Daily Taqat

امریکا سمیت دیگر اسٹاک مارکیٹس میں بدترین مندی برقرار

نیویارک / لندن / ٹوکیو : امریکی اسٹاک مارکٹیس میں گزشتہ روز سے شروع ہونے والے بدترین مندی کا سلسلہ دوسرے روز بھی برقرار ہے، جہاں ڈاؤ جونز انڈیکس میں 567 پوائنٹس کا اضافہ تو ہوا تاہم صورت حال اب بھی متاثر کن نہیں۔

تفصیلات کے مطابق نیویارک میں ڈاؤ جونز انڈیکس نے گزشتہ روز بدترین مندی کے بعد آج ریکوری کی اور انڈیکس 567 پوائنٹس کے اضافے کے بعد بند ہوا۔ امریکی میڈیا کے مطابق منگل کے روز ڈاؤانڈیکس میں گیارہ سو پوائنٹس کی کمی ہوئی تھی جو 6 برسوں میں سب سے زیادہ کمی تھی، تاہم بدھ کے روز سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نظر آیا

ڈاؤجونز انڈیکس میں اضافہ ہوا اور انڈیکس 567 پوائنٹس اضافے کے بعد 24 ہزار 912پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

اس سے قبل امریکا میں اسٹاک مارکیٹس میں ہفتے کا آغاز گراؤٹ سے ہوا ، تاہم آہستہ آہستہ صورت حال دوبارہ بحال ہونا شروع ہوئی، جب کہ یورپ میں اسٹاک مارکیٹس کریش ہونے کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں میں بھی شدید مندی دیکھی گئی اور مجموعی طور پر 4کھرب ڈالرز کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔

اس سے قبل امریکا میں ڈاؤ جونز دن کے آغاز پر ہی انڈیکس 500پوائنٹس نیچے گرگیا جس سے کئی سرمایہ کاروں کی رقم ڈوب گئی، جب کہ ڈاؤ جونز کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اسٹاک مارکیٹ میں اس حد تک پوائنٹس نیچے گرے۔ دوسری جانب یورپ میں مختلف اسٹاک مارکیٹس کا انڈیکس5اعشاریہ 3 فیصد تک گر گیا، جس کی وجہ ایشیائی ملکوں میں آنے والی منڈی کو بتایا جا رہا ہے۔

گارجین کے مطابق، جرمنی، فرانس، اٹلی اور اسپین کے اسٹاک مارکیٹس میں پوائنٹس 3 فیصد تک زوال کا شکار ہوئے۔ ایشیا میں سب سے پہلا زوال جاپان مارکیٹ کو نصیب ہوا جہاں نکیئی میں انڈیکس 225پوائنٹس تک گر گیا اور کاروبار کے اختتام تک اس میں7اعشاریہ 4 فیصد کمی رہی

ہانگ کانگ میں 2015ء کے بعد سے پہلی مرتبہ بدترین کاروباری آغاز دیکھا گیا، جہاں انڈیکس 5فیصد تک کم ہوگیا، جب کہ آسٹریلیا میں سڈنی اور سنگاپور مارکیٹس تین تین فیصد تک زوال کا شکار رہیں۔ لندن میں بھی ایف ٹی ایس ای 100 انڈیکس 2016ء کے بعد بدترین منڈی کا شکار نظر آیا اور دن شروع ہوتے ہی یہ 7079اعشاریہ 4پوائنٹس تک نیچے گر گیا تاہم دوپہر پونے 3 بجے تک انڈیکس بحال ہوتا نظر آیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ہونے والا نقصان تاریخی ہے کیونکہ انڈیکس تیزی سے مسلسل منہ کے بل نیچے آ رہا ہے اور ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد سرمایہ کاروں کے 4 کھرب ڈالرز ڈوب گئے۔ گزشتہ جمعہ کو کاروبار کی شروعات ان خدشات کے تحت ہوئی کہ رواں سال مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور امریکا میں مرکزی بینک فیڈرل یو ایس ریزرو قرضوں میں سود کی شرح میں توقعات کے برعکس اضافہ کرنا پڑے گا۔

اسٹینڈرڈ اینڈ پوئرز انڈیکس میں بھی 8 پوائنٹس، جب کہ نسڈیک میں 6 پوائنٹس کمی دیکھی گئی، اسی دوران بٹ کوائن کی قیمتوں میں مسلسل زوال نظر آیا جس کی وجہ مختلف بینکوں کی جانب سے اس کرنسی پر پابندی عائد کیا جانا اور بینکوں کی جانب سے صارفین کو کریڈٹ کارڈز کے ذریعے بٹ کوائن کی خریداری کی اجازت نہ دینا بتائی گئی ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »