اہم خبرِیں

صدقہ فطر کے احکام

 تحریر: الحاج صوفی امتیاز احمد قادری

 حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں میں سے ہر غلام، آزاد، مرد، عورت اور چھوٹے بڑے پر زکوٰة فطر (صدق فطر) کے طور پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض قرار دیا ہے نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ فطر کے بارے میں یہ بھی حکم فرمایا ہے کہ وہ لوگوں کو عید الفطر کی نماز کے لیے جانے سے پہلے دے دیا جائے۔ (بخاری ومسلم)

حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد  کے نزدیک صدقہ فطر فرض ہے، حضرت امام مالک کے ہاں سنت مو کدہ ہے اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک میں واجب ہے حدیث میں مذکور لفظ ”فرض” حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد کے نزدیک اپنے ظاہری معنی ہی پر محمول ہے، حضرت امام مالک فرض کے معنی بیان کرتے ہیں”مقرر کیا ” حنفی حضرات فرماتے ہیں کہ صدقہ فطر چونکہ دلیل قطعی کے ذریعے ثابت نہیں ہے اس لئے صدقہ فطر عمل کے لحاظ سے تو فرض ہی کے برابر ہے لیکن اعتقادی طور پر اسے فرض نہیں کہا جا سکتا جس کا مطلب یہ ہے کہ واجب ہے فرض نہیں ہے۔

حضرت امام شافعی کے مسلک میں ہر اس شخص پر صدقہ فطر واجب ہے جو اپنے لئے اور ان لوگوں کے لئے کہ جن کی طرف سے صدقہ فطر دینا اس کے ذمہ ایک دن کا سامان خوراک رکھتا ہو اور وہ بقدر صدقہ فطر اس کی ضرورت سے زائد بھی حضرت امام اعظم کے مسلک کے مطابق صدقہ فطر اسی شخص پر واجب ہو گا جو غنی ہو یعنی وہ اپنی ضرورت اصلیہ کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کے بقدر اسباب وغیرہ کا مالک ہو یا اس کے بقدر سونا چاندی اپنی ملکیت میں رکھتا ہو اور قرض سے محفوظ ہو۔

صدقہ فطر کا وجوب عید الفطر کی فجر طلوع ہونے کے وقت ہوتا ہے۔ لہٰذا جو شخص طلوع فجر سے پہلے مرجائے اس پر صدقہ فطر واجب نہیں اور اسی طرح جو شخص طلوع فجر کے بعد اسلام لائے اور مال پائے یا جو بچہ طلوع فجر کے بعد پیدا ہو اس پر بھی صدقہ فطر واجب نہیں۔ علما نے سوا دو سیر گندم کی مالیت تقریباً 125 روپے فی کس رکھی ہے۔ یعنی 125 روپے کے حساب سے صدقہ فطر دینا ضروری ہے۔

جو شخص اللہ کی راہ میں اپنا مال و زر خرچ کرنا چاہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اسے یا تو غنائے نفس حاصل ہو بایں طور کہ از راہ سخاوت نفس وہ اپنا مال و زر اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہے تو اسے اللہ کی ذات پر اس درجے کامل اعتماد اور توکل ہو کہ اس کا دل بالکل مستغنی ہو اور اسے اس بات کی پرواہ نہ ہو کہ میرے اہل و عیال کل کیا کھائیں گے۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق  کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے ایک موقع پر اپنا تمام مال و اسباب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدموں میں ڈالا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ابوبکر گھر والوں کے لئے کیا چھوڑا ؟ انہوں نے عرض کیا اللہ (یعنی اہل و عیال کے لئے اللہ کی ذات پر کامل اعتماد اور توکل چھوڑ آیا ہوں کہ جس نے اب تک مجھے اتنا مال و زر دیا ہے وہی کل کو ان کی بھی ضروریات زندگی پوری کرے گا)۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی سخاوت اور ان کے اس عظیم جذبے کو بہت سراہا، یہ تو پہلا درجہ ہوا دوسرا درجہ یہ ہے کہ اگر غنائے نفس حاصل نہ ہو پھر غنائے مال ہونا ضروری ہے یعنی اللہ کی راہ میں اتنا ہی مال خرچ کرے کہ خود مفلس و فقیر نہ ہو جائے بلکہ اتنا مال باقی رکھ چھوڑنا ضروری ہے کہ اہل و عیال کی ضروریات زندگی پوری ہو سکیں جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے۔

حاصل یہ کہ اگر توکل کی دولت نصیب ہو تو پھر جو کچھ چاہے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے اگر یہ مرتبہ حاصل نہ ہو تو اپنے اہل و عیال کو مقدم رکھے، صدقہ و خیرات میں اتنا مال نہ دے دے کہ خود اور اہل و عیال ضروریات زندگی کے لئے محتاج ہو جائیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.