Latest news

جعلی بنک اکاوئنٹس کیس ،سابق صدر آصف علی زرداری کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

اسلام آباد:   احتساب عدالت نے جعلی بنک اکاوئنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا،نیب ٹیم نے سابق صدر کو احتساب عدالت سے سخت سیکیورٹی میں دوبارہ نیب راولپنڈی منتقل کر دیا،جج ارشد ملک نے ریمارکس دیے کہ میرے ذہن میں یہ بات ہے کہ نیب نے اس عدالت سے اجازت کیوں نہیں لی۔

ریفرنس اس عدالت میں چل رہا ہے تو نیب کو اس عدالت سے اجازت لینی چاہیے تھی۔منگل کو سابق صدرآصف زرداری کو احتساب عدالت میں پیشی کے لیے نیب راولپنڈی کے دفتر سے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کے روبرو پیش کیا گیا ۔

نیب نے آصف زرداری کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر دی ۔نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے عدالت کو بتایا کہ بنک حکام کی معاونت سے جعلی بینک اکا ونٹس کھولے گئے۔ملزم کو گرفتار کیا ہے تفتیش کے لئے ریمانڈ کی ضرورت ہے۔احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا زرداری کو کن بنیادوں پر گرفتار کیا ہے؟ پہلے یہ بتائیں۔سردار مظفر عباسی نے آصف زرداری کی گرفتاری کی بنیاد پڑھ کر سنائی۔نیب نے آصف علی زرداری کی گرفتاری کے لیے شواہد عدالت میں پیش کردیےاور کہا کہ انکی گرفتاری کے لیے 8 ٹھوس گراونڈز ہیں۔ بادی النظر میں آصف زرداری نے جعلی اکاونٹس میں ٹرانزیکشن کرکے غیرقانونی آمدن کو جائز کرنے کا منصوبہ بنایا۔

آصف زرداری نے فرنٹ مین اور بےنامی داروں کے ذریعے منی لانڈرنگ کی۔پراسیکیوٹر نیب کے پارک لین اور پرتھنون کمپنیوں کے ذکر پر فاروق ایچ نائیک نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارک لین کا آصف زرداری اور اس کیس میں کیا تعلق ہے؟۔سردار مظفر نے کہا کہ ایف آئی آر میں دونوں کا ذکر ہے، میں دستاویزات سے بتا دیتا ہوں کیا تعلق ہے،پیسے پارک لین کی فرنٹ کمپنی پارتھنون کو آتے رہے۔فاروق ایچ نائیک نے کہا شفاف تفتیش ہی شفاف ٹرائل ہوتا ہے،اس عدالت کو گمراہ نہ کیا جائے۔سردار مظفر نے کہا فاروق نائیک مجھ سے بہت سینئر ہیں اگر یہ پہلے بولنا چاہتے ہیں تو بول لیں۔آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے اپنے دلائل میں کہا کہ کیس کراچی کی عدالت سے اس عدالت کو منتقل ہوا،اس عدالت نے آصف زرداری کے مچلکے وصول کیے۔جب کیس اس عدالت میں ہے تو کیا چیئرمین نیب کے پاس اختیار ہے کہ وہ وارنٹ گرفتاری جاری کرے؟زرداری کے وکیل نے کہا چیئرمین نیب کے پاس انکوائری اور تفتیش کے دوران گرفتاری کا اختیار ہوتا ہے،اس کیس میں وہ وقت گزر چکا اب ریفرنس دائر ہو چکا ہے۔سپریم کورٹ نے نیب کو تفتیش کے لئے دو ماہ کا وقت دیا۔سپریم کورٹ سے ہمیں کوئی نوٹس جاری نہیں ہوا کہ سپریم کورٹ نے مدت میں توسیع کی ہے۔ہمیں تاحال وارنٹ گرفتاری اور گرفتاری کی وجوہات فراہم کی گئیں۔آصف زرداری کا پرتھنون کمپنی سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ وہ اس کے ڈائریکٹر ہیں۔

یہ چار ارب روپے کی بات کرتے ہیں میرے موکل پر ڈیڑھ کروڑ روپیہ ڈالا گیا۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ وہ گنے کی سپلائی کی رقم ہے اس کے دستاویزات ہائی کورٹ میں بھی جمع کرائیں۔ آصف زرداری کو گرفتار کر کے نیب نے اس عدالت کی توہین کی ہے۔اس کیس میں دیگر ملزمان کے مچلکے عدالت نے منظور کیے ان کے وارنٹ جاری نہیں کیے گئے۔آصف زرداری کے وکیل نے کہا یہ قانون کی خلاف ورزی ہے، قانون کہتا ہے کہ تمام ملزمان سے برابری کی بنیاد پر سلوک کیا جائے۔اس کیس کے مرکزی ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا، میرے موکل پر تو صرف ڈیڑھ کروڑ روپے کا الزام ہے۔

عدالت آصف زرداری کے ورانٹ گرفتاری کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کرنے کا حکم دے۔جج ارشد ملک نے نیب پراسیکیوٹر سے پوچھا جب ریفرنس دائر ہو گیا تو وارنٹ جاری کرتے وقت اس عدالت سے اجازت نہیں لینا ہو گی؟۔فاروق ایچ نائیک کمرہ عدالت میں جذباتی ہو گئے اور کہا کل مجھے ہائیکورٹ میں فوٹو کاپیاں کروانے بھیجا گیا، مجھے کہا گیا آپ نے جن مقدمات کے حوالے دیئے ان کی نقول فراہم کریں۔میں فوٹو کاپی کروا رہا تھا کہ پیچھے فیصلہ سنا دیا گیا،میں کہاں جا وں کس سے انصاف لوں؟۔جج ارشد ملک نے ریمارکس دیے کہ میرے ذہن میں یہ بات ہے کہ نیب نے اس عدالت سے اجازت کیوں نہیں لی۔ ریفرنس اس عدالت میں چل رہا ہے تو نیب کو اس عدالت سے اجازت لینی چاہیے تھی۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا بات یہ ہے کہ نیب نے اس عدالت کو اعتماد میں بھی نہیں لیا۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا نیب نے خود ہی گرفتار نہیں کیا بلکہ ہائیکورٹ نے ضمانت خارج کی تو گرفتار کیا گیا۔فاروق ایچ نائیک نے کہا پھر عدلیہ کی آزادی کہاں گئی؟اگر اس عدالت نے جوڈیشل کسٹڈی میں بھیجا ہو اور دوسرے کیس میں تحقیقات کرنی ہوں تو اس عدالت سے اجازت لینی ہوتی ہے۔جج ارشد ملک نے فاروق ایچ نائیک سے مخاطب ہو کر کہا میں آپ کے دلائل سے پہلے بھی اسی بات کو سوچ رہا تھا۔میں نے مچلکے منظور کیے تو معلوم کیا تھا کہ کیا وارنٹ جاری کیے ہیں؟فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تب انہوں نے مچلکے لینے کے عدالتی فیصلے کی مخالفت بھی نہیں کی۔نیب نے احتساب عدالت سے آصف زرداری کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد نیب کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد ازاں سناتے ہوئے جعلی بنک اکاوئنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔آصف زرداری نے نیب حوالات میں اضافی سہولیات کی درخواست دائر کر دی۔آصف زرداری نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ایک ذاتی خدمت گزار ساتھ رکھنے کی اجازت دی جائےاورمیڈیکل کی بھی تمام سہولیات مہیا کی جائیں۔آصف زرداری نے عدالت کے روبرو کہا کہ وہ شوگر کے مریض ہیں اور رات کو انکی شوگر لو ہو جاتی ہے، اٹینڈنٹ دیا جائے جو رات کو شوگر چیک کرے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا یہ ان کی زندگی کا مسئلہ ہے اور ہمارا اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں، اس عدالت کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔آصف زرداری نے کہا اٹینڈنٹ 24 گھنٹے انکے پاس بیٹھا نہیں رہے گا جب ضرورت ہو گی تو اس کو بلایا جائے گا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.