اہم خبرِیں
شمالی وزیرستان، پاک فوج کا آپریشن، چاردہشت گرد جہنم وصل گھوٹکی ٹرین حادثے کو پندرہ سال بیت گئے پاکستان میں کورونا کے 2 ہزار 521 نئے کیسز،74 اموات انگلستان کی پاکستان میں ڈھائی لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری آیاصوفیہ مسجد کی کہانی ” آپ ایسا کریں کہ آپ کل آ جائیں“ اسٹیٹ بینک کےقوانین کی خلاف ورزی پر 15 کمرشل بینکوں کو بھاری ... ایرانی سیبوں کی درآمد، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر 22 درا... شاہد آفریدی کا کورونا میں مبتلا بچن خاندان کے لیے نیک خواہشات ... مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی پھر سے سر اُٹھانے لگ... تھیم پارک ڈزنی لینڈ کھولنے کا فیصلہ ماڈل ایان علی کی شوبز میں واپسی پاکستانی نوجوان کے دن پھر گئے، سعودیہ میں فیشن ماڈل بن گیا ڈونلڈ ٹرمپ پہلی بار ماسک پہن کر عوام کے سامنے ‌ایکسپو سینٹر لاہور میں کورونا کے زیرعلاج تمام مریض ڈسچارج وزیراعظم کی ہدایت کے باوجود کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ عرو... شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ بیٹے کی گولی سے باپ شدید زخمی وزیر اعلیٰ سندھ کورونا ٹیسٹنگ سے غیر مطمئن غلام سرور کو نیب بلایا جاسکتاہے، (نیب) کا وفاقی وزیر غلام سرور... وفاقی حکومت کی کے الیکٹرک کو فیول نہ ملنے کے دعوؤں کی تردید

یتیم کے ساتھ حسن سلوک

حضرت سہل بن سعد کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا کہ وہ یتیم خواہ اس کا ہو یا کسی اور کا جنت میں اس طرح ہوں گے یہ کہہ کر آپ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کے ذریعہ اشارہ کیا اور دونوں کے درمیان تھوڑی سی کشادگی رکھی۔ (بخاری)

وہ یتیم ”خواہ اس کا ہو یا کسی اور کا” کے ذریعہ اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ مطلق یتیم کی کفالت و پرورش کرنے کی فضیلت ہے وہ یتیم خواہ اس کا اپنا قربتی ہو جیسے پوتا اور بھتیجا وغیرہ یا کوئی غیر قرابتی ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کے ذریعہ اشارہ کر کے واضح کیا کہ جنت میں میرے اور یتیم کی پرورش کرنے والے کے درمیان اتنا قریبی علاقہ ہوگا کہ جتنا کہ ان دونوں انگلیوں کے درمیان ہے۔ نیز آپ نے ان دونوں انگلیوں کے ذریعہ اس طرح بھی اشارہ کیا کہ مرتبہ نبوت جو سب سے اعلیٰ درجہ ہے اس کے اور سخاوت و مروت کے مرتبہ کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔
حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہر مسلمان دوسرے مسلمان بھائی کا دینی بھائی ہے یعنی تمام مسلمان آپس میں دینی اخوت کا تعلق رکھتے ہیں اور اس اعتبار سے شریعت کو وہی مقام حاصل ہے جو ماں کو حاصل ہوتا ہے اور شارع تمام مسلمانوں کے دینی باپ ہیں۔ لہٰذا اس دینی اخوت کا تقاضا ہے کہ کوئی مسلمان کسی مسلمان پر ظلم نہ کرے اور کسی کو ہلاکت میں مبتلا نہ کرے اور نہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کو اس کے دشمن کے ہاتھوں میں چھوڑے بلکہ اس دشمن کے مقابلہ پر اس کی مدد اعانت کرے اور یاد رکھو جو شخص کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کی سعی و کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کی حاجت روائی کرتا ہے۔ جو شخص کسی مسلمان بھائی کے کسی غم کو دور کرتا ہے تو اللہ اس کو قیامت کے دن غموں میں سے ایک بڑے غم سے نجات دے گا اور جو شخص کسی مسلمان بھائی کے بدن یا اس کے عیب کو ڈھانکتا ہے تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے عیب کو ڈھانکے گا۔ (بخاری ومسلم)
حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان بھائی کی ستر پوشی کرنے والے یا اس کے عیوب کو چھپانے والے شخص نے دنیا میں جو عیوب و گناہ کئے ہوں گے قیامت کے دن اللہ تعالی اس کے ان گناہ و عیوب کی پردہ پوشی کرے گا۔ بایں طور کہ اہلِ موقف کے سامنے ظاہر نہیں کرے گا اس پر مواخذہ و محاسبہ نہیں کرے گا اور نامہ اعمال کی پیشی کے وقت ان کا ذکر پوشیدہ طور پر ہوگا۔ علماء نے لکھا ہے کہ جن مسلمانوں کے عیوب کی پردہ پوشی مستحسن و مستحب ہے وہ اس درجہ کے مسلمان ہیں جن کو اہلِ عزت و حیا کہا جاتا ہے یعنی وہ مسلمان جن کی ظاہری زندگی پاکیزہ اور آبرو مندانہ سمجھی جاتی ہے اور جن کے عیوب پوشیدہ رہتے ہیں کہ اگر بتقضائے بشریت ان سے کوئی گناہ و عیب سرزد ہو جائے تو وہ اس کو پردہ حیا میں چھپاتے ہیں رہے۔ وہ مسلمان جو حیا کا پردہ اٹھا دیتے ہیں جن کی ایذا رسانی اور فتنہ پردازی آشکار ہوتی ہے اور علی الاعلان گناہ معصیت کا ارتکاب کرنے میں کوئی شرم اور جھجک محسوس نہیں کرتے ان کا معاملہ جداگانہ ہے کہ نہ صرف ان کو ان گناہ و عیوب پر ٹوکنا واجب اور ان کو ارتکاب معصیت سے منع کرنا اور تنبیہ کرنا لازم ہے بلکہ اگر وہ روکنے اور تنبیہ کرنے کے باوجود اپنی برائیوں اور گناہ و ایذا رسانی سے باز نہ آئیں تو ان کے بارے میں حاکم کے یہاں اطلاع دینی چاہیے تاکہ وہ ان کو ایذا رسانی اور فتنہ پردازی سے باز رکھے۔ اسی طرح روایات حدیث اور مورخین پر جرح ونقد، ارباب حکومت اور گواہوں کی تحقیق اور اہلِ ظلم کے حالات کا اظہار بھی نہ صرف جائز بلکہ واجب لازم ہے کیونکہ ان صورتوں میں دین و علم کی نگہبانی اور لوگوں کے حقوق کی حفاظت مقصود ہوتی ہے۔ اس لئے مذکورہ بالا لوگوں کے حالات و عیوب کو بیان کرنا اس اظہار عیب میں داخل نہیں ہے جس کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.