Latest news

ہاںہم دہشت گرد ہیں، آر ایس ایس کا اعتراف

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کشمیری مسلمانوں پر جو بیت رہی ہے وہ سب کے سامنے ہے مگر دوسری طرف بھارتی مسلمان بھی چین سے نہیں ۔انتہا پسند ہندوو¿ں نے بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ نہ صرف مسلمان بلکہ عیسائی، سکھ اور دلتوں کی زندگی اتنی اجیرن کر دی ہے کہ وہ زندہ رہنے کے مقابلے میں موت کو گلے لگانے کو تیار ہیں۔
بھارت میں برسر اقتدار بی جے پی کی بنیاد انتہا پسند ہندو جماعت راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ المعروف ’آر ایس ایس‘ ہے جو بالکل اسی طرح بھارت میں کسی دوسرے مذہب کے پیروکار یا عقیدت مند کو زندہ رہنے کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہے جس طرح ایک زمانے میں ’نازیوں‘ کے نزدیک جرمن قوم کے علاوہ کسی دوسری قوم کو زندہ رہنے کے لیے ان حقوق کی قطعی ضرورت نہیں تھی جو جرمنی کے لوگوں کے لیے بنیادی ضرورت تھے۔بھارتی میڈیا کے مطابق آر ایس ایس کی ذیلی شاخ دھرم جاگرن سمنوے سمیتی کے رکن راجیشور سنگھ نے اپنی جماعت کی انتہا پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ 31 دسمبر 2021 تک ہم اور ہمارے ساتھی اس ملک سے مسلمانوں اور مسیحوں کا خاتمہ کر دیں گے اور سب کو ہندو بنا دیں گے۔
یہ صرف ایک دھمکی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جس پر بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے بھی خبردارکرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو جرمنی میں یہودیوں کی طرح چن چن کر نشانہ بنایا جائے گا۔ بی جے پی اپنی ناکامیوں اور خرابیوں سے پیدا ہونے والی معاشی بحران سے نمٹنے کے لئے یہ حربے اختیار کرے گی۔ ملک کی معاشی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اور اس کا غصہ مسلمانوں پر نکالا جائے گا۔
بھارت میں اقلیت کشی پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل بھار ت شاخ کے ڈائریکٹر آکار پاٹل نے کہا ہے کہ بھارت میں2016 سے منافرت پر مبنی جرائم کی شرح انتہائی بڑھ چکی ہے۔اپنی ویب سائٹ پر نفرت کو روک دوکے عنوان سے جاری اعداد وشمار میںکہا کہ رواں برس(2019)کے پہلے چھ ماہ میں بھارت میں نفرت پر مبنی جرائم کے 181واقعات ریکارڑ کیے گئے جو گزشتہ تین برس میں ہونے والے جرائم سے تقریبا دوگنا زیادہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت میں جہاں لوگوںکو نسل ، مذہب ، ذات پات اور صنف کی بنیادوں پر نشانہ بنایا جاتا ہے پہلے اس طرح کے جرائم کے پیچھے کارفرما تعصب کو تعزیراتی قوانین کے ذریعے پہلے تسلیم کر لیا جائے اور پھر ان واقعات کی دستاویزات تیار کی جائیں۔
اعداد وشمار میں کہا گیا کہ رواں برس جنوری اور جون کے درمیان جن لوگوںکو نفرت پر مبنی جرائم کا نشانہ بنایا گیا ان میں 40 مسلمان، آدہیواسی 21، عیسائی 4جبکہ دیگر دلت ذات سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔اعداد وشمار میں کہا گیاکہ فروری 2019 میں ہونے والے پلوامہ واقعے جس میں 42 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے ، کے بعد بھارت میں کشمیریوں پر حملوں کے چودہ واقعات پیش آئے۔ فروری میں ہی منافرت پر مبنی جرائم کے سب سے زیادہ 37 واقعات ریکارڑ کیے گئے جبکہ مارچ میں ایسے 36واقعات دیکھے گئے۔ مجموعی طور پر نفرت پرمبنی حملے کے 72 واقعات پیش آئے جن میں سے 37 مسلمانوں پر کیے گئے۔تمام واقعات میں ، متاثرہ افراد کو قتل کی دھمکی دے کر وندے ماتر م یاجے سری رام یا جے ہنومان یا پاکستان مخالف نعرہ بلند کرنے پر مجبور کیا گیا اور5 واقعات میں متاثرہ افراد کو زندہ جلا دیاگیا۔ ستمبر 2015 سے بھارتی ریاستوں اترپردیش ، گجرات ، راجستھان اور ہریانہ جہاںبھارتیہ جنتا پارٹی کی اورتامل ناڈو میں مسلسل نفرت پر مبنی جرائم کے سب سے زیادہ واقعات پیش آئے ہیں۔اتر پردیش میں سب سے زیادہ ایسے واقعات پیش آئے جہاںستمبر 2015 سے رواں سال جون تک نفرت پر مبنی 216 واقعات رپورٹ کیے گئے۔
آر ایس ایس نے اپنی انتہا پسندی دکھانے کےلئے غیر ہندووں پر زندگی تنگ کر دی ہے ۔ دراصل حالیہ تشدد کی لہربھی اسی کا ایک حصہ ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریرمیں دنیا پر آر ایس ایس کی اصلیت واضح ہوگئی۔ وزیراعظم نے بھارتی وزیر اعظم سے متعلق کہا کہ مودی آر ایس ایس کے رکن ہیں جو ہٹلر اور مسولینی کی پیروکار تنظیم ہے۔ آر ایس ایس کے نفرت انگیز نظرئیے کی وجہ سے گاندھی کا قتل ہوا۔ آر ایس ایس بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کررہی ہے اور بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں سے نسل پرستی کی بنیاد پر قائم ہوئی۔ اسی نظریے کے تحت مودی نے گجرات میں مسلموں کا قتل عام کیا۔تاریخی ثبوت و شواہد اس امر کے غماز ہیں کہ آ ر ایس ایس اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے دنگا فساد کرانے سے لے کر نسل پرستی سمیت ہر قسم کے منفی ہتھکنڈے کو اختیار کرنے میں وہ عار محسوس نہیں کرتی ہے خواہ وہ فوجیوں کا قتل عام ہی کیوں نہ ہو؟
ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے رہنما کرشن گوپال نے اعتراف کیا کہ مودی، بھارت اور آر ایس ایس ایک ہی ہیں۔ ہاں ہم دہشتگرد ہیں اور بھارت ہمارا حصہ ہے۔ہم 2021 تک بھارت میں سے عیسیائیوں اور مسلمانوں کا خاتمہ کر دیں گے۔
راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ خود کو دراصل قوم پرست ہندو تنظیم قرار دیتی ہے لیکن متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔ اس کی تشکیل ناگپور میں 1925 میں ہوئی تھی اور اس کا بانی کیشوا بلی رام ہیڑگیوارتھا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ بھارت ایک ہندو ملک ہے۔ برطانوی دور حکومت میں اس تنظیم پر ایک مرتبہ اور تقسیم ہند کے بعد اس پر تین مرتبہ عقائد اور حرکات و سکنات کے باعث پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔ بھارت کی مختلف حکومتوں کی جانب سے کئی واقعات کی تحقیقات کے لیے جب کمیشنز بنائے گئے تو انہوں نے بھی اپنی تحقیقاتی رپورٹس میں آر ایس ایس کو ہی مورد الزام ٹھہرایا۔
بھارت میں آر ایس ایس کے نظریات اور اس کے خیالات سے اتفاق کرنے والی دیگر تمام تنظیموں کو عمومی طور پر ’سنگھ پریوار‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی دیگر ہم خیال تنظیموں میں وشوا ہندو پریشد، بھارتیہ جنتا پارٹی( سنگھ پریوار کی سیاسی جماعت)، ون بندھو پریشد، راشٹریہ سیوکا سمیتی، سیوا بھارتی، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد( سنگھ پریوار کا اسٹوڈنٹس ونگ)، ونواسی کلیان آشرم، بھارتیہ مزدور سنگھ اور ودیا بھارتی شامل ہیں۔
نفرت انگیز جرائم میں خطرناک حد تک اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سپریم کورٹ کے رہنما اصولوں پر عمل درآمد نہ ہونااحتساب کے عمل میں امتیاز اور استثنیٰ کو جنم دیتا ہے۔بدقسمتی سے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورونے جو ملک میںجرائم کے واقعات پر سالانہ اعدادوشمار جاری کرتا ہے ، 2016ءسے اپنی کرائم ان انڈیا رپورٹ جاری نہیں کی ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.