اہم خبرِیں

زندگی رہی تو سیاست کھیلی جاسکے گی!

اس وقت تک دنیا بھر میں 4لاکھ سے زائد افراد کوروناوائرس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اوریہ موت کا کھیل ابھی جاری ہے۔ پاکستان میں قدرے تاخیر سے یہ موذی وبا پہنچی ،مگر اب اموات کی تعداد دو ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ لاک ڈائون کی پابندیوں کے باوجود مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے اور اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔اس حوالے سے پاکستان دنیا میں چھٹے نمبر پر آگیا ہے جو نہایت تشویش کی بات ہے۔کورونا سے اموات کے معاملے میں بھی پاکستان کا عالمی سطح پر 16واں نمبر بتایا جاتا ہے اور اگر عوام نے اس وائرس سے بچنے کی تدابیر اختیار نہ کیں جیسا کہ اس وقت دیکھنے میں آرہا ہے تو خدشہ ہے کہ صورتحال مزید گھمبیر ہو سکتی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنے طور پر اقدامات کررہی ہیں، مگر جب تک عوام خود احتیاط نہیں کریں گے، حکومتی اقدامات دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔وزیر عظم عمران خان بھی عوام کو حکومتی ایس او پیز پر عملدر آمد کر نے کی تلقین کرتے رہتے ہیں ،کیو نکہ کورونا وائرس ابھی ختم نہیں ہو ا ، ہمارے ساتھ موجود ہے اور آئندہ مذید بڑھنے کے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے ،جبکہ عوام نظر اندازانہ رویئے پر گا مزن ہے ۔حکومت کو بھی صرف عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کر نے پر زور نہیں دینا چاہئے ،بلکہ ایس او پیز پر سختی سے عملدر آمد کو یقینی بنائے،حکومت کب تک اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ دوسروں پر ڈال کربر ی ازماں ہوتی رہے گی۔
اس میں شک نہیں کہ جب تک کو ئی ویکسین تیار نہیں ہو جاتی ، دنیا کو کروناوائرس کے ساتھ ہی زندگی گزارنا ہوگی۔ یہ انتہائی مشکل ہے، مگر ناممکن نہیں، احتیاطی تدابیر اور سماجی فاصلوں سے کرونا کے پھیلائو کو روکا اور اس سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ حکومت کی آگہی مہم کے باوجود ہمارے عوام احتیاطی تدابیر کو اہمیت نہیں دیئے رہے ہیں، لاک ڈائون میں جیسے ہی نرمی کی گئی، لوگ گھروں سے ایسے باہر آئے جیسے کرونا کا خاتمہ ہوگیاہے۔ عید کے موقع پر مارکیٹوں اور بازاروں میں عوام کا ہجوم دیدنی تھا،اس موقع پراحتیاطی تدابیر کوبری طرح پا مال کیا گیااور اب بھی نظر انداز کیا جارہا ہے ،آج بھی شہروں میں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں لوگ ماسک تک پہنا گوارہ نہیں کرتے، یہ سب لوگ اپنی زندگی کے ساتھ دوسروں کیلئے بھی خطرہ بن رہے ہیں،ایسے حالات میں کرونا کا پھیلائو روکنے کیلئے حکومت کو سخت رویہ اپنانا ہوگا۔ اگر اسی طرح روزانہ پانچ چھ ہزار کیس سامنے آتے رہے تو ہسپتال کم پڑ جائینگے۔ حکومت اب کسی بھی طور پر لاک ڈائون کی طرف نہیں آرہی ہے،کیو نکہ عوام بھی اسے نہیں مانیں گے اور وزیراعظم بھی لاک ڈائون کو معاشی تباہی سے تعبیر کرتے ہیں۔
وزیر اعظم عوامی مفاد میںلاک ڈائون نہیں کرنا چاہتے ،مگر حکومتی ایس او پیز پر عملدآمد یقینی بنانے کے خواہاں ہیں۔کورونا وبا کا مقابلہ صرف لاک ڈائون سے نہیں ،ایس او پیز پر عملدر آمدسے ہی کیا جاسکتا ہے ،اس حوالے سے عوام کا کردار قابل تر جیح ہے،اگر عوام کی جا نب سے غیرمہ دارانہ رویہ یو نہی روا رکھا گیا تو کو رونا جیسی خوفناک وبا کو پھیلنے سے روکنا اکیلئے حکومت کے بس میں نہیں ہو گا۔حکومت نے اپنے محدود وسائل کے باوجود بیروزگاروں کو فاقوں سے بچانے کیلئے 12 سو ارب روپے کا پیکیج دیاتھا،اس سے زیادہ حکومت وقت کے پاس گنجائش نہیں ہے۔ اسی لئے لاک ڈائون سے گریز کرتے ہوئے کاروباری سرگرمیوں کی اجازت کے ساتھ ایس او پیز کو مشروط کیا گیاتھا،مگر لاک ڈائون کے خاتمے بعد حکومتی ایس او پیز کہیں ہوا میںاُڑا دیئے گئے ہیں۔حکومتکورونا وائرس کی روک تھام کے لیے کوشاں ہے ،جبکہ اپوزیشن ساتھ دینے کی بجائے تنقید کے ذریعے سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہے۔ ایک طرف پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری وفاقی حکومت کو کورونا وائرس کے پھیلائو کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیںتودوسری طرف وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اگر لاک ڈائون کا فیصلہ بروقت کرلیا جاتا تو صورتحال اتنی خراب نہیں ہونی تھی۔قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہوئے حکومت پر تنقید کا موقع ضا ئع نہیں کررہے ،جبکہ حکومتی وزراء اپوزیشن کی بیجا تنقید کو حکومت کی کامیابیوں پر حسد سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ پورے ملک کو ایک خطرناک وبا کا سامنا ہے ، حکومت اوراپوزیشن الزامات کی سیاست کرنانہیں بھول ر ہے ہیں۔اس نازک ترین وقت میں وفاق اور صوبہ سندھ کے درمیان سیاسی بیان بازی،چپقلش اور الزامات در الزامات کا چلن اس بات کا غمازہے کہ ہم سیاسی طور پر تاحال پوائنٹ اسکورنگ پر یقین رکھتے ہیں ۔
بلا شبہ ساز گار وقت وحالات سیاست میں پیش رفت کے متقاضی ہوتے ہیں،مگر مو جودہ حالات تنقید برائے تنقیدکی سیاست کے لیے سازگار نہیں ہیں۔ ملک کی سیاسی قیادت کے لیے زندگی رہی تو سیاست کرنے کے بہت سے اور مواقع آئیں گے،لیکن یہ وقت اپنے ساتھ اپنی عوام کی زندگیاں محفوظ بنانے کا ہے۔ دنیا بھر میں چار لاکھ اموات کورونا وائرس کی وجہ سے ہوچکی ہیں اور پاکستان میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں مریض سامنے آرہے ہیں اور ہم سیاسی لڑائی جھگڑوں میں مصروف نظرآتے ہیں۔کورونا کوئی وبانہیں کی افواہیں دم توڑ چکی ہیں ،کورونا وائرس بڑی تعداد میں انسانی زندگیاں لے کر خود کو منوارہا ہے، خدارا،ہوش کے ناخن لیجیے، یہ وقت بے احتیاطی اور الزم تراشی کی سیاست کا نہیں ،بلکہ پوری سیاسی قیادت کوایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر یکجہتی کا پیغام دینے کا ہے۔حکومت اور اپوزیشن متحد ہو کر ہی کورونا جیسے بحرانوں کا مقابلہ کر سکتی ہے،کورونا کے سد باب میں ہی سب کی زندگی ہے، زندگی بچ جائیگی تو سیاست بھی کھیلی جاسکے گی۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.