زینب قتل کیس کے ملزم کاریمانڈ ملنے کے بعدباقاعدہ تفتیش کا آغاز

لاہور : جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے ممبران قصور میں معصوم بچیوں کے ساتھ درندگی کرنے والے ملزم عمران کا خصوصی عدالت سے 14روزہ ریمانڈ ملنے کے بعدباقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا ۔ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق تفتیش کے عمل کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے تمام جدید سائنسی پہلووں کو مد نظر رکھا جا رہا ہے جبکہ قصور میں دیگر معصوم بچوں کے ساتھ ہونے والے وقوعہ جات کی معلومات حاصل کرتے ہوئے تمام کیسزکے مدعیان کو بھی شامل تفتیش کیا جا رہا ہے تاکہ ملزم کے طریقہ واردات اور تمام شواہد کو یکجا کرکے دیگر حقائق بھی بے نقاب کئے جا سکیں۔ترجمان کے مطابق جے آئی ٹی افسران نے جمعرات کے روز دو متاثرہ بچیوں کے لواحقین سے ملاقات کرکے معلومات حاصل کیں جبکہ زینب کے والد حاجی امین خرابی صحت کی وجہ سے جے آئی ٹی ممبران سے نہیں مل سکے جن کے ساتھ ملاقات بعد میں شیڈول کر لی گئی ہے۔ جے آئی ٹی نے نجی ٹی وی کے پروگرام اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کوبھی اپنے پروگرام میں بیان کردہ معلومات کے حوالے سے تمام شواہد ساتھ لے کر جے آئی ٹی ممبران سے ملاقات کیلئے بلوایا جا رہا ہے۔ مزید برآں جے آئی ٹی ممبران میں اضافہ کرتے ہوئے پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کے ڈی جی ڈاکٹر اشرف طاہر اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سینئر ممبر کو ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے جبکہ جے آئی ٹی نے گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ملزم عمران کے بینک اکا¶نٹس اورتمام ٹرانزیکشنز کی تفصیلات مہیا کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.