دودھ کی قیمت طےنہ ہوسکی،کراچی میں دودھ کے بحران کا خدشہ

کراچی : کراچی میں دودھ کی فروخت کے لیے نرخوں کا معاملہ طے نہ ہوسکا، جس پر دکانداروں نے آج سے ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے دکانیں بند کر دیں، جزوی طور پر دکانین بند ہونے سے شہر بھر میں دودھ کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ واضح رہے کہ مارچ کے آغاز میں ڈیری فارمرز اور ہول سیلرز نے عدالتی حکم کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دودھ کی قیمت بیس روپے لٹر بڑھا دی تھیں۔ قیمتوں میں اضافے کے بعد ڈیری فارمرز نے دودھ95روپے فی لیٹر فروخت کرنا شروع کردیا، جب کہ ریٹیلرز نے دودھ کی فی لیٹرفروخت 100روپے کر دی۔

بڑھتی قیمتوں اور دودھ کے بحران پر ریٹیلرز نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہول سیلرز نے 28 فروری سے فی لیٹر 12 روپے اضافہ کر رکھا ہے اور اس ہفتے ہول سیلرز نے دکانداروں سے دودھ کی اضافی قیمت کی وصولی بھی کی ہے۔ ریٹئلرز کے مطابق کراچی میں دودھ کی 10 ہزار سے زائد دکانیں ہیں، شہر میں یومیہ 50 لاکھ لیٹر دودھ کی کھپت ہے جس میں 15 لاکھ لیٹر کی پہلے ہی قلت ہے۔ ہول سیلرز پہلے یومیہ 50 لاکھ لیٹر دودھ سپلائی کرتے تھے لیکن بھینسوں کو لگنے والے انجکشن پر پابندی کے بعد 15 لاکھ لیٹر کم سپلائی ہو رہا ہے‘ دودھ کی یہ کمی اندرون سندھ سے آنے والے دودھ سے پوری کی جا رہی ہے

شہر میں دودھ کے بحران پر دکانداروں کا کہنا تھا کہ منڈی سے مہنگا دودھ خرید کر سستا کیسے فروخت کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی کا عروج ہے، جب کہ دودھ 4 سال سے ایک ہی قیمت پر فروخت ہورہا ہے۔

دودھ فروش ریٹیلرز نے شکوہ کیا ہے کہ شہری انتظامیہ بھاری جرمانے کر رہی ہے۔ کمشنر کراچی کسی کی نہیں سن رہے۔ انہوں نے بتایا کہ دودھ کی قیمت مقرر کرنے کیلئے گزشتہ روز ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا اور آج کا کچھ پتا نہیں کہ اجلاس ہوگا یا نہیں۔

ریٹیلر ہول سیل منڈی سے دودھ لینے نہیں پہنچے۔ موصول ہونے والی تازہ اطلاعات کے مطابق شہر میں کہیں دودھ دستیاب ہے اور کہیں نہیں۔

دکانداروں نے اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ پچاسی روپے فی کلو دودھ فروخت کرنے کا پابند کیا جارہا ہے، ہول سیل قیمت پچاسی روپے سے زیادہ ہے، دکانداروں کا کہنا ہے کہ کمشنر کراچی سے آج اسی مسئلے پر ملاقات متوقع ہے، صورت حال سے جلد آگاہ کردیا جائے گا، جب کہ دوسری جانب سماء سے رابطہ کرنے پر جنرل سیکریٹری کراچی ملک ہول سیل ایسوسی ایشن محمد جنید کا کہنا تھا کہ دودھ ہول سیلرز کی طرف سے مہنگا مل رہا ہے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں ڈیری فارمرز اور ہول سیلرز نے عدالتی حکم کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دودھ کی قیمت بیس روپے لٹر بڑھا دی تھیں۔ قیمتوں میں اضافے کے بعد ڈیری فارمرز نے دودھ95روپے فی لیٹر فروخت کرنا شروع کردیا، جب کہ ریٹیلرز نے دودھ کی فی لیٹرفروخت 100روپے کر دی۔ فارمرز نے اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا تھا کہ قیمتوں میں اضافہ پیداواری لاگت بڑھانے کے باعث کیا گیا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے دودھ کی قیمت 85روپے فی لیٹر برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا، جب کہ کمشنر کراچی کو اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس بلا کر قیمتوں کا ازسر نو جائزہ لینے کا بھی حکم دیا گیا تھا، جس پر عمل نہ ہوسکا


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.