نوری آباد انڈسٹریل اسٹیٹ کو 10سال کیلئے ٹیکس سے مستثنی قراردینے کی منظوری

وفاقی حکومت نے سندھ میں سر مایہ کاری کے فروغ اور بیروزگاری کے خاتمے کیلئے نوری آباد انڈسٹریل اسٹیٹ کو تیزی سے ترقی اور آباد کرنے کیلئے 10سال کیلئے ٹیکس سے مستثنی قرار دینے اور بجلی کے ٹیرف میں کمی کی منظوری دیدی ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے نوری آباد انڈسٹریل اسٹیٹ کیلئے پیکیج کا اعلان بھی کیے جانے کا امکان ہے اور یوں مسلم لیگ ن اس علاقے کو تیزی سے آباد کر کے سندھ میں سیاسی طور پر مزید سرگرم ہونے کی بھی کوشش کرےگی۔

نوری آباد انڈسٹریل اسٹیٹ میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے 10 ارب روپے بھی منظور کئے گئے ہیں کیونکہ نوری آباد انڈسٹریل اسٹیٹ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے بعد اپنے محل و قوع، کراچی ائیرپورٹ، پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ سے منسلک ہونے کی بنا پر اہمیت اختیار گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے سر مایہ کاروں کی مالی معاونت کیلئے بینکوں سے بھی کم شرح سود پر قرضوں کی فراہمی کی منصوبہ بندی کی ہے اور پیکیج میں ٹیکسٹائل سیکٹر پر زیادہ توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ 7 ہزار 500ایکٹرز اراضی پر نوری آباد انڈسٹریل اسٹیٹ بحریہ ٹاؤن اور نئے ڈی ایچ اے سٹی کے بھی قریب ہونے کی بنا پر سر مایہ کاروں کو رہائشی سہولت بھی فراہم کریگا جبکہ انڈسٹریل اسٹیٹ کی تعمیر کے بعد حیدرآباد، جامشورو، دادو اور کراچی کے بے روزگاروں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔

وفاقی حکومت کے منصوبہ بندی ڈویژن کے مطابق نوری آباد میں پانی، بجلی، گیس اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کے لئے ’ون ونڈو آپریشن سٹم‘ متعارف کرایا جائے گا۔

نوری آباد انڈسٹریل اسٹیٹ پیکج کے تحت نوری آباد کی سپر ہائی وئے سے لنک روڈ پیپری تک جلد مکمل کی جائے گی جس کے بعد سر مایہ کاروں کو برآمدات اور درآمدات کے لئے کراچی ائر پورٹ کے بعدپورٹ قاسم اور کراچی پورٹ کی براہ راست زمینی راستے کی سہولت حاصل ہوجائے گی اور انڈسٹریل اسٹیٹ کو ریلوئے لائن کے ذریعے بھی منسلک کیا جائے گا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.