سی پیک کے مشرقی اورمغربی روٹس پربھرپورکام ہورہا ہے، آفتاب احمد

اسلام آباد :  سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ سی پیک کے مشرقی اور مغربی روٹس پر بھرپور کام ہو رہا ہے، کسی منصوبے کو ڈراپ نہیں کیا گیا جو منصوبے بن چکے وہ پایہ تکمیل کو پہنچیں گے، ملک کے ہر صوبے میں سڑکیں بن رہی ہیں، حکومت نے ساڑھے چار سالوں میں بڑی تیز رفتاری سے کام کیا ہے،پاکستان میں کوئلے کے منصوبوں میں دنیا کی سب سے بہترین ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے تاکہ کوئلے کے استعمال کے ماحولیاتی اثرات کو کم سے کم کیا جائے۔ پاکستان میں سی پیک کے تحت کوئی سیکنڈ ہینڈ کوئلے کا پلانٹ نہیں لگ رہا، امریکہ میں 30 فیصد، بھارت میں 40 سے 50 فیصد کوئلے کا استعمال بجلی کےلئے ہے، پاکستان کے پاس کوئلے کے ذخائر ہیں، سی پیک کی بدولت تھر میں کوئلے کے ذخائر سے فائدہ اٹھایا جائےگا، حکومت منصوبے کے تحت ہائیڈل، ایل این جی، کوئلے اور قابل تجدید توانائی کے وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے، توانائی کا ہر منصوبہ ماحولیاتی اثرات کو مدنظر رکھ کر شروع کیا گیا ہے۔پیر کو سینیٹ کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا ہے کہ سی پیک کے مشرقی اور مغربی روٹس پر بھرپور کام ہو رہا ہے، کسی منصوبے کو ڈراپ نہیں کیا گیا جو منصوبے بن چکے وہ پایہ تکمیل کو پہنچیں گے، ملک کے ہر صوبے میں سڑکیں بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ساڑھے چار سالوں میں بڑی تیز رفتاری سے کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کا انحصار مواصلات کے نظام پر ہے۔ محمد نواز شریف نے لاہور اسلام آباد موٹر وے منصوبہ شروع کیا جسے 1997ءاور 2013ءکے بعد توسیع دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پشاور سے ایبٹ آباد تک 3 سے ساڑھے تین گھنٹے لگتے تھے، اب سوا دو گھنٹے لگتے ہیں۔ حکومت نے شاہرات کی تعمیر پر توجہ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت مشرقی اور مغربی روٹ پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی صوبہ سی پیک کے ثمرات سے محروم نہیں رہے گا۔ سارے صوبوں کی ترقی سے ہی پاکستان کی ترقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور کے پی کے کو بھی اس سے فائدہ ہوگا۔ 13 ہزار کلو میٹر سڑکیں پاکستان میں بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدر آباد کراچی موٹر وے عالمی معیار کے مطابق ہے۔ اس کا اچھی طرح معائنہ کیا گیا ہے۔ لیبارٹریوں میں اس کی ٹیسٹنگ کی گئی ہے۔ ٹول پلازوں کی آمدن کو سڑکوں کی مرمت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم نے ساڑھے چار سالہ دور میں تیز رفتاری سے کام کیا ہے جس طرف بھی چلے جائیں کام ہو رہا ہے۔ سندھ اور کے پی کے اور بلوچستان اور پنجاب میں بھی ہر طرف سڑکیں بن رہی ہیں۔ کسی منصوبے کو ڈراپ نہیں کیا جا رہا جو منصوبے بن چکے ہیں وہ پائیہ تکمیل کو پہنچیں گے۔ قبل ازیں ملک میں موٹر ویز اور این ایچ اے کے جاری منصوبوں کے خصوصی حوالے سے این ایچ اے کی کارکردگی کو زیر بحث لانے کی اپنی تحریک پر بحث سمیٹتے ہوئے سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ سی پیک کے ایک بڑے منصوبہ پر عمل ہو رہا ہے جس سے معاشی خوشحالی آئے گی۔ گوادر کی طرف کوئی موٹر وے نہیں ہے، اگرچہ سڑکیں بنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بندرگاہ آپریشن پونے سے سڑکوںپر ٹریفک کا دباﺅ بڑھ جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ 2007ءکے مقابلے میں سڑکوںپر گاڑیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس لئے ان حالات کے تناظر میں ہمیں موٹر ویز کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے اور قریبی شہروں سے ان کا رابطہ بحال ہونا چاہئے تاکہ اس سے ایک وسیع علاقے کے عوام کو فائدہ پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ این ایچ اے وفاقی ادارہ ہے اور پورے پاکستان پر فوکس کریں۔ انہوں نے موٹر ویز اور ہائی ویز کے معیار کو بہتر بنانے اور ان موٹر ویز کو توسیع دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ معاشی خوشحالی اس کے بغیر ممکن نہیں۔ سینیٹر سعید الحسن مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سڑکوں اور موٹر ویز کا معیار وہ نہیں ہے جو پنجاب میں ہے۔ ژوب اور ڈی آئی خان کے درمیان سڑک کا معیار چیک کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویسٹرن روٹ میں ایک اہم شاہراہ کو ختم کیا گیا ہے جس سے چھوٹے صوبوں میں اہم پیغام نہیں جائے گا۔ بلوچستان پہلے سے احساس محرومی میں مبتلا ہے۔ انہوں نے وژن 2025ءسے متعلق معلومات ایوان میں پیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ سینیٹر مختار احمد دھامرا نے کہا کہ حیدر آباد کراچی شاہراہ کو موٹر وے کا نام دیا جاتا ہے حالانکہ وہاں پر وہ سہولیات نہیں ہیں جو پشاور ۔ لاہور موٹر وے پر ہیں۔ اس کے علاوہ سی پیک مکمل ہونے سے سڑکوں پر ٹریفک میں اضافہ ہوگا۔ اس لئے وژن 2025ءمیں ایک نئی شاہراہ کا منصوبہ رکھنا چاہئے۔ اس کے علاوہ این ایچ اے نے محصول ڈبل کر دیا ہے۔ یہ پیسے متعلقہ صوبوں میں سڑکوںپر لگائے جائیں۔ کراچی ۔ حیدر آباد سڑک موٹر وے نہیں ہے اس لئے حکومت مستقبل کےلئے مناسب منصوبہ بندی کرے۔ وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اﷲ خان نے سینیٹ کو بتایا کہ کہا ہے کہ پاکستان میں کوئلے کے منصوبوں میں دنیا کی سب سے بہترین ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے تاکہ کوئلے کے استعمال کے ماحولیاتی اثرات کو کم سے کم کیا جائے۔ سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس سے ماحول اور انسانی آبادی کو خطرہ ہے۔ ونڈ اور دیگر متبادل ذرائع پر توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں کوئلے کے یہ پلانٹس پریشان کن صورتحال پیدا کر سکتے ہیں۔ ہمیں متبادل کی طرف جانا چاہئے۔ چین اپنے کوئلے کو یہاں استعمال کرے گا جس سے ہمیں مسائل کا سامنا ہوگا۔ سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ کوئلے کے پاور پلانٹس کے لئے وافر پانی کی ضرورت ہے جبکہ ہمارے پاس پانی پہلے ہی نہیں ہے اور فضلہ کہاں جائے گا اس پر سوچنا چاہئے۔ سینیٹر مشاہد اﷲ خان نے کہا کہ یہ انتہائی اہم تحریک ہے، ماحولیاتی تباہ کاریوں کی بڑی وجہ کوئلہ کا استعمال ہے۔ پاکستان میں اس کا زیادہ استعمال نہیں ہے لیکن تباہ کاریاں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت 40 فیصد، چین 60 فیصد کوئلہ کا استعمال کر رہا ہے۔ گلیشیئرز پگھل رہے ہیں۔ چین نے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔ پھر بھی اس کے اثرات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس حوالے سے کریٹیکل سپر ٹیکنالوجی اور الٹرا ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے جس سے اس کی تباہ کاری کم ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کوئلے کے جو پراجیکٹ ہیں وہاں دنیا کی سب سے بہترین ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔ ماحولیاتی اثرات ہر شعبہ ہائے زندگی پر پڑ رہے ہیں اور متعلقہ صوبے اور وزارتیں اس معاملے کو دیکھ رہی ہیں۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں سی پیک کے تحت کوئی سیکنڈ ہینڈ کوئلے کا پلانٹ نہیں لگ رہا۔ کوئلے کے منصوبے جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ہیں، دنیا اس کا اعتراف کرتی ہے۔ دنیا بھر میں آج بھی کوئلے کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکہ میں 30 فیصد، بھارت میں 40 سے 50 فیصد کوئلے کا استعمال بجلی کے لئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس کوئلے کے ذخائر ہیں۔ سی پیک کی بدولت تھر میں کوئلے کے ذخائر سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت منصوبے کے تحت ہائیڈل، ایل این جی، کوئلے اور قابل تجدید توانائی کے وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے۔ توانائی کا ہر منصوبہ ماحولیاتی اثرات کو مدنظر رکھ کر شروع کیا گیا ہے۔اجلاس کے دوران مختلف قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس بھی کی گئیںسینیٹر نسرین جلیل نے آڈیٹر جنرل کے فرائض، اختیارات اور ملازمت کے شرائط و ضوابط (ترمیمی) بل 2017ءپر کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ سینیٹر ہدایت اﷲ نے قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کی طرف سے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد (ترمیمی) بل 2017ءپر کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ سینیٹر ہدایت اﷲ نے قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کی طرف سے وفاقی دارالحکومت میں سرکاری محکموں میں کام کرنے والی بی پی ایس 17 اور اس سے اوپر کی خواتین کی تعداد بمع صوبہ وار اور ضلع وار تفصیلات سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف سنیٹر محمد جاوید عباسی نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں مزید ترمیم کرنے کا بل دستور (ترمیمی) بل 2017ءپر کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔ سینیٹر نہال ہاشمی نے سنیٹ کے قواعد ضابطہ کار و انصرام کارروائی 2012ءکے قاعدہ 193 کے تحت اگست 2017ءسے نومبر 2017ءتک کے عرصہ کے لئے کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔ سینیٹر سعید مندوخیل نے صنعتی تعلقات ایکٹ 2012ءمیں مزید ترمیم کرنے کا بل صنعتی تعلقات (ترمیمی) بل 2017ءپر کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔ سینیٹر ساجد حسین طوری نے کچلاک۔ ژوب اور سرانان چمن ہائی وے پر موٹر وے پولیس کے افراد کی تعیناتی کے لئے منظوری نہ دینے کے کیس سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاع سینیٹر مشاہد حسین سید نے سینیٹر فرحت اﷲ بابر کی جانب سے اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے حامل نکتے جو ملٹری لینڈ اور کنٹونمنٹ سروسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کو ایکس کیڈر افسر کی تعیناتی سے متعلق ہے جس کی وجہ سے مذکورہ سروس گروپ کے ریگولر کیڈر افسران کو محکمے کا سربراہ بننے کا کبھی موقع نہیں ملے گا، سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر عبدالرحمان ملک نے بلوچستان میں سینیٹر روبینہ عرفان کے گھر میں ڈکیتی کے واقعہ اور بلوچستان پولیس کی جانب سے مجرموں کو جانتے ہوئے کیس کو مس ہینڈل کرنے سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔ معاشرے کے کمزور طبقات پر خصوصی کمیٹی کے کنوینر سینیٹر نثار محمد نے معاشرے کے کمزور طبقات پر خصوصی کمیٹی کی آٹھویں عبوری رپورٹ پیش کی۔

 


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.