محکمہ داخلہ پنجاب نے کالعدم اور زیرنگرانی 71تنظیموں کی فہرست جاری کردی

لاہور: محکمہ داخلہ پنجاب نے کالعدم اور زیر نگرانی 71تنظیموں کی فہرست جاری کرتے ہوئے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ ایسی تنظیموں کی معاونت یا مالی امداد قابل سزا جرم ہے اس لئے
عطیات اور صدقات دیتے وقت اچھی طرح جانچ پڑتال اوراطمینان کریں ۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے کالعدم یازیر نگرانی تنظیموں کی جاری کردہ فہرست میں لشکر جھنگوی ، سپاہ محمد پاکستان ، جیش محمد ، لشکر طیبہ ،سپاہ صحابہ پاکستان ، تحریک جعفریہ پاکستان ، تحریک نفاذ شریعت محمد ، تحریک اسلامی ، القاعدہ ، ملت اسلامیہ پاکستان ، خدام الاسلام ، اسلام تحریک پاکستان ، جمعیت الانصار ، جماعت الفرقان ، حزب التحریر ، خیر الناس انٹرنیشنل ٹرسٹ ، بلوچستان لبریشن آرمی ، اسلامک سٹوڈنٹس موومنٹ آف پاکستان ، لشکر اسلامی ، انصار السلام ، حاجی نامدار گروپ ، تحریک طالبان پاکستان ، بلوچستان ریپبلکن آرمی ، بلوچستان لبریشن فرنٹ ، لشکر بلوچستان ، بلوچستان لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ ، بلوچستان مسلح دفاع تنظیم ، شیعہ طلبہ ایکشن کمیٹی گلگت ، مرکز سبیل آرگنائزیشن گلگت ، تنظیم نوجوانان اہل سنت گلگت ، پیپلز امن کمیٹی ( لیاری ) اہل سنت و الجماعت ، الحرمین فاﺅنڈیشن ، رابطہ ٹرسٹ ، انجمن امامیہ گلگت بلتستان ، مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن گلگت ، تنظیم اہل سنت و الجماعت گلگت ، بلوچستان بنیاد پرست آرمی ، تحریک نفاذ امن ، تحفظ حدود اللہ ، بلوچستان وجہ لبریشن آرمی ، بلوچ ریپبلکن پارٹی آزاد ، بلوچستان یونائیٹڈ آرمی ، اسلام مجاہدین ، جیش اسلام ، بلوچستان نیشنل لبریشن آرمی ،خانہ حکمت گلگت بلتستان گلگت ، تحریک طالبان سوات ، تحریک طالبان مہمند ، طارق گیدار گروپ ، عبداللہ اعظم بریگیڈ ، ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان ، اسلامک جہاد یونین ، 313بریگیڈ ، تحریک طالبان باجوڑ ، امربا المعروف ونہی عن المنکر ( حاجی نامدار گروپ ) ، بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن آزاد ، یونائیٹڈ بلوچ آرمی ، جیئے سندھ متحدہ محاذ ، داعش / آئی ایس آئی ایل/ آئی ایس /آئی ایس آئی ایس ، جماعت الاحرار ، لشکر جھنگوی العالمی ، انصار الحسین ، تریک آزادی جموں و کشمیر ، غلامان صحابہ ، معمار ٹرسٹ ، جماعت الدعوة ،فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن ، الاختر ٹرسٹ اور الرشید ٹرسٹ شامل ہیں ۔ محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ عطیات ، صدقات اور خیرات صرف فلاحی اداروں کا حق ہے انہیں دینے سے پہلے اچھی طرح اطمینان کر لیں کہ آپ کی یہ رقوم کہیں دہشت گردی میں ملوث ہاتھوں میں تو نہیں جا رہیں ۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ءاور اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل ایکٹ 1948ءکے تحت قرار دی گئی کالعدم یا زیر نگرانی تنظیموں کی کسی بھی قسم کی معاونت ، مالی امداد یا سہولیات فراہم کرنا قانوناً جرم ہے جس کی سزا 5سے 10سال تک قید ، 1کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں کی سزائیں ہو سکتی ہیں ،اس کے علاوہ مجرم کی ذاتی منقولہ جائیداد بحق سرکار ضبط بھی کی جا سکتی ہے ۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے امن مخالف کسی بھی سرگرمی کی اطلاع دینے کے لئے ٹال فری نمبر0800-11111بھی جاری کیا گیا ہے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.