یمنی حوثیوں کازکوٰة کی عدم ادائیگی پرمفتیِ اعظم کے خلاف مقدمہ

صنعاء:  یمن کے حوثی باغیوں نے زکوٰة کی عدم ادائیگی کے الزام میں ملک کے مفتیِ اعظم اور سرکردہ عالم دین قاضی محمد اسماعیل العمرانی کو عدالت میں طلب کرلیا،حوثیوں کے ذرائع کے مطابق صنعاءمیں حکومت کی طرف سے علامہ العمرانی کی عدالت میں طلبی کیلئے ایک اشتہار جاری کیا گیا ہے۔
اس میں ملزم کا نام محمد اسماعیل العمرانی بتایا گیا ہے۔ ان پر زکوٰة ادا نہ کرنے کا الزام ہے اور انھیں عدالت میں پیش ہو کر اپنا موقف بیان کرنے کو کہا گیا ہے۔ اشتہار میں کہا گیا ہے کہ اگر ملزم عدالت میں پیش نہیں ہوتا تو اس کے خلاف اس کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلایا جائے گا۔حوثیوں کی طرف سے ممتاز مذہبی رہ نما کی توہین آمیز طلبی پر یمنی عوام نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر شہریوں نے حوثیوں کی نام نہاد عدالت کے اشتہار کو مفتی اعظم یمن کی کھلم کھلا توہین قرار دیا ہے۔ سماجی کارکنوں اور شہریوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ حوثی قاضی اسماعیل العمرانی کا زکوٰة ادا نہ کرنے پر ٹرائل نہیں کررہے بلکہ ان کے خلاف بغاوت کی حمایت نہ کرنے کی پاداش میں مقدمہ چلانے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔خیال رہے کہ یمن کے مفتی اعظم اسماعیل العمرانی کی عمر100 سال کے قریب ہے۔ وہ صنعاءمیں مقیم ہیں۔ انھیں گذشتہ برس اپریل میں حوثیوں نے مفتی کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی تھی۔ تاہم یمن کی آئینی حکومت کی طرف سے وہ بدستور اس منصب پر فائز ہیں۔ حوثیوں نے اپنے طورپر اپنے ہم مسلک زیدی شیعہ مبلغ شمس الدین محمد شرف الدین کو مفتی اعظم مقرر کردیا تھا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.