Daily Taqat

پنجاب میں ترقیاتی صوبوں کی بد عنوانی پر تحقیقات کی جائےگی:چودھری پرویز الٰہی

لاہور: سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ شہباز شریف کی نالائقی کی وجہ سے ٹےکس دہندہ کے پیسے کو برباد کیا گیا،اور ہمارے ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل تک نہ پہنچ پائے، ان کی حکومت میں تعلیمی شعبہ کا برا حال کر دیاگیا ، ہماری حکومت میں 40نئے کالجز اور ڈینٹل یونیورسٹی تیار ہو رہے تھے مگر شہباز شریف نے عوام دشمنی کا ثبوت دے کر ان کو بند کر دیا، ہسپتالوں کی تعمیرات کو روک کر مریضوں سے زیادتی کی گئی، ایوان کی سپیشل کمیٹی ان منصوبہ جات میں تاخیر کی وجوہات کو دیانتداری سے دیکھے گی عوام کا پیسہ برباد کرنے والوں پر ذمہ داری عائد کرے گی اور ایوان میں رپورٹ پیش کرے گی، تعصب کی نذر ہونے والے منصوبہ جات کا ازسر نو Estimateلگایا جائے گا اور اضافہ کے ذمہ داران سے ان کی لاگت وصول کی جائے گی، بطور وزیر اعلیٰ حکومت سنبھالی تو خزانہ خالی تھا، میں نے محنت کی اور عوام کے پیسے کی حفاظت کی، حکمران کی نیت اچھی ہو تو اللہ تعالی ٰ بھی مدد کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سپیکر نے اجلاس سے قبل اسمبلی احاطہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ تقریر کے دوران ہنگامہ کرنے والے چھ ارکان کی رکنیت معطل نہیں کی بلکہ رواں اجلاس میں ایوان میں داخلہ پر پابندی لگائی ۔ اپوزیشن کے باقی ارکان اسمبلی موج مستی کے لیے آتے ہیں پیسے وصول کرنے کے لیے حاضر ی بھی لگاتے ہیں، صرف ایوان میں آنا ان کو پسند نہیں۔ اپوزیشن کے غیر جمہوری اور غیر دانشمندانہ رویہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماں باپ تو بچوں کی اچھی تعلیم اچھی ٹریننگ کرتے ہیں مگر کوئی بچہ ہی بے اداب نکل آئے تو ماں باپ کا قصور نہیں ہے پھر بچوں کا ہی قصور ہوتا ہے کہ اگر وہ تہذیب کے دائرے میں رہیں گے تو ماں باپ کو فائدہ پہنچتا ہے اور بچے کو بھی ۔بہر حال کیونکہ یہ بچے ہیں ہمارے بھی بچوں کی طرح ہیں ہمارا فرض بنتا ہے کہ اپنے بچوں کو جو وہ غلط کر رہے ہیں اس کی نشاندہی کریں۔ایک سوال کیا گیا کہ ان بچوں کو معاف کرنے کا ارادہ ہے تو انہوں نے کہا کہ بچے جب تہذیب کے دائرے میں رہ کر گفتگو سیکھ جائیں گے توپھر انشااللہ دیکھیں گے ۔

اس سوال کے جواب میں کہ اپوزیشن کہتی ہے سپیکر نیشنل اسمبلی اسدقیصر کا رویہ اور ہے پرویز الٰہی صاحب کا رویہ اور ہے، چودھری پرویز الہٰی نے کہا کہ احتجاج اپوزیشن کا حق ہے۔ مگر نیشنل اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کا فرق دیکھیں کہ وہا ں اجلاس میں شور ضرور ہوا تھا لیکن کسی نے کسی کا گلا نہیں پکڑا تھا، نہ سپیکر اور اراکین اسمبلی کے خلاف غلیظ زبان استعمال کی گئی ۔

یہاں پر اپوزیشن نے سپیکر کے الیکشن کے بعد ہنگامہ کیا ۔ وزیر اعلیٰ کے الیکشن میں شور مچایا اور بجٹ تقریر کے دوران تو انتہا کر دی ، اراکین اسمبلی نے سپیکر کے خلاف گندی زبان استعمال کی۔ حمزہ شہباز کے ایماءپر چیئر پر حملہ آور ہوئے ۔ اسمبلی سٹاف کو گریبانوں سے پکڑا۔مائیک توڑ د یے اور فرنیچر اور دیگر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا ۔ سپیکر نے کہا کہ ایوان کو رولز کے مطابق چلانا اور ماحول کو درست رکھنا بطور سپیکر میری ذمہ داری ہے اور میں اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھوں گا۔

 

 


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »