Latest news

پنجاب کا شعبہ صحت میں اصلاحات کا آرڈیننس لے کر آئے ہیں : فردوس عاشق اعوان

لاہور : وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کوئی ہسپتال پرائیویٹائز نہیں کیا جا رہا، پنجاب کا شعبہ صحت میں اصلاحات کا آرڈیننس لے کر آئے ہیں، حکومت کے صحت کے شعبے میں عام آدمی کو تمام سہولتیں فراہم کرنا ترجیح ہے، پنجاب حکومت کی ایک سالہ کارکردگی عوام تک پہنچائی جائے گی،ہسپتالوں میں مشینوں کی خرابی کی صورت میں متعلقہ بورڈ فوری فیصلہ کرے گا،آج سے پہلے کبھی ہسپتالوں اور ڈاکٹرز کا آڈٹ پرفارمنس نہیں ہوا، اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

ہفتہ کو صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد اور صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ملک میں اصلاحات حکومت کے منشور میں شامل ہے، سماجی، معاشی اور تمام شعبوں میں اصلاحات لانا ترجیچ ہے، وزیراعظم کے ویژن کے مطابق پنجاب میں بھی مختلف اصلاحات کی گئی ہیں، پنجاب حکومت کی ایک سالہ کارکردگی عوام تک پہنچائی جائے گی، حکومت پنجاب عام آدمی کی بہتر ی کےلئے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کو پہلے سے ترقی دیں گے اور موجودہ حکومت ہر ممکن اقدامت اٹھائے گی، پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں بہترین ڈاکٹرز پیدا ہوئے ہیں، اس حکومت نے اکیڈمکس اور سروسز کو علیحدہ کر دیا ہے، اب ہر شخص اکاﺅنٹ ایبل ہو گا اب ڈاکٹر پابند ہو گا کہ کتنے مریض اور کس نوعیت کے مریضوں کا علاج فراہم کیا ہے اور ہسپتال کی انتظامیہ کے بارے میں بھی مریضوں سے رائے کے مطابق ان کی کارکردگی کی جانچ ہو گی۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی ہسپتال پرائیویٹائز نہیں کیا جا رہا، پنجاب کا شعبہ صحت میں اصلاحات کا آرڈیننس لے کر آئے ہیں، حکومت کے صحت کے شعبے میں عام آدمی کو تمام سہولتیں فراہم کرنا ترجیح ہے، اصلاحات کے تحت ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کارکردگی کو مانیٹر کیا جائے گا، اصلاحات کا مقصد عام آدمی کو سہولتیں فراہم کرنا ہے، شعبہ صحت میں اصلاحات کا ایک مقصد مریضوں کےلئے ڈاکٹروں کی دستیابی یقینی بنانا ہے، ہیلتھ ریفارمز آرڈیننس سے متعلق عوام میں ابہام پایا جاتا ہے، سیکرٹری ہیلتھ کے ایک بیڈ پر سالانہ 45لاکھ خرچہ آتا ہے، دنیا میں جہاں رقم خرچ ہوتی ہے اس کا پرفارمنس آڈٹ ہوتا ہے،ہسپتالوں میں مشینوں کی خرابی کی صورت میں متعلقہ بورڈ فوری فیصلہ کرے گا، ہماری ترجیح مریضوں کو اچھا علاج اور سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ گزشتہ ہفتہ وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے ٹویٹ میں کہا تھا کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت سرکاری ہسپتالوں کو نجی تحویل میں دے رہی ہے لیکن آج میں پھر سے کلیئر کرتی ہوں کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ مینجمنٹ کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہسپتال میں سالانہ ایک بیڈ پر 45 لاکھ خرچ ہوتا ہے لیکن اگر اس کا فائدہ مریض کو نہیں پہنچ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مینجمنٹ خراب ہے، حکومت پنجاب کے نئے ایکٹ کو سمجھنے کی ضرورت ہے، ٹیچنگ ہسپتالوں میں صرف طالب علموں کو تعلیم دی جاتی ہے کہ کیسے انہوں نے مریضوں کا خیال رکھنا ہے اور ہسپتالوں میں کیسے ڈیوٹی انجام دینی ہے، 2003کے ایکٹ میں بھی صرف محدود اختیارات ہسپتال کو ملے تھے، فنانس اور ایڈمنسٹریٹو معاملات کےلئے سیکرٹری صحت کے پاس جانا پڑتا تھا، موجودہ ایکٹ کے تحت ہسپتالوں کے نظام کی بہتری کےلئے باقاعدہ ایک کمیٹی بنائی جائے گی ، ایکٹ کے تحت تمام ٹیچنگ اسٹاک دیکھا جائے گا،94 ہزار افرا کو صحت انصاف کارڈ فراہم کئے جا چکے ہیں، جس کے تحت وہ سالانہ 7 لاکھ روپے تک کا علاج کرا سکیں گے، صحت کارڈ کے ذریعے 122 ہسپتالوں کے علاج کی سہولت دستیاب ہو گی، ہماری ترجیح مریضوں کو اچھا علاج اور سہولتیں فراہم کر نا ہے، آج سے پہلے کبھی ہسپتالوں اور ڈاکٹرز کا آڈٹ پرفارمنس نہیں ہوا، اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج ہے، پرچی کی کوئی فیس نہیں، ہسپتالوں میں جتنا پیسہ دیا جا رہا ہے اس کا بہترین مصرف چاہتے ہیں، ہسپتالوں کا نظام بہترین بنانے کےلئے اصلاحات لانے پر مجبور ہوئے، شعبہ صحت سے متعلق اصلاحات بہت پہلے ہونی چاہیے تھیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.