اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم کا شعبہ صوبوں کے پاس چلاگیا ہے ،وزیراعظم شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد: وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم کا شعبہ صوبوں کے پاس چلا گیا ہے۔یہ ترمیم ابھی ارتقائی مرحلے میں ہے اس لیئے تعلیمی
بہتری میں مزید وقت درکار ہوگا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں ایک ہی نظام تعلیم رائج ہو، لیکن یہ بہت ہی مشکل ٹاسک ہے مگر ہم کوشش کررہے ہیں کہ رجحان امتحان سے لیکر تعلیمی نظام تک ایک ہی قسم کا نظام ہو۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز وزیراعظم ہاﺅس میں سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے نیشنل لیڈرشپ پروگرام کے طالبعلموں اور فیکلٹی ارکان پر مشتمل وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفد کی قیادت وائس چانسلر سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی ڈاکٹر محمد علی شیخ کررہے تھے۔بانی پاکستان قائد اعظم سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آنے والے عام انتخابات میں نوجوانوں کو ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے تاکہ آنے والے پانچ سالوں تک ہمیں بھگتنانہ پڑے۔اصل طاقت عوام کے پاس ہے، یہ ملک صرف پارلیمانی نظام سے ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔ہمیں تمام صوبوں کے لوگوں کو ایک ساتھ لیکر آگے چلانا ہے تاکہ کسی کیساتھ بھی ناانصافی نہ ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ اسٹوڈنٹس یونین کے خاتمے سے نقصان ہوا ہے ۔اس سے تعلیمی اداروں کے اندر تشدد کی سیاست نے جنم لیا۔ابھی اس پر دوبارہ سوچنا ہوگا کہ طلباءسیاست کو بحال کی جائے یا نہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان مثبت سمت میں جارہا ہے تاہم اس میں ہمیں مزید بہتری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو ذمہ داری سے کام کرنا چاہیے اب حقیقت کو معلوم کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ایک تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ سارا نظام کرپٹ ہے مگر ایسا نہیں ہے اور اچھے لوگ بھی موجود ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت انرجی پر توجہ دے رہے ہیں، ہمارے پاس وافر مقدار میں کوئلہ موجود ہے اور حکومت ماحولیاتی آلودگی اور پانی کی کمی کودور کرنے کیلئے کوئلے سے پیداوار پر توجہ دے رہے ہیں، اس وقت بیس فیصد پیداوار کوئلے سے ہورہی ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ اس سے قبل دو حکومتوں نے اپنے پانچ سال مکمل کیئے ہیں ہمیں امید ہے کہ اس دفعہ بھی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔ اس اسمبلی میں ستر فیصد ایسے لوگ ہیں جو پہلی دفعہ پارلیمانی ممبر بنے ہیں، اس لیئے اس نظام کو بہتر ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔اس موقع پر سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ نے کہا کہ سندھ مدرستہ الاسلام نے جس طرح ماضی میںبانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح سمیت کئی لیڈڑز پیدا کئے ہیں، اسی سلسلے کو لے کر ہم سندھ مدرسہ یونیورسٹی کے نوجوانوں کو وزیراعظم ہاﺅس لے کر آئے ہیں تاکہ وہ اپنے لیڈرز سے ذاتی طور پر روشناس ہوسکیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ مدرستہ الاسلام کو یونیورسٹی بنے ہوئے چھ سال ہوئے ہیں اور ہم نے ابھی سے ہی لیڈرشپ پر توجہ دینا شروع کی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ نیشنل لیڈرشپ پروگرام کے تحت ایس ایم آئی یوکے طالبعلم وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کررہے ہیں اور اس ہاﺅس میں موجود ہیں۔اس موقعہ پر وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ نے وزیراعظم پاکستان کو سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کا دورہ کرنے بھی دعوت دی۔پروگرام کے آخر میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے طالبعلموں کے سوالات کے جوابات بھی دیئے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ نے وزریراعظم پاکستان کو یادگاری شیلڈ اوراپنی تحریر کردہ کتابیں بھی پیش کی۔سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے وفد نے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ کی سربراہی میں ایئر یونیورسٹی کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے وائس چانسلر ایئر وائس مارشل (رٹائرڈ) فائز عامر سے ملاقات کی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.