سی آئی اے کااہلکارخفیہ معلومات اپنے پاس رکھنے کے الزام میں گرفتار

واشنگٹن: امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ایک سابق اہلکار کو غیرقانونی طور پر خفیہ معلومات اپنے پاس رکھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔جیری چن شنگ لی امریکی شہری ہیں اور امریکی محکمہ انصاف کے مطابق انھیں پیر کو نیویارک کے مرکزی ہوائی اڈے سے حراست میں لیا
گیا۔انھوں نے سی آئی اے کے لیے 1994 اور 2007 کے دوران کام کیا تھا اور اس کے بعد وہ ہانگ کانگ چلے گئے تھے۔رپورٹ کے مطابق  تفتیش سے وابستہ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بعض تفتیش کاروں کے مطابق جیری لی نے چین کے لیے مخبری کر کے جاسوسوں کے نام افشا کر دیے تھے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق جیری چن شنگ لی نے 1982 تا 86 امریکی فوج میں کام کیا۔ اس کے بعد انھوں نے 1994 میں سی آئی اے کے لیے کام کرنا شروع کر دیا۔ ان کا کام خفیہ مواصلات، بھرتی اور اثاثہ جات کی نگرانی تھا۔ انھیں ٹاپ سیکرٹ کلیئرنس دی گئی تھی۔انھوں نے 2007 میں سی آئی اے کی نوکری چھوڑ دی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ان کے ساتھیوں نے کہا کہ انھیں شکایت تھی کہ ان کا کریئر جمود کا شکار ہو گیا ہے۔ایف بی آئی اس بات کی چھان بین کر رہی ہے کہ کیسے اتنے مختصر عرصے میں چین کے اندر کام کرنے والے اتنے جاسوس اور مخبر پکڑے گئے۔محکم انصاف نے کہا ہے کہ ایف بی آئی کے اہلکاروں نے ہوائی اور ورجینیا میں لی کے ہوٹل کے کمروں سے دو کاپیاں برآمد کیں جن کے اندر خفیہ معلومات تھیں۔ان کے اندر ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹس تھے جن میں سی آئی اے کے خفیہ اہلکاروں کے نام اور فون نمبر درج تھے۔لی سے 2013 میں پانچ بار پوچھ گچھ کی گئی جس کے بعد وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔اب جب وہ امریکہ واپس آئے تو انھیں ہوائی اڈے سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔محکم انصاف کے مطابق 53 سالہ لی پر الزام ہے کہ انھوں نے قومی دفاع سے متعلق معلومات غیرقانونی طور پر اپنے پاس رکھیں، اور اگر ان پر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو انھیں دس برس قید کی سزا ہو سکتی ہے۔فی الحال ان پر امریکہ کے خلاف جاسوسی کا الزام نہیں لگایا گیا، جس کی سزا موت ہو سکتی ہے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق امریکہ نہیں چاہتا کہ خفیہ معلومات عدالت میں افشا ہوں۔واضح ر ہے کہ یہ معاملہ 2012 میں شروع ہونے والی امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کی ان تحقیقات سے منسلک ہے جس میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کس طرح چین کے اندر سی آئی اے کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی تھیں۔اس سے پہلے کے دو برسوں میں 20 کے قریب مخبر ہلاک کر دیے گئے تھے یا انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ یہ حالیہ برسوں میں امریکی انٹیلی جنس کی بدترین ناکامی ہے۔تاہم حکام کو فی الحال معلوم نہیں کہ آیا کسی نے اندر سے مخبری کی یا پھر خفیہ ڈیٹا ہیک ہوا ہے


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.