام کرنے کو تیار نہیں، اس کے اثرات ملک پر پڑتے ہیں، تاریخ عدالتوں کے فیصلے پر نظر ثانی کرتی ہے، حکومت مینڈیٹ کے مطابق آخری وقت تک کام کرے گی۔قبل ازیں پسرور میں سیالکوٹ روڈ کو دو رویہ کرنے کے لیے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ زاہد حامد کوہرمشکل وقت میں حکومت نے جو ذمہ داری سونپی وہ انہوں نے احسن طریق سے انجام دی اورکسی بھی سنجیدہ مسئلے پرانہی سے مشاورت کی گئی اور انہوں نے کبھی اس کام کو سرانجام دینے سے انکار نہیں کیا، پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کی طرف سے بنائے گئے بل میں بھی ایک غلطی پر جو کہ زاہد حامد کی نہیں تھی تاہم انہوں نے اخلاقی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے وزارت سے استعفی دے دیا یہی سیاست اورشرافت کی سیاست کا معیار ہے ، ان کے اوپر کوئی دباﺅ نہیں تھا، انہوں نے خود رضارکارانہ طور پر استعفی دینے کی پیش کش کی یہ خدمت کی سیاست کا معیار ہے اور اس پر ان کے حلقے کے لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے ایسا نمائندہ منتخب کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ جس ملک میں سیاستدان کی عزت نہیں ہوگی وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا جتنی عزت کسی جج ، جرنیل کی ہے اتنی ہی سیاست دان کی بھی ہونی چاہیے ، ملک کے معاملات اورمسائل کا حل بالآخر سیاستدانوں کے ذریعہ ہی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں بیٹھے خواجہ محمد آصف، زاہد حامد ، افتخارالحسن شاہ اور دیگر سیاستدانوں کو کون نہیں جانتا، خواجہ آصف نے 30سال ملک کی خدمت کی ہے اور ایک اقامہ جو کہ صرف ایک ویزہ ہوتا ہے جس میں انہوں نے ٹیکس بھی ظاہرکئے اس پر انہیں نااہل کردیا گیا یہ فیصلے کیا ملک کے حق میں ہیں ہم نے یہ فیصلے قبول کئے ، سرآنکھوں پررکھے لیکن نہ تاریخ ان فیصلوں کو قبول کرے گی اور نہ ہی پاکستان کے عوام قبول کرتے ہیں، یہی سیاستدان ہر پانچ سال بعد عوام کے احتساب کے عمل سے گزرتے ہیں، صرف سیاستدانوں کا ہی احتساب ہوتا ہے باقی کسی کا نہیں ہوتا، آج کون سی بات ایسی ہے جو اخبارات یا ٹی وی کی زینت نہیں بننی چاہئے اس میں صداقت ہو یا نہ ہولیکن سیاستدان یہ برداشت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتی جب تک ووٹ اورسیاستدان کو عزت نہیں دی جاتی، ووٹرکی جانب سے بیلٹ سے کئے گئے فیصلے کو عزت دی جانی چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیالکوٹ پسرور روڈ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کا وژن تھا وہ منصوبہ بندی کے دوران خود بتا دیتے تھے کہ اس علاقہ میں روڈ یا سکول یا دیگرسہولیات ہونی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی محنت کے پورے پنجاب میں ثبوت موجود ہیں، ہم دیگر صوبوں میں جاتے ہیں تو وہاں کے لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ کاش ہمارے پاس بھی شہباز شریف جیسا وزیراعلی ہوتا، دیگرصوبوں کے پاس بھی وسائل موجود ہیںتاہم لگن اورمحنت کی بات ہے۔ انہوںنے کہا کہ مجھے وزارت عظمی سنبھالے 8ماہ ہوچکے ہیں، ہر ہفتے اربوں روپے کے منصوبوں کا افتتاح ہورہا ہے، یہ ہمارے دور میں ہی شروع کئے گئے اور اسی دورمیں ہی مکمل ہوئے، ہم نے ایسے منصوبے بھی مکمل کئے جو 20، 20سال سے نامکمل تھے ، کئی نئے منصوبے بھی جاری ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ موٹروے سے اس علاقے کی تقدیر بدل جائے گی یہ منصوبہ ماضی میں بھی بن سکتا تھا ، جنرل مشرف اور زرداری کے پاس فنڈز کی کمی نہیں تھی۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا مشرف اور زرداری کے پاس یہ وسائل نہیں تھے؟ ،اسی پیک پہلے نہیں شروع ہوسکتا تھا، ان کے پاس بھی یہی وسائل تھے لیکن تمام منصوبے ن لیگ نے شروع کیے۔ہمیں بے پناہ مشکلات تھیں لیکن کیا وجہ ہے کہ تمام منصوبے(ن) لیگ نے شروع کیے، ہم نے اپنی نہیں عوام کی جیبیں بھریں،باقی اپنی جیبیں بھرتے رہے ہیں ،تقریریں کرنے والوں کو بھی کہتا ہوں آپ کو بھی عوام نے پانچ سال دئیے تھے کام کر کے دکھاتے۔ تقریریں کرنے والوں نے 5 سال گزرنے کے بعد 11 نکات پیش کردیے ۔شاہپد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان میں اگرکسی جماعت نے کام کرکے دکھایا ہے تو وہ مسلم لیگ(ن)ہے ، کسی لیڈر کے پاس عوام کے مسائل کے حل کا درد ، سوچ اور وژن ہے تو وہ لیڈر صرف نواز شریف ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے کوئی نکات نہیں دیئے بلکہ ہم نے موقع پرکام کرکے دکھائے، پانچ سال گزرنے کے بعد ان لوگوں کو یہ نکات یاد آئے ، آج کسی صوبے میںچلے جائیں وہاں پرکام پر صرف مسلم لیگ(ن) کے ہی نظر آئیں گے، مسلم لیگ(ن) ملک کا درد رکھتی ہے ، وسائل آج بھی پہلے جتنے ہی ہیں تاہم ایک سوچ تھی جس کی بنیاد پر یہ حکومت تعمیروترقی کا سفرجاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ہم اقتدار میں آئے تو اس وقت شرح نمو تین فیصد تھی جو اب بڑھ کر6فیصد ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرعوام نے آئندہ عام انتخابات میں بہتر فیصلہ کیا تو مسلم لیگ(ن) مسائل اسی طرح حل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ عوام کا فیصلہ بہتر ہوگا، فیصلے کا اختیارعوام کے پاس ہی ہوتا ہے کسی اورکے پاس فیصلے کا اختیارنہیں ہوسکتا یہ آئین اورقانون میں بھی واضح ہے، عوام کے منتخب نمائندوں کو پانچ سال حکومت کرنے کا اختیار ہونا چاہئے۔، موجودہ پانچ سال میں ہرحکومت کے پاس کسی نہ کسی صوبے میں اختیار تھا تاہم کام صرف مسلم لیگ(ن) اور نواز شریف نے کرکے دکھائے، ملک کی خودمختاری اورترقی کے کام عوام کے سامنے ہیں، مسلم لیگ(ن) کو کسی نکات کی ضرورت نہیںوہ اپنے ریکارڈپر کھڑی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ نہ صرف پسرور بلکہ پورے پاکستان کا باشعور ووٹر یہ سمجھتا ہے کہ کون دعوے کرتا ہے اورکون عوام کی خدمت کرتا ہے۔ مجھے مسلم لیگ(ن) کے ووٹر زاور سپورٹرز پرپورا یقین ہے کہ وہ پہلے سے بڑھ کر مسلم لیگ(ن) کو کامیاب کریں گے۔ اس حلقہ سے بھی مسلم لیگ(ن) ہی کامیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عوام بہتر فیصلہ کریں گے تو ترقی کا سفر جاری رہے گا ، گالم گلوچ کیلئے دوسری جماعتیں موجود ہیں۔ اس موقع پر خواجہ محمد آصف اور زاہد حامد نے بھی خطاب کیا۔قبل ازیں وزیراعظم کو کیڈٹ کالج پسرور کے کیڈٹس نے گارڈ آف آنر پیش کیا جبکہ انہیں سیالکوٹ پسرور منصوبے پر بریفنگ بھی دی گئی۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »