ہو سکتا ہے کہ اگلے برسوں میں پاکستان پر قرض بڑھ جائے، مفتاح اسماعیل

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ امور مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے آئندہ برسوں میں پاکستان پر قرض بڑھ جائے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرس کرتے ہوئے مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ اللہ کی مہربانی سے معشیت مثبت سمت میں جا رہی ہے اور مہنگائی کی شرح 4 فیصد سے کم ہے، آئندہ مالی سال کا بجٹ 27 اپریل کو پیش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اسٹیٹ بینک کے پاس ساڑھے 12 ارب ڈالر موجود ہیں جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر 12 ارب 20 کروڑ ڈالرز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ زیادہ ہے جبکہ سود کی ادائیگیاں 3 ارب ڈالرز ہیں جو قوم پر بوجھ ہیں۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ معشیت کی بہتری کے لیے حکومت اصلاحات کرچکی ہے اور 2028 اور 2030 تک کے بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کی منصوبہ بندی کر چکے ہیں۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اسٹیل کی نجکاری ہونی چاہیے کیونکہ پاکستان اسٹیل میں 10 گنا زیادہ ملازمین ہیں، اتنے ملازمین کسی بھی ملک کی اسٹیل مل میں نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹیل سندھ حکومت کو ایک روپے میں دینے کی آفر کی تھی لیکن سندھ حکومت نے اسٹیل ملز کی آفر کو مسترد کر دیا تھا۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے حوالے سے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کو دیکھ رہے ہیں۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات ہو رہے ہیں، معاہدے میں مقامی صنعتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا فیصلہ وزیراعظم اگلے ہفتے کریں گے۔

اپنے باس سے متعلق پوچھے گئے سوال پر مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ حکومت میں میرا باس شاہد خاقان عباسی اور سیاست میں نوازشریف ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.