اب کی باردسمبر گرم ہو گا؟

سرد موسم میں سیاست کی گرمی کوئی نیا گل کھلا سکتی ہے،جیسے جیسے حکومت کے 100 دن مکمل ہونے کے قریب آ رہے ہیں ویسے ویسے سیاسی حالات میں گرمی آتی جا رہی ہے۔اور”دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی“
گمان ہے کہ بہت سے معاملات کو نومبر کے آخر یا دسمبر میں حتمی انجام تک پہنچانے کی تیاری کی جا رہی ہے جس کے لیے فضا ہموار کی جا رہی ہے ۔عین ممکن ہے کہ جب حکومت 100 دن پورے کر رہی ہو تو اپوزیشن حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے کی بجائے اپنی گردنیں بچاتی پھر رہی ہو۔اسی لئے حکومت حالات کو گرم جبکہ اپوزیشن ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت کے علاوہ اور بھی طاقتیں کچھ معاملات کو منطقی انجام تک پہنچانے میں سنجیدہ دکھائی دے رہی ہیں۔ اپوزیشن کا الزام یہ ہے کہ قانونی معاملات کو میڈیا پر ہائی لائٹ کر کے ان کا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے اس بات کا امکان بڑھتا جا رہا ہے کہ حکومت کے 100 دن مکمل ہونے پر اپوزیشن کے” حملے “کو روکنے کے لیے اپوزیشن پر اس سے پہلے ہی اٹیک کر دیا جائے ۔دو بڑی سیاسی جماعتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت اس حوالے سے مزید مشکلات کا شکار ہوسکتی ہیں۔
بظاہر فیصلہ کن مرحلہ شروع ہونے والا ہے نیب نے شہباز شریف کے خلاف ثبوت و شواہد ملنے پر ریفرنس دائر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ جبکہ نوازشریف سے بھی ناراض حلقوں کی محبت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور وہ بھی بظاہر جیل واپس جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سابق صدر زرداری صاحب کا کیس بھی لگ گیا ہے ۔
دسمبر میں سیاسی کشیدگی عروج پر پہنچنے کے امکانات بھی بڑھتے جا رہے ہیں ۔ پارلیمنٹ میں اچانک جس طرح کی زبان استعمال کی جارہی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپوزیشن کو کسی بھی معاملے میں رعایت دینے پر تیار نہیں ۔سیاسی ماحول جس طرح گرم کیا جا رہا ہے اس سے کوئی بعید نہیں کہ اگلے چند روز میں پارلیمنٹ کے اندر اس سے زیادہ بھیانک مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے بھی گند اچھالنے کی تیاری کر رکھی ہے ۔کیونکہ حکومتی وزرا اپوزیشن کرنے سے باز نہیں آرہے اور غیر پارلیمانی الفاظ سے پارلیمنٹ کا درجہ حرارت بلند کیے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس بار جو پارلیمنٹ وجود میں آئی ہے وہ بالکل مختلف ہے اس بار حکومت ”جا رحانہ موڈ “میں ہے اس سے پہلے حکومتیں ہمیشہ دفاعی موڈمیں ہوتی تھیں اب صورتحال بدل گئی ہے۔ حکومت بالکل ٹیسٹ میچ کی طرح ہوتی ہے پانچ دنوں کا کھیل ہے اور ایک دن ایک سال کے برابر ہے ۔لیکن موجودہ حکومت اسے ”ٹونٹی ٹونٹی “کی طرح کھیل رہی ہے، جیسی بال ویسا جواب۔ جبکہ اپوزیشن یہ توقع کر رہی ہے کہ ٹیسٹ میچ کو ٹیسٹ میچ کی طرح کھیلا جائے ۔
پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ دونوں فرینڈلی اپوزیشن کے عادی ہیں انہوں نے وہ حکومت پہلی بار دیکھی ہے جو اپوزیشن سے” فرینڈ لی ڈیل“ کرنے کے موڈ میں نہیں ہے ۔دونوں سابق حکمران جماعتوں کے لوگ تحریک انصاف سے یہ توقع کرتے ہیں کہ اپوزیشن سوالات کرے گی اور حکومت اسکے جوابات دے گی ۔لیکن موجودہ حکومت سوالات کے جوابات دینے کی بجائے الٹا اپوزیشن پر ہی سوال کر دیتی ہے اور انکی جی بھر کر قوالی کرتی ہے ۔اپوزیشن حکومت پر کسی ناکامی کے حوالے سے تنقید کرتی ہے توحکومت اس کا ملبہ بھی سابقہ حکومت پر ڈال رہی ہے۔
پارلیمنٹ کے اندر سوال جواب کی بجائے الزام تراشی اور غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال ہو رہا ہے جس سے اسمبلی کا موجودہ سیشن بےکار جانے کا خدشہ ہے ۔لگتا یوں ہے کہ حکومت اپوزیشن کے موڈ سے باہر نہیں آرہی اور اپوزیشن حکمرانی کے” خمار “سے باہر نہیں نکل رہی اور اسمبلی کا ماحول نہ صرف خراب کیا جار ہا ہے بلکہ مزید خراب کرنے کی دھمکی بھی دی جا رہی ہے۔
قوم دیکھ رہی ہے کہ پارلیمنٹ میں کس طرح کا تماشہ ہو رہا ہے پارلیمنٹ کم اور ٹاک شوز کے مباحثے زیادہ ہو رہے ہیں اور اسکا ذمہ دار میڈیا بھی ہے۔ میڈیا پر سیاستدانوں کو آپس میں لڑوا کر جس طرح ”ریٹنگ “ کا کھیل کھیلا جاتا رہا ہے اسی کے اثرات اب سامنے آ رہے ہیں اور پارلیمنٹ میں نظر آ رہے ہیں۔ میڈیا ایک زمانے میں ریٹنگ کی دوڑ میں بری طرح الجھا ہوا تھا، الیکٹرانک میڈیا نے فریقین کو آمنے سامنے بٹھا کر گرما گرم مباحثے کرائے ۔اُس وقت کی حکومت دفاع کرتی رہی اور پی ٹی آئی کے لوگ اٹیک کرتے رہے ۔اپوزیشن کے پاس چونکہ اٹیک کرنے کا زیادہ مارجن ہوتا ہے اس لیے پی ٹی آئی کے لوگ مباحثوں میں گرما گرم بحث کرنے کے عادی ہو چکے ہیں اور زبان کے معاملے میں انکا ہاتھ خاصا کھلا ہوا ہے۔ جولوگ ٹی وی ٹاک شوز میں پی ٹی آئی کی طرف سے اٹیک کر رہے ہوتے تھے اس کے صلے میں ٹکٹ بھی انہیں ہی ملے اور وزارتیں بھی انہی کو ملیں ۔ جو جتنا ”منہ پھٹ “اور ”حاضر جواب“ تھا وہ اتنا ہی اچھا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔فواد چوہدری ، مراد سعید ، فیصل واو¿ڈا ، علی محمد ، شہریار آفریدی ، فیاض الحسن چوہان ، شفقت محمود ، شبلی فراز وغیرہ وغیرہ یہ سب وہ لوگ ہیں جو مخالفین کو ترکی بہ ترکی جواب دینا جانتے ہیں۔انہیں ٹاک شوز اور پارلیمنٹ کا فرق ہی معلوم ہی نہیں تو ان سے پارلیمان اور پارلیمنٹ کی عزت کی کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ پھر اسی طرح کے مناظر تو دیکھنے کو ملیں گے ۔ پارلیمانی زبان مختلف ہوتی ہے اور ٹاک شوز کی زبان مختلف ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ابھی تک حکومت کے لوگ خود کو اپوزیشن سمجھے ہوئے ہیں اور ٹاک شوز کی زبان استعمال کر رہے ہیں اس میں قصور میڈیا کا بھی ہے جنکی ریٹنگ کی مجبوری نے انکی زبان ”دو آتشہ “ کر دی ہے۔ہمارے ہاں سیاست میں یہ تصور پختہ ہو چکا ہے کہ اقتدار چیز ہی ایسی ہے اور مخالف کو جتنا گندا کریں گے اس کو جتنا لوگوں کی نظروں میں گرائیں گے آپ کو اتنی بڑی کامیابی مل سکتی ہے
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ عمران خان اور سابقہ حکومتوں میں کوئی فرق ہے تو وہ غلط فہمی میں مبتلا ہے۔ ہر وہ کام جس پر تحریک انصاف” نکتہ چیں“ تھی۔وہی سارے کام کر رہی ہے ،چہرے بدل گئے ہیں باقی کچھ نہیں بدلا۔ ہمارا سیاسی نظام اتنا الجھا ہوا ہے اور پیچیدہ ہے کہ اس میں تنہا اقتدار نہیں چلا سکتے، اگر کسی کو دو تہائی اکثریت مل جائے تو اسکاکیا حشرہوتاہے یہ کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں۔پاکستان کے سیاسی نظام میں حکومتوں کو ہمیشہ دباو¿ میں رکھا جاتا ہے اور کوئی نہ کوئی ”پخ“ ضرور ساتھ لگا دی جاتی ہے تاکہ کوئی بھی حکومت آزادانہ کام نہ کر سکے اور وہ ان طاقتوں کی مرہون منت رہے جو نظام کے کسٹوڈین ہیں۔ جو جماعت انکے نرغے سے نکل جاتی ہے اسکو عبرت ناک انجام سے دوچار ہونا پڑتا ہے یہ وہ حمام ہے جس میں سب ”ننگے “ہیں یا پھر ننگا کر دیا جاتا ہے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.