دبئی آکر بزنس کرنے سے پہلے کسی سے معلومات حاصل کر لیں, مخدوم رئیس قر یشی

دبئی میں بہت سے لوگ بنا سوچے سمجھے اور کسی سے پوچھے بغیر آکر بزنس شروع کر لیتے ہیں اور بعد میں نقصان ہونے پر پچھتاتے ہیں ۔ کسی کا چلتا بزنس دیکھ کر فوراً وہیں انویسٹمنٹ شروع کر دیتے ہیں جس کا نتیجہ نقصان کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ پاکستان سے آنے والے انویسٹرز اور بزنس میں حضرات کوچاہیے کہ وہ بزنس کرنے سے پہلے وزٹ ویزہ پر آکر حالات بزنس کے مواقع خود دیکھ لیں یہاں کے اکنامک ڈیپارٹمنٹ ، دوستوں اور بزنس کمپنیوں سے بیشگی معلومات لے لیں پھر انویسٹمنٹ کریں اور نقصان سے بچ جائیں۔ان خیالات کا اظہار دبئی کے معروف قانون دان اور سماجی شخصیت مخدوم رئیس قر یشی نے گزشتہ دنوں ایک ملاقات کے دوران کیا۔ مخدوم رئیس قریشی نے بتایا کہ بہت سے پاکستانی یہاں مختلف مقدمات میں پھنسے ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر کیس رقم کی لین دین کے ہوتے ہیں لوگ بزنس میں پارٹنر شپ کرتے وقت نہ تو کاغذات دیکھتے ہیں اور نہ ہی رقم کے لین دین کے وقت کوئی معاہدہ سائن کرتے ہیں اس طرح محض اعتماد کی وجہ سے نقصان اُٹھا بیٹھتے ہیں اور اچھی بھلی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔لوگوں کو خصوصاً پاکستانیوں کو چاہئے کہ وہ پارٹنر شپ کرتے وقت تمام ڈاکومنٹ خود دیکھ لیا کریں، کسی کو دکھالیا کریں اور دبئی اکنامک ڈیپارٹمنٹ سے تصدیق کروالیا کریں۔ دوستی، اعتماد ار محض آنکھیں بند کر کے انویسٹمنٹ کرنا نقصان کا باعث ہوتا ہے مخدوم رئیس قریشی نے بتایا کہ ماشاءاللہ ہمارے پاکستانی بھائی یہاں رئیل سٹیٹ، ہیوی مشینری، کنسٹرکشن، یوزڈ کارز ، یوزڈ فرنیچر، فش مارکیٹ ، مویشی فارم اور دیگر متعدد کاروباروں پر چھائے ہوئے ہیں اور اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ تاہم یہاں زیادہ سے زیادہ پاکستانی سکول بنانے اور طبی سہولیات کی فراہمی کے سلسلہ میں بڑے پیمانے پر ہسپتال اور شاپنگ مالز بنانے؛ کی گنجائش ہے۔ پاکستانی بزنس مین مل کر متذکرہ ادارے قائم کر سکتے ہیں جن کو یہاں کی حکومت بھی سپورٹ کرتی ہے اور یہاں ضرورت بھی ہے۔ مخدوم رئیس قریشی نے قونصلیٹ آف پاکستان دبئی میں بطور ویلفیئر قونصلر بھی چار سال کام کیا اور یہاں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو درپیش متعدد مسائل حل کئے۔ مخدوم رئیس قریشی آج بھی عوامی فلاح و بہبود کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے اپنی کوششوں سے متعدد پاکستانی قیدیوں کو جیل سے رہا ئی دلوائی انہیں زادراہ اور پاکستان جانے کا ہوائی ٹکٹ بھی دیا۔ اس کے علاوہ عام نوعیت کے مقدمات میں ملوث پاکستانیوں کو مقدمات ختم کرانے کے سلسلہ میں قانونی اور اخلاقی مدد بھی فراہم کی۔ سوشل لائف میں بھی مخدوم رئیس قریشی بہت متحرک نظر آتے ہیں۔ اس سلسلہ کے تخت انہوں نے اپنی مسز کے ساتھ مل کر ایک ایونٹس مینجمنٹ کمپنی بھی بنا رکھی ہے اور سوشل ایونٹس کی کوریج کے لئے ڈائنا مک پاکستان کے نام سے ایک میگزین بھی شرو ع کر رکھا ہے۔ جس میں ان کی مسز شاہدہ پروین ان کی بھرپور مدد کرتی ہیں۔ ان کی ایک بیٹی رمشا رئیس قریشی ڈاکٹر ہیں جبکہ ان کے صاجزادے مخدوم محمد علی قریشی انگلینڈ میں باریٹ لا کر رہے ہیں۔ خود مخدوم رئیس قریشی نے اور مسلم کالج راولپنڈی سے وکالت کا امتحان پاس کیا جبکہ ماسٹرز ڈگری کراچی یونیورسٹی سے حاصل کی۔بعدازاں اسلام آباد میں بطور وکیل پریکٹس کرنے کے بعد 1996 میں دبئی آگئے اور اب یہاں لوگوں کو قانونی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ مخدوم رئیس قریشی نے امارات میں مقیم پاکستانیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ یہاں کے قوانین کی سختی سے پابندی کریں اور ملک کا نام روشن کریں۔ انہوں نے کہا کہ امارات میں بہت سے پاکستانی بہت اچھے عہدوں پر فائض ہیں اور بزنس کے شعبہ میں بڑا نام رکھتے ہیں ایسے پاکستانیوں کو چاہئے کہ وہ یہاں پاکستانیوں کیلئے روزگار کے مواقع فراہم کریں تاکہ پاکستان کی معاشی حالت مضبوط اور لوگوں کے حالات اچھے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ دبئی کی قونصلیٹ آف پاکستان لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے اچھے کام کر رہی ہے تاہم صاحب حیثیت لوگوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے جو قونصلیٹ کے دست و بازو بنیں اور مستحق لوگوں کے لئے فلاح و بہبود کے کاموں میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ اس وقت بھی امارات کی جیلوں میں بہت سے پاکستانی قانونی امداد اور رہائی کے لئے منتظر ہیں۔ مجبور، بے کس اورلاچار قیدیوں کو رہائی دلائیں اور ان کی دعائیں لیں۔ ایگریمنٹ پر نئے آنے والے لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے کام اور عہدہ و تنخواہ کا ایگریمنٹ اپنے پاس رکھیں کیوں کہ آجر اور اجیر کے بہت سے مسائل یہاں سامنے آرہے ہیں۔ یہاں آنے سے پہلے یہاں کے قوانین اور رہن سہن کے بارے بھی آگاہی حاصل کر لیں اور پاکستان کا سافٹ اور مثبت امیج اجاگر کرنے کی کوشش کریں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.