نئےاسلام آبادایئرپورٹ کا 98 فیصد کام ہوچکا، چیئرمین سینٹ

اسلام آباد   سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ نئے اسلام آباد ایئر پورٹ کا 98 فیصد کام ہوچکا ہے، چھ ماہ میں منصوبہ مکمل کرلیا جائے گا،ایئرپورٹ تک رسائی کےلئے میٹرو ٹرین منصوبے پر کام جاری ہے، دو دیگر سڑکیں بھی زیر تعمیر ہیں،نیشنل بینک میں 7 ہزار سے زائد افسران اور اہلکاروں کی ترقی کا معاملہ زیر غور ہے ،2335 اہلکاروں اور افسران کو ترقی دی گئی ہے ، ترقی میں کسی کےساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوا ،تمام افسران اور اہلکاروں کو اپیل کا بھی حق دیا گیاہے۔جمعرات کو سینیٹ کے اجلاس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے سینیٹر رحمن ملک اور دیگر ارکان کے توجہ دلاﺅ نوٹس کے جواب میں کہا کہ نئے بین الاقوامی ہوائی اڈے کےلئے کام 2006ءسے شروع ہوا، زمین کی خریداری کا آغاز 2008ءسے ہوا ہے، 89 ایکڑ زمین حاصل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی لاگت 36 ارب روپے سے زائد تھی، کام سست روی کا شکار رہا۔ 2014ءسے اس پر کام تیزی سے شروع کیا گیا اور اس کے لئے مزید زمین خریدی گئی۔ 98 فیصد کام اب تک مکمل ہو چکا ہے۔ پانی کی فراہمی کے لئے دو ڈیم بھی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 282 ایکڑ پر محیط راوی ڈیم مکمل کیا گیا۔ ایک اور ڈیم بھی زیر تعمیر ہے۔ آﺅٹ سورس کے لئے بین الاقوامی ٹینڈر طلب کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ تک رسائی کے لئے میٹرو ٹرین منصوبے پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ دو دیگر سڑکیں بھی زیر تعمیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ چھ ماہ میں اس منصوبے کو مکمل کرلیا جائے گا۔ وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل نے سینیٹر مختار عاجز دھامرہ کے توجہ دلاﺅ نوٹس کے جواب میں بتایا سینیٹ کو بتایا کہ نیشنل بینک میں 7 ہزار سے زائد افسران اور اہلکاروں کی ترقی کا معاملہ زیر غور ہے جن میں سے 2335 اہلکاروں اور افسران کو ترقی دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ سینئر افسران کے انٹرویوز کےلئے سات رکنی اور دیگر کے لئے چار رکنی بورڈ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر کچھ شکایات بھی موصول ہوئیں جس پر قومی اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی نے بھی اس معاملہ پر غور کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی میں کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوا اور تمام افسران اور اہلکاروں کو اپیل کا بھی حق دیا گیا۔ چیئرمین نے کہا کہ اس معاملے میں شفافیت کی کمی نظر آتی ہے اس لئے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ایک ماہ میں تحقیقات کر کے اس کی رپورٹ پیش کرے۔اجلاس کے دوران چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ ان کیمرہ اجلاس کی کارروائی کے حوالے سے معلومات باہر فراہم کرنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاﺅس بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں یہ معاملہ آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ان کیمرہ اجلاس میں شریک کوئی ممبر یا اس سے متعلقہ فرد اجلاس کی کارروائی کسی صورت بھی باہر فراہم کرے گا یا کمیٹی کے اجلاس کی معلومات دے گا تو اس کو ہاﺅس بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں طلب کیا جائے گا کیونکہ قانون کے مطابق یہ استحقاق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ اگر فاضل ممبر یا ممبران کو سننے کے بعد کمیٹی اس نتیجے پر پہنچے گی کہ اس نے ان کیمرہ اجلاس کی کارروائی باہر بیان کی ہے تو اس کو مسلسل 30 دنوں تک اجلاس میں حاضری سے معطل کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے پالیسی سازی کرنی ہے یا حساس معاملات پر ان کیمرہ اجلاس میں غور کرنا ہے، تو ایسا کرنا ضروری ہوگا۔ بعد ازاں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے اس سلسلے میں قواعد و ضابطہ کار و انصرام کارروائی سینیٹ 2012ءمیں نیا قاعدہ 255 الف شامل کرنے کی تحریک پیش کی۔ تحریک میں کہا گیا ہے کہ کوئی رکن یا کوئی شخص خاص طور پر جو ان کیمرہ کارروائیوں میں شریک ہو، انہی کارروائیوں یا ان کے کسی حصے سے معلومات یا تاثرات یا تقریروں یا اس میں دی گئی رائے کو افشا کرتا ہے تو ایسا رکن یا شخص جو بھی صورت ہو، ہاﺅس بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں پیش ہوگا اور ان سے منسوب انکشافات سے متعلق وضاحت کے لئے مناسب موقع دینے کے بعد انہیں ایوان کی زیادہ سے زیادہ مسلسل 30 اجلاسوں تک معطل کیا جا سکتا ہے۔ ایوان نے تحریک کو اتفاق رائے سے منظور کرلیا جس کے بعد وفاقی وزیر میری ٹائم سیکورٹی میر حاصل بزنجو، سینیٹر میر کبیر، سینیٹر عثمان کاکڑ، سینیٹر طاہر حسین مشہدی،سینیٹر الیاس بلور، مشاہد حسین سید، سعود مجید اور قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے اظہار خیال کیا اور ان کیمرہ اجلاس کی کارروائی کو افشا سے روکنے کے لئے چیئرمین سینیٹ اور ہاﺅس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے فیصلے کو سراہا۔اجلاس کے دوران امریکی صدر کے دھمکی آمیز بیانات کے معاملے پر سینیٹر سحر کامران اور دیگر ارکان کی تحریک التواءکی منظوری کا معاملہ بھی شامل تھا تاہم چیئرمین نے تحریک کو بحث کےلئے منظور نہ کرتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.