زنجیروں میں جکڑے 13بھوکے بچے بازیاب، میاں بیوی گرفتار

کیلیفورنیا: امریکا میں پولیس نے ایک گھر پر چھاپہ مار کر زنجیروں میں جکڑے 13بچوں کو بازیاب کرالیا جنہیں ان کے والدین نے بستروں سے باندھ رکھا تھا اور بھوکا پیاسا رکھتے تھے۔ رپورٹس کے مطابق اس گھریلو قید خانے سے ایک لڑکی فرار ہوکر قریبی تھانے پہنچی اور اس ظلم سے آگاہ کیا۔ پولیس نے کارروائی کرکے تمام بچوں کو رہا کروالیا جو شدید غذائی قلت کے شکار تھے رہا ہوتے ہی بچوں نے پولیس سے کچھ کھانے کو بھی مانگ لیا۔پولیس کے مطابق کچھ لڑکے جوان ہونے کے باوجود چھوٹے بچے ہی دکھائی دے رہے تھے کیونکہ سب شدید غذائی قلت کے شکار تھے۔ ان بچوں کی عمریں 2 برس سے 29 برس کے درمیان ہیں۔ 7بچوں کی عمریں 18سال سے زائد ہیں اور بقیہ چھوٹے بچے ہیں۔پولیس نے بچوں کے 57سالہ باپ ڈیوڈ ایلن ٹرپن اور49 سالہ ماں لوئزے اینا ٹرپن کو گرفتار کرلیا ہے۔ ان پر بچوں پر تشدد اور برے رویے کے الزامات ہیں۔ یہ خاندان سال 2011 میں دیوالیہ ہوگیا تھا اور 5 لاکھ ڈالر کا مقروض ہے والد انجنیئر ہیں۔ان بچوں کو فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا ۔

جبکہ ان کے کمروں سے شدید تعفن اٹھ رہا تھا۔ والدین اپنے بچوں کو بائبل پڑھنے کی ترغیب دیتے رہتے تھے اور ماں کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے کے لیے اسے خدا نے یہ حکم دیا تھا۔ تمام بچوں کو گھروں پر ہی تعلیم دی جارہی تھی جس میں مذہبی تعلیم کا عنصر زیادہ تھا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.