اہم خبرِیں

 یہ وقت محاذ آرائیوں کا نہیں ہے

پاکستانی سیاست کا بغور جائزہ لیں تو لا تعداد ایسے کردار نظر آئیں گے جو مختلف اقسام کا لبادہ اوڑھے سادہ لوح عوام کے جذبات سے کھیلنے کو ہی اپنا مشغلہ تصور کرتے ہیں مگر یہاں جس کردار کا تذکرہ کرنا مقصود ہے وہ ملتان سے تعلق رکھنے والے ہمارے وزیرِخارجہ شاہ محمود قریشی ہیں ۔شاہ محمود قریشی کاسارا پولیٹکل کیرئر اس افسوس ناک حقیقت کا گواہ ہے کہ موصوف کی سیاست کا مقصد روزِاوّل سے ہی محض اقتدارکا حصول رہا۔اخلاقی اقدار،وفا،سچ اور اصول و ضوابط کو انہوں نے کسی دور میں بھی اپنے قریب نہیں آنے دیا۔ ضمیر اور خوداری جیسے الفاظ ان کی ڈکشنری میں ڈھونڈنے سے بھی میّسر نہیں ۔شاہ محمود قریشی کو اداکاری پہ بھرپور ملکہ حاصل ہے۔آپ اکثر اپنی دھواں دھار گفتگو سے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بناتے نظر آتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے پاکستانی سیاست میں بطور متوالا،جیالا اور پھر بحثیت کھلاڑی پرفارم کیا۔آپ میاں نواز شریف کے گُن گاتے رہے ، پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے بھی وزارتوں کے مزے لوٹے اور اِن دنوں تبدیلی سرکارنے وزارتِ خارجہ کا قلمدان آپ کے سپرد کیا ہوا ہے۔ گزشتہ بیس ماہ سے موصوف کی بطور وزیر خارجہ پرفارمنس پوری قوم پر عےّاں ہے۔ شاہ محمود قریشی کی بحثیت وزیرِخارجہ بدترین کارکردگی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ مودی سرکار نے نہتے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کر دی۔تمام بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی دھجیاں اُڑا دی گئیں مگر موصوف محض بیانات کے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ اُٹھا سکے ۔کشمیر کاز پر دنیا کو اپنا ہم نوا نہ بناناشاہ محمود قریشی کی بطور وزیرِخارجہ ناقص کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔آج پوری قوم شاہ محمود قریشی سے اُن کی اور اُن کے آقائوں کی کارکردگی سے متعلق سوال پوچھ رہی ہے مگر ہمارے ہاں چونکہ گنگا ہمیشہ ہی سے اُلٹی بہتی ہے لہذا موصوف اپنی کارکردگی کا جواب دینے کی بجائے دوسروں کی کارکردگی پر سوال اُٹھاتے نظر آتے ہیں ۔اِن دنوں موصوف نے اپنی سابق جماعت پیپلز پارٹی پر بلاوجہ الزامات کی بوچھاڑ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ جناب کبھی حالیہ وبا کے باعث بیروزگار ہونے والے دیہاڑی دار طبقہ کو سندھ حکومت کی جانب سے راشن کی تقسیم پر سوال اُٹھاتے ہیں تو کبھی اُنہیں پیپلز پارٹی سے صوبائیت کی بو آتی ہے ۔ موصوف نے اس جماعت پر سندھ کارڈ کھیلنے کا الزام لگایا جس کی قیادت کی قربانیوں کے طفیل وفاق قائم ہے ۔شاہ محمود قریشی کی پیپلز پارٹی پر بے وقت اور بلاوجہ تنقید دراصل وفاقی حکومت کی بوکھلاہٹ کی عکاس ہے ۔ہر زی شعور یہ سچ جان چکا ہے کہ حالیہ موذی وبا کرونا کے خلاف سندھ حکومت کی مثالی کارکردگی پیپلز پارٹی کے مخالفین سے ہضم نہیں ہو رہی اور یہی وجہ ہے کہ شاہ محمود قریشی جیسے کردار بغیر سوچے سمجھے تمام توپوں کا رُخ پیپلز پارٹی قیادت کی طرف کر دیتے ہیں ۔ وطنِ عزیز میں رہنے والے تمام حقیقت پسند  حیرتوں میں مبتلا ہیں کہ آج ان کرداروں کی ترجیحات کیا ہیں۔ وقت کرونا کے خلاف جنگ لڑنے کا ہے جبکہ عقل و فہم سے عاری یہ کردار حکومت ِسندھ کے خلاف برسرِپیکار ہیں ۔ پی پی پی لیڈر شپ کو صوبائیت کا طعنہ دینے والے شاہ محمود قریشی نہ جانے یہ کیوں بھول گئے کہ اُن کے شہر ملتان میں موجود نشتر ہسپتال کے ڈاکٹرز اوردیگر پیرا میڈیکل سٹاف کے لیے طبّی سامان سندھ حکومت کی جانب سے بھجوایا گیا جبکہ وفاق اور پنجاب میں موجود پی ٹی آئی حکومتیں صرف زبانی جمع خرچ ہی کرتی رہیں۔شاہ محمود قریشی نے پی پی پی قیادت پر بلاوجہ تنقید تو کر لی اور جی بھر کے الزامات بھی لگا لیے مگر اس تنقید نے خود اُن کی اہلیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے ، موصوف کی جانب سے پیپلز پارٹی قیادت پر کی جانے والی لفظی گولہ باری کے باعث صاحبِ فہم لوگوں کے حلقے میں نئی بحث چھڑ چکی ہے ،لوگ ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ جو وزیرِ خارجہ موجودہ ایمرجنسی کے حالات میں وفاق اور اک صوبائی حکومت کے مابین اتحاد و یگانگت اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے موزوں گفتگو کرنے سے قاصر ہے وہ خارجی محاذ پر ملک کا مقدمہ کیسے لڑ سکتا ہے ؟فہم و فراوست سے نا آشنا وزیرِ خارجہ نے حماقتوں کی تمام حدیں ہی عبور کر دیں ، قارئین! آپ اندازہ تو کریں کہ کورونا جیسے اہم ایشو پر جب گزشتہ دنوں پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا گیا تو شاہ محمود قریشی قومی حکمت عملی کی راہ دکھلانے کی بجائے سندھ میں اپنا سیاسی لوہا منوانے کا اعلان کرتے نظر آئے، بہرحال وقت گزرتا جا رہا ہے ۔موزی وبا کے باعث تباہ کاریاںبڑھتی چلی جا رہی ہیں ۔اب تک تقریباً 43966افراد کورونا کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ900سے زائد مریض موزی وبا کے باعث موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ملک کے موجودہ ایمرجنسی حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ پاکستانی حکومت فی الفورجامع حکمتِ عملی کی طرف جائے اور یہ جان لے کہ یہ وقت محاز آرائیوں کا نہیں ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.