اہم خبرِیں
بھوک بڑھنے سے 12 ہزار افراد روزانہ ہلاک ہو سکتے ہیں، رپورٹ امریکی شہر کیلی فورنیا میں کورونا نے تباہی مچا دی پاکستان نیوی کے بحری بیڑے میں نئے اور جدید بحری جنگی جہازپی ای... معاشرے میں بگاڑ کے اسباب ”کشمیریوں کی زندگی کی بھی اہمیت ہے“ مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے پاکستان ترقی کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب، اقوام متحدہ کی رپورٹ... امریکی بحری جنگی جہاز میں دھماکا، 21 افراد زخمی سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پرمیزائلوں سے حملہ دنیا بھر میں آج یومِ شہدائے کشمیر منایا جائے گا پاکستان فرانسیسی شعبہ زراعت اور شعبہ حیوانات کی مہارت سے استفا... میر شکیل الرحمان کی ہمشیرہ کے انتقال پر سی پی این ای کا تعزیت ... شمالی وزیرستان، پاک فوج کا آپریشن، چاردہشت گرد جہنم وصل گھوٹکی ٹرین حادثے کو پندرہ سال بیت گئے پاکستان میں کورونا کے 2 ہزار 521 نئے کیسز،74 اموات انگلستان کی پاکستان میں ڈھائی لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری آیاصوفیہ مسجد کی کہانی ” آپ ایسا کریں کہ آپ کل آ جائیں“ اسٹیٹ بینک کےقوانین کی خلاف ورزی پر 15 کمرشل بینکوں کو بھاری ... ایرانی سیبوں کی درآمد، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر 22 درا...

زبان اور معکوس معنی

والد صاحب بتایا کرتے ہیں کہ بچپن میں جب کبھی وہ اور تایا مرحوم اکٹھے جا رہے ہوتے اور تایا جی موڈ میں ہوتے تو وہ ہر گزرنے والے بڑے چھوٹے شخص کو انتہائی اخلاق کے ساتھ ہاتھ بلند کر کے سلام کے سے انداز میں آہستگی سے کہتے ، ” سڑیاں اے کہ نٔیں!”۔ ہر گذرنے والا شخص اس سوچ کے ساتھ کہ اسے سلام کیا گیا ہے بڑی خوشی کے ساتھ سلام کا جواب دیتا۔ یہ دونوں بعد میں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے۔ یہ تو محض بچپن کی ایک چھوٹی سی شرارت تھی۔، مگر آج ہماری تمام تر اعلیٰ اخلاقی اقدار کا تقریبا جنازہ نکل گیا ہے۔ جو چند ایک قدریں رہ گئیں ہیں وہ بھی تیزی سے روبہ زوال ہیں۔ ماضی کی وہ شرارت ایک حقیقت میں بدل چکی ہے۔ اپنی زیادہ تر گفتگو میں ہم لوگ جو بات کہہ رہے ہوتے ہیں دراصل اس کے عین برعکس معنی ہم مراد لے رہے ہوتے ہیں۔ زیادہ تر گفتگو میں جو الفاظ ہم بول رہے ہوتے ہیں وہ خالی اور کھوکھلے ہیں ۔ اپنی تمام تر گفتگو آج کل ہمارا مقصد محض دوسروں کو بے وقوف بنانا یا وقتی طور پر خوش کر کے اپنا الو سیدھا کرنا ہوتا ہے۔ آ ئیں روز مرہ میں ہونے والی اس گفتگو اور معنی کی چند جھلکیوں میں ہم اپنا عکس دیکھتے ہیں۔
مہمان کی آمد پر: بہت خوشی ہوئی آ پ کے آنے پر! کچھ ٹھنڈا یا گرم لیں گے آپ؟
معنی: کوئی خوشی( نہیں ) ہوئی آ پ کے آنے پر! ٹھنڈا یا گرم ( کچھ نہ ) لیں آپ
رشتے داروں سے ملتے وقت: بہت دن ہو گئے آپ نے چکر ہی نہیں لگایا۔
معنی: ( خدا کا شکر ہے) بہت دن ہو گئے آپ نے چکر ہی نہیں لگایا۔
دوست سے مل کر: تم ہی تو میرے سچے دوست ہو!
معنی : ( ایڈا تو) میرا سچا دوست!
دکاندار سے : میں ہمیشہ آپ ہی سے خریداری کرتا ہوں ۔ آپ کا تول ہمیشہ ہی پورا ہوتا ہے۔
معنی: میں ہمیشہ آپ ہی سے خریداری کرتا ہوں ( ابھی پچھلی دکان سے جا کر باقی کا ساما ن بھی لینا ہے۔) ۔ آپ کا تول ہمیشہ ہی پورا (نہیں ) ہوتا ہے۔
بیوی سے: اگر تم نہ ہوتیں تو میں مر ہی جاتا
معنی: : اگر تم نہ ہوتیں تو میں مر ہی جاتا( خوشی سے)
باس سے: آپ جیسا محنتی باس میں نے کبھی نہیں دیکھا! اگر آپ مجھے گایئڈ نہ کرتے تو میرے کام میں اتنا نکھار نہ آتا۔
معنی: آپ جیسا (کم ) محنتی (اور نکٹھو) باس میں نے کبھی نہیں دیکھا! اگر آپ مجھے (مس) گایئڈ نہ کرتے تو میرے کام میں نکھار ( آ) جاتا۔
کوورکرز سے:آپ کی محنت بہت فائدہ مند ہے۔ آپ محنت جاری رکھیں۔
معنی: آپ کی محنت بہت فائدہ مند ہے( میرے لئے)۔ آپ محنت جاری رکھیں (میں فائدہ اٹھانا جاری رکھوں گا)۔
آفس چوکیدار سے : چاچا تم مجھے اچھے لگتے ہو۔ تم باس کو کسی کی شکائیت نہیں لگاتے ہو۔
معنی: چاچا تم مجھے ( باس ہی) لگتے ہو۔ تم باس کو (ہر) کسی کی شکائیت لگاتے ہو۔
ڈاکٹر سے: ڈاکٹر صاحب آپ کے علاج سے بہت فائدہ ہوا ہے۔ میں اپنے آپ کو اب ہلکا محسوس کرتا ہوں۔
معنی: ڈاکٹر صاحب آپ کے علاج سے بہت فائدہ ہوا ہے ( آپ کو) ۔ میں اپنے آپ کو اب ہلکا محسوس کرتا ہوں ( اپنی جیبوں سے )۔
کیمسٹ سے : آپ کی دوائیاں خالص ہوتی ہیں۔ میں سب پہلے آپ کی دکان پر ہی آتا ہوں۔
معنی: آپ کی دوائیاں (نا)خالص ہوتی ہیں۔ میں سب سے پہلے آپ کی دکان پر ہی آتا ہوں(معکوس ترتیب سے)۔
پیٹرول پمپ پر: آپ کا پیٹرول خالص ہوتا اور آپ کا ناپ بھی پورا ہوتا۔
معنی: آپ کا پیٹرول خالص ہوتا (تو کیا بات ہوتی ) اور آپ کا ناپ بھی پورا ہوتا ( تھا کبھی) ۔
بچے کے ٹیچر سے: علم تو آپ پر ختم ہے۔ آ پ نے میرے بیٹے کو شیر بنا دیا ہے۔
معنی: علم تو آپ نے ختم (ہی کر دیا) ہے۔ آپ نے میرے (انسان) بیٹے کو شیر (جانور) بنا دیا ہے۔
آج ہماری لفظی صحت انتہائی مشکوک ہو چکی ہے۔ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی بات پر یقین کرنے کو اس لیے تیار نہیں ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ عین اسی طریقے اور انہی الفاظ کے ساتھ وہ خود دوسروں کو بے وقوف بناتا ہے۔ لہذا جب کبھی وہ اپنی سوچ یا اپنے الفاظ سے ملتی جلتی گفتگو سنتا ہے فورا گمان کرتا ہے کہ مد مقابل بھی محض اسے بے وقوف بنانے کے لیے انہی الفاظ کا انتخاب کر رہا ہے ، جو وہ خود دوسروں کو چکر دینے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ہمیں ا پنے الفاظ کے چناؤ اور لفظی صحت کو بحال کرنے کے لیے سب سے پہلے لوگوں پر اپنا اعتماد بحال کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنے قول و فعل میں اتنی مطابقت پیدا کرنی ہو گی کہ ہمارے منہ سے جو بھی الفاظ نکلیں ، لوگ آنکھیں بند کر کے ان پر اعتماد کریں اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بے وقوف بنانے کی عادت ترک کرنی ہو گی، دکھاوا، نمود و نمائش اور ریا کاری کو ترک کرنا ہو گا، تب کہیں جا کر ہمارے الفاظ بلا شک و شبہ انہی معنوں میں قبول ہونا شروع ہوں گے جو ہم زبان سے ادا کرتے ہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.