سی پیک منصوبوں میں چین کے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بینک اورحکومت بھی سرمایہ کاری کررہی ہے،نیشنل ہائی وے اتھارٹی

اسلام آباد :  نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کو بتایا ہے کہ سی پیک کے منصوبوں میں چین کے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور حکومت پاکستان بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے اسلام آباد سے ڈیرہ اسماعیل خان روڈ 2020 تک مکمل کرلی جائے گی ڈیرہ اسماعیل خان ڑوب روڈ کیلئے چین سے مالی مدد کیلئے درخواست کر دی ہے، وزارت منصوبہ بندی کے حکام نے بتایا کہ مغربی روٹ کو 2019 تک مکمل کر لیں گے،مشرقی اور مغربی روٹ پر کام تیزی سے جاری ہے انکو ایک ہی وقت مکمل کیا جائے گا ملتان سکھر موٹروے کو 2019 تک مکمل کر لیا جائے گا سی پیک کے تینوں روٹ فائنلائزہیں چائنہ کو حضدار بسیمہ کا منصوبہ بھی منظوری کے لیے بھیج دیا گیا ہے سی پیک کی سینٹرل الائمنٹ لانگ ٹرم پلان کا حصہ ہے گلگت شندور چترال شاہراہ کے شند ور سے چترال سیکشن کی سٹڈی کی جا رہی ہے ۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس گزشتہ روز چیئرمین عبدالمجید خان خانان خیل کی زیر صدارت منعقد ہوا ، اجلاس کی شروعات کورم پورا کیے بغیر کر دی گئی بعد ازاں ملک ابرار احمد ، عاصمہ ممد و ٹ ، جنید اکبر ، افتخار الدین و دیگر کے علا و ہ سی پیک کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر حسن داﺅ د بٹ ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور ایچ ای سی کے اعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی ، اجلاس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے بتایا گیا کہ سی پیک کے تحت گلگت شند ور چترال روڈ کے گلگت اور شند ور سیکشن کی سٹڈی مکمل جبکہ شند ور اور چترال کی سٹڈی کی جا رہی ہے سی پیک کے تینوں روٹ فائنلائز ہیں اور سینٹرل روٹ بھی لانگ ٹرم پلان کا حصہ ہے این ایچ اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سی پیک کے منصوبوں میں چین کے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور حکومت پاکستان بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے اسلام آباد سے ڈیرہ اسماعیل خان روڈ 2020 تک مکمل کرلی جائے گی ڈیرہ اسماعیل خان ڑوب روڈ کیلئے چین سے مالی مدد کیلئے درخواست کر دی ہے، وزارت منصوبہ بندی کے حکام نے بتایا کہ مغربی روٹ کو 2019 تک مکمل کر لیں گے،مشرقی اور مغربی روٹ پر کام تیزی سے جاری ہے انکو ایک ہی وقت مکمل کیا جائے گا، چیئرمین کمیٹی عبدالمجید خان نے کہاکہ کم ترقی یافتہ علاقوں میں صنعتی زون قائم کیے جائیں جہاں زمین سستی اور بے روزگاری ذیادہ ہے،سی پیک کے وہ روٹ پہلے بننے چاہیے ہیں جو کم ترقی یافتہ علاقوں میں سے گزرتے ہیں منصوبہ بندی کمیشن نے بتایا کہ میر پور ، منگلا ،مظفرآباد اور مانسہرہ شاہراہ منصوبے کی کاغذی کاروائی مکمل ہو گئی ہے، رکن کمیٹی افتخا ر الدین نے کہاکہ چترال میں روڈ کی خراب صورتحال کے باعث سیاحت کا فروغ نہیں ہو پا رہا ، این ایچ اے حکام نے بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے مالی تعاون سے انڈس ہائی وے کو مکمل دو رویہ بنانے کے منصوبے پر عملدرآمد جاری ہے گلگت سے شندور تک روڑ کا پی سی ون جون تک تیار ہونا متوقع ہے ، ایچ ای سی کی جانب سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ یونیورسٹی آف تھل کلر کوٹ کے قیام کے لیے ایچ ای سی نے 303ایکڑ اراضی کی نشاندہی کی ہے اور ڈرافٹ چارٹر بنا کر حکومت پنجا ب کو ارسال کر دیا ہے یہ یونیورسٹی وفاقی ترقیاتی فنڈ ز سے قائم کی جائے گی ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.