کاغذوں کے پیٹ بھرنے کیلئے بے گناہوں کوجیلوں میں ڈالاگیا، سیدخورشید شاہ

قصور:  قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پنجاب میں پہلے بھی ایسے واقعات ہوچکے ہیں اگر اس حوالے سے توجہ دی جاتی تو شاید آج زینب زندہ ہوتی‘سانحہ قصور جیسے واقعات دیگر ممالک میں بھی ہوتے ہیں لیکن وہاں کی حکومتیں فوری ایکشن لیتی ہیں‘ دیگرحکومتیں پنجاب حکومت کی طرح بے بس نہیں ہوتیں‘مجھے کیوں نکالا کہنے والوں سے سوال بنتا ہے کہ اس بچی کو کیوں مارا گیا۔ وہ منگل کو قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی
معصوم بچی زینب کے اہل خانہ سے تعزیت کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پہلے بھی ایسے واقعات ہوچکے ہیں اگر اس حوالے سے توجہ دی جاتی تو شاید آج زینب زندہ ہوتی۔سانحہ قصور واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی گرفتاری کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ کاغذوں کے پیٹ بھرنے کے لیے بے گناہوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، بے گناہوں کو پکڑنا حکومت کی بے بسی اور نااہلی ہے، یہ سمجھ رہے تھے کہ ماڈل ٹاو¿ن کی طرح یہ بھی معاملہ ختم ہوجائے گا۔ مسلم لیگ ن پرتنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک کسی مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا اس لیے نہیں کہ چند گھرانے ملک میں حکومت کریں۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ مجھے کیوں نکالا کہنے والوں سے سوال بنتا ہے کہ اس بچی کو کیوں مارا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ہم یہاں سیاست کرنے آتے ہیں۔ سیاست اچھی چیزہے‘ سیاست سے ہی عوام کی خدمت کی جاتی ہے، پنجاب پولیس اور پنجاب حکومت مکمل طور پرناکام ہوچکے ہیں، قصور واقعے نے عوام کی آنکھیں کھول دی ہیں۔زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی بچی زینب کے والدین سے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں زینب کے والدین کے ساتھ ہوں‘ ملزمان کوہر صورت قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔واضح رہے کہ قصور واقعے نے سب کے دل دہلا دیئے ہیں، کمسن زینب کو پانچ روز پہلے اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد سفاک درندوں نے بچی کو زیادتی نشانہ بنا کر قتل کردیا تھا، جس کے خلاف ملک بھر میں لوگ سراپا احتجاج ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.