Daily Taqat

چین اور پاکستان کے درمیان تجارت کیلئے اپنی اپنی کرنسی کا ’سوآپ‘ معاہدہ

چین اور پاکستان نے تجارت کے لیے اپنی اپنی کرنسی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ’سوآپ‘ کہلاتا ہے۔

گزشتہ روز وزیر داخلہ احسن اقبال نے سی پیک کے لانگ ٹرم پلان کے افتتاح کے موقع پر اس بات سے آگاہ کیا۔

کرنسی کی تبدیلی کا دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ ہے کہ پاکستان، چین سے خریدی گئی اشیاء کی ادائیگی یوآن میں اور چین پاکستان سے خریدی گئی اشیاء کی ادائیگی روپوں میں کرسکتا ہے۔

ادائیگی کا طریقہ کار وضع کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک اور پیپلز بینک آف چائنا کے درمیان کرنسی ’سوآپ‘ معاہدہ ہوا۔

2011 میں طے پائے معاہدے کے تحت اسٹیٹ بینک، چینی مرکزی بینک سے 10 ارب یوآن تک قرض لے سکتا ہے اور بدلے میں 140 ارب روپے قرض دے سکتا ہے۔

’سوآپ‘ سہولت کے استعمال سے اسٹیٹ بینک کے خزانے میں یوآن آجاتے ہیں جسے بینکوں کو فراہم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک یوآن قرض سہولت کی نیلامی کرتاہے، بینک بولی دے کر اسٹیٹ بینک کے ساتھ ’سوآپ‘ لائنز بنا لیتے ہیں اور لون سہولت اپنے صارف کو مہیا کرتے ہیں تاکہ وہ یوآن میں ادائیگی کرسکیں۔

23 دسمبر کو اس معاہدے کے 6 سال مکمل ہورہے ہیں اس لئے وزیر داخلہ احسن اقبال کے تجارت دوملکوں کی کرنسی کے ذریعے طے کرنے کے اعلان پر مالیاتی شعبے نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »