سیاستدانوں کی جوتا اورسیاہی پھینکنے کی مذمت’جمشید دستی’ نے حمایت کردی

اسلام آباد:  تمام سیاسی جماعتوں کے سیاستدانوں کی عوامی جلسوں میں سیاستدانوں پر جوتے پھینکنے اور سیاہی پھینکنے کی مذمت‘ عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید دستی کی جوتا پھینکنے اور سیاہی پھینکنے والوں کی حمایت‘ عوامی مسائل حل نہ ہوئے تو لاشیں گرنے کا انتظار کریں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی اہم اور مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے سیاستدانوں پر جوتا پھینکنے کی نئی روش کی شدید الفاظ میں مذمت جاری ہے جبکہ عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید دستی نے کہا ہے کہ جب سیاستدان عوامی مسائل حل نہیں کریں گے صرف اپنی حاضری جلسوں تک محدود رکھیں گے تو انہیں جوتے اور سیاہی نہیں بلکہ لاشیں گرنے کا انتظار کرنا چاہئے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پارلیمنٹ کے باہر ذرائع  سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ جمشید دستی نے کہا کہ لوگ کورٹ کچہری میں دھکے کھاتے پھر رہے ہیں اشرافیہ ملک کے وسائل ہڑپ کررہا ہے جبکہ مسائل حل کرنے کی بجائے انہیں بھاشن سنائے جاتے رہیں گے تو پھر ان کو جوتے اور سیاہی کی نہیں بلکہ لاشیں گرنے کی توقع رکھنی چاہئے جس میں جمشید دستی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ کورٹ کچہری ‘ تھانوں میں دھکے کھاتے پھر رہے ہیں لیکن ان کی کوئی سننے والا نہیں جس کی وجہ سے ان میں اپنی عزت نفس اور تذلیل کا غصہ ہے جس کا وہ اظہار کررہے ہیں میں تمام سیاسی قیادت کو انتباہ کرتا ہوں کہ وہ ملک کے مسائل حل کریں ورنہ ان کا انجام بھیانک ہوگا۔ لوگ تقریریں نہیں بلکہ اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں چہرہ رونمائی سے نہ انہیں روزگار ملے گا اور نہ ہی ان کے پیٹ بھریں گے اگر یہ کوشش نہ ہوئی تو پھر انہیں اپنے انتہائی انجام کیلئے تیار رہنا چاہئے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.