Daily Taqat

آبادی کے پیش نظرآغا خان اسپتال کی طرز کے مزید دس اسپتال بننے چاہئیں، وسیم اختر

کراچی : میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ اصل جمہوریت یہ ہے کہ منتخب نمائندے لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر چلیں اور ان کے مسائل کو حل کریں، کراچی کی آبادی کے پیش نظر آغا خان اسپتال کی طرز کے مزید دس اسپتال بننے چاہئیں اور موجودہ اسپتالوں میں شہریوں کو تمام طبی سہولیات ملنی چاہئیں ، کے ایم سی کے 13 بڑے اسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کے لئے فنڈز مل چکے ہیں ، ادویات کی فراہمی شفاف طریقے سے ہوگی اور میں خود اس عمل کی نگرانی کروں گا، ماضی میں اسپتالوں میں ادویات اور دیگر چیزوں میں خوردبرد ہوتی رہی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوسی26-،کے ایم سی مارکیٹ ،حقانی چوک میں بنائی گئی الشفاءڈسپنسری اورفری میڈیکل کیمپ کا افتتاح کرنے کے بعد ذرائع  سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر یوسی26- کے چیئرمین قیصر امتیاز، عادل بھائی، سینئرڈائریکٹر میڈیکل سروسز ڈاکٹر بیربل، منتخب نمائندے اور کے ایم سی کے افسران بھی موجود تھے۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد خوش آئند ہے جہاں شہریوں کو جدید مشینوں کے ذریعے مختلف نوعیت کے ٹیسٹوں سمیت ان کی بیماریوں کے علاج معالجے کے لئے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف موجود ہے جس سے شہریوں کو ایک ہی مقام پر جدید طبی سہولتیں میسر آتی ہیں، انہوں نے کہا کہ یوسی26- نے اپنی مدد آپ کے تحت ڈسپنسری کا قیام عمل میں لا کر ایک اچھا کام کیا ہے اور 20 روپے میں ڈاکٹرز اور ادویات کی فراہمی خدمت خلق کی ایک عمدہ مثال ہے، میئر کراچی نے ڈسپنسری کے لئے لیڈی ڈاکٹر کی فوری تعیناتی کے احکامات بھی جاری کئے تاکہ خواتین بھی اس ڈسپنسری سے استفادہ کرسکیں، میئر کراچی وسیم اختر نے بعدازاں محمد بن قاسم روڈ اور اطراف کی گلیوں میں ہونے والی استرکاری کا معائنہ کیا اور ہدایت کی کہ جہاں جہاں سڑکیں تعمیر کی جا رہی ہیں وہاں پہلے تجاوزات کو مکمل طور پر ختم کیا جائے ، سیوریج کی لائنوں کو درست کیا جائے اور یوٹیلیٹی کی لائنوں کی درستگی یا تبدیلی کی ضرورت ہو تو اس ادارے سے رابطہ کیا جائے تاکہ سڑک بننے کے بعد دوبارہ اسے کھودا نہ جاسکے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں میں شہر بھر میں سڑکوں اور گلیوں کا برا حال تھا ماضی میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے کاغذوں پر سڑکیں بنائی اور اربوں روپے کے فنڈز بھی کاغذوں میں ہی خرچ کئے گئے ، آج شہر کی گلیاں اور سڑکیں تباہ حالی کی صورت میں نظر آرہی ہیں، یہ اسی کا شاخسانہ ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی کو گزشتہ دس سالوں میں تباہ کیا گیا، پانی، سیوریج ، ٹرانسپورٹ اور صفائی ستھرائی کے لئے آج لوگ ترس رہے ہیں، ہم منتخب نمائندے ہیں اور ان مسائل کو حل کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے، عوام کا پیسہ صرف اور صرف عوامی منصوبوں میں لگا رہے ہیں، اپنے وسائل سے کراچی کے لوگوں کی خدمت کریں گے جس سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا اور جذبے اور لگن کے ساتھ شہریوں کی خدمت کرتے رہیں گے،انہوں نے کہا کہ اسی طرح کی سینکڑوں اسکیمیں شہر کے مختلف علاقوں میں جاری ہیں،محمد بن قاسم روڈ اور اطراف کی سڑکوں کابرا حال تھا سڑک کی تعمےر سے علاقے کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوگیا، وسائل کو جمع کرکے علاقوں میں ترقیاتی کام کروا رہے ہیں، اپنے لوگوں کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے، ناکافی وسائل اور محدود اختیارات کے باوجود ہم ترقیاتی کاموں کی رفتار کو تیز کررہے ہیں اور بنیادی کاموں پر توجہ مرکوز ہے، میئر کراچی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جلسہ کرنا سب کا حق ہے آفاق صاحب کا تعلق کراچی سے ہے وہ بھی جلسہ کرکے دیکھیں،اظہار رائے کی آزادی سب کا حق ہے، میئر کراچی وسیم اختر نے سڑک کی استرکاری کا جائزہ لیتے ہوئے جی پی او کمپاﺅنڈ محمد بن قاسم روڈ اور اطراف کے علاقوں میں رہنے والے مکینوں سے ملاقاتیں کی اور ان کے مسائل سننے، اہل علاقہ اور خصوصاً جی پی او کمپاﺅنڈ کی خواتین نے پانی کے مسئلے کو فوری حل کرنے پر میئر کراچی کا شکریہ ادا کیا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »