اہم خبرِیں
پی آئی اے نے 63 ملازمین کوبرطرف کردیا رام اوردام تحفظات کا تحفظ (سیف سٹی اتھارٹی) تیرا یار میرا یار ۔۔۔ عثمان بزدار پنجاب میں اسمارٹ لاک ڈاؤن ختم افغانستان، جیل پر حملہ، تین افراد ہلاک، متعدد قیدی فرار بینکوں کے معمول کے اوقات کار بحال آدم علیہ السلام کے بعد کعبہ شریف میں عبادت کرنے والی واحد خاتو... امریکی خلا باز زمین پرواپس پہنچ گئے کورونا کیسزگھٹ کر25 ہزار172 رہ گئے عشرئہ ذو الحجہ اورعیدا لاضحی کے فضائل واحکام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے، شاہ محمود قریشی ملک میں کورونا کے فعال مریضوں کی تعداد 25 ہزار رہ گئی افغانستان، صوبہ لوگر میں خودکش حملہ، 17 افراد ہلاک حجاجِ کرام آج رمی جمار اور قربانی میں مصروف مریخ کے پہلے راؤنڈ ٹرپ پرخلائی گاڑی "پرسویرینس" روانہ افغان حکومت کے بعد طالبان کا بھی تمام قیدی رہا کرنے کا اعلان پی ایس ایل بورڈ اور فرنچائزز کے تعلقات کشیدہ بیٹی نے قبر کشائی کر کے والد کی میت نکال لی

غباروں کے استعمال سے دنیا کی پہلی کمرشل ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سروس متعارف

کینیا: الفابیٹ انکارپوریشن نے غباروں کا استعمال کرتے ہوئے کینیا کے ایک گاؤں میں دنیا کی پہلی کمرشل ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سروس متعارف کرادی۔

رپورٹ کے مطابق اس سروس کو گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کا یونٹ لون اور مشرقی افریقہ کے تیسرے بڑے ٹیلی کام آپریٹر ٹیلی کام کینیا مشترکہ طور پر چلا رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات جو موچیرو نے سروس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ‘کینیا پہلا ملک ہے جس کے بیس اسٹیشنز اوپر آسمان میں ہوں گے، اب ہم بہت کم عرصے میں پورے ملک تک یہ سروس پھیلا سکیں گے’۔
اس ٹیکنالوجی کو پہلے بھی استعمال کیا جاچکا ہے تاہم اس کا پہلے کبھی کمرشل استعمال نہیں ہوا۔
امریکی ٹیلی کام آپریٹرز نے پوئرتو ریکو میں 2017 میں آنے والے طوفان کے بعد 2 لاکھ 50 ہزار افراد کو کنیکٹ کرنے کے لیے غباروں کا استعمال کیا تھا۔
اس منصوبے کا مقصد سستے 4 جی انٹرنیٹ کو دیہی آبادیوں تک پہنچانا ہے اور اس پر تقریباً ایک دہائی سے کام کیا جارہا تھا۔
لون کے چیف ایگزیکٹو ویسٹ گیرتھ کا کہنا تھا کہ ‘ہم دنیا بھر میں موبائل نیٹ ورک کی نئی سطح موثر انداز میں تیار کر رہے ہیں’۔
ویسٹ گیرتھ نے کہا ہے کہ یہ خدمات ملک کے مغربی اور وسطی علاقوں میں تقریباً 50 ہزار مربع کلو میٹر علاقے کا احاطہ کرتی ہیں اور اس علاقے کے احاطے کے لیے 35 گاڑیوں کو استعمال کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے تجربات کے آغاز سے لے کر اب تک، 35 ہزار صارفین کو انٹرنیٹ سے منسلک کیا ہے اور انہیں آڈیو اور ویڈیو کال کی سہولیات بھی دی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ غباروں کے ذریعے ابتدائی فیلڈ تجربات میں، 18.9 میگابائٹ فی سیکنڈ ڈاون لوڈ اور 4.7 میگا بائٹ فی سیکنڈ انسٹالیشن کی رفتار ہوگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہوا میں اڑنے والے بیس اسٹیشن کی بہت زیادہ کوریج ہوگی، روایتی سیل فون ٹاور سے تقریباً 100 گنا زیادہ۔
بڑے اور ہلکے غباروں پر سولر پینل اور بیٹری لگی ہوگی جو اوپر فضا میں اڑیں گے۔
اس منصوبے کا مقصد سستے 4 جی انٹرنیٹ کو دیہی علاقوں تک پہنچانا ہے۔ فوٹو: لون
انہیں کیلیفورنیا اور پوئرتو ریکو میں قائم ایک سہولت سے لانچ کیا گیا جسے سلیکون ویلی میں لون کے فلائیٹ اسٹیشن میں موجود کمپیوٹرز سے ہیلیم کا ذریعے کنٹرول کیا جائے گا اور پریشر سے اس کے رخ کا تعین کیا جائے گا۔
ان میں مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر بھی ہیں جس میں بغیر کسی مداخلت کے پرواز کے راستوں کو نیویگیٹ کیا جاسکتا ہے
واضح رہے کہ مقامی آپریٹروں کی رسائی سے باہر علاقوں کا احاطہ کرنے والے اس منصوبے کو مستفید ہونے والے ممالک میں کاروباری اجارہ داریاں قائم کرنے کے دعوے سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.