Latest news

قانون کے رکھوالے ہی قانون شکن کیوں ؟

ہمارے ملک کی پولیس کا پوری دنیا میں کوئی ثانی نہیں، پولیس، تھانہ اور کچہری میں شریف لوگ نہ صرف جانے سے گھبراتے ہیں، بلکہ کسی چوراہے پر بھی کوئی کانسٹیبل نظر آجائے تو عوام مجبوراً اپنا راستہ بدلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔پولیس کے نظام میں سیاسی مداخلت اتنی سرائیت کرچکی ہے کہ ممبران اسمبلی کا کیسز پر اثر انداز ہونا پولیس اپنے لیے فخر کا باعث سمجھتی ہے۔ ہمارے ملک کی اشرافیہ اپنا ہر جائز و ناجائز کام کروانے کےلیے پولیس کو استعمال کرتی ہے۔ سیاسی پشت پناہی اوربدعنوانی کے باعث پولیس نظام تباہی کے دھانے تک پہنچ چکا ہے،سابق حکمرانوں نے ماڈل پولیس اسٹیشن اور پولیس کی یونیفارم تبدیل کرکے بھی دیکھ لیا ،مگر پولیس اہلکاروں کا مزاج نہ بلا جا سکا،جبکہ اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے پولیس افسروں کی سرزنش بھی کسی کام نہ آئی۔ جولائی 2019ءکو لاہور ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران معزز جج نے صوبے کی پوری پولیس فورس کو فارغ کرکے نئی بھرتیوں کے ریمارکس دیئے تو رواں برس سندھ کی عدالتوں نے پولیس کے عدالتی کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی پاداش میں 500 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کیاتھا۔ تحریک انصا ف حکومت ماضی میں کے پی کے میں پولیس اصلاحات کے ذریعے پولیس نظام کو تبدیل کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوئی تھی۔ اس لئے توقع کی جا رہی تھی کہ پنجاب میں بھی تحریک انصاف حکومت پولیس نظام میں اصلاحات کے ذریعے کوئی کرشمہ انجام دے گی، مگر بدقسمتی سے وزیراعظم کی درخواست کے باوجود پنجاب میں آنے والے پولیس افسر ز یہاں زیادہ دیر تک ٹک نہیںسکے ہیں۔یہ پولیس کے نظام میں سیاسی مداخلت کا ہی ثمر ہے کہ ماورا عدالت قتل کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ حکومت کے لیے بہتر ہو گا کہ وہ سیاسی مفادات کو پس پشت ڈال کر پنجاب میں کے پی کے طرز کی اصلاحات کو یقینی بنائے، تاکہ عوام کو پولیس گردی سے نجات مل سکے۔
اس میں شک نہیں کہ محکمہ پولیس کے پاس بڑے اضافی اختیارات ہیں،پولیس کاکسی گناہگار کو بے گناہ اور بے گناہ کو گناہگار ثابت کرنے میں کوئی ثانی نہیں ہے، پولیس یہ تمام طریقے سیاسی مداخلت اور اپنے ذاتی و مالی مفادات کیلئے استعمال کرتی ہے۔ ہر دور اقتدار میںحکومتی عہدیداروں و پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے تھانہ کلچر میں تبدیلی اور سیاسی مداخلت کے خاتمے کے دعوے ہوتے رہے ہیں، مگر عملی اقدامات کبھی نہیں کئے گئے جس کے باعث آج بھی پولیس کانسٹیبل سے لیکر آئی جی پنجاب تک کے تبادلے و تعیناتیاں سیاسی وسفارش پر ہوتی ہیں اور پسند ناپسند کا سلسلہ بدستور جاری وساری ہے۔ڈی سی او، افس سے لے کرعام تھانوں میں پکڑ دھکڑ کے ذریعے عام شہریوں کی تذلیل، جبکہ جرائم پیشہ عناصر سیاسی و سفارشی پشت پناہی میں آزاد نہ گھومتے نظر آتے ہیں۔ پولیس اسی معاشرے کا حصہ ہے اور اس کے اہلکار پولیس کالونیوں میں نہیں، بلکہ عام شہر میں ہر جگہ رہتے ہیں، پولیس کا تربیتی نظام ایسا ہے کہ جہاں وہ رشوت نہ دینے پر انتقام اور تشدد کا نشانہ بنائے جاتے ہیں اور نام نہاد تربیت کی تکمیل کے بعد انھیں پوسٹنگ ملنے پر سیاست میں ملوث کر دیا جا تا ہے، حکمران انھیں ذاتی مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں تو وہ عوام سے دور ہو جاتے ہیں اور خود کو منفرد سمجھ کر عوام سے غلاموں جیسا سلوک کر کے عوام کے خادم کی بجائے خود کو عوام کا حاکم سمجھنے لگتے ہیں۔
در حقیقت محکمہ پولیس کو بگاڑنے کا ذمہ دار حکمران طبقہ ہے ، ہماری سیاسی و مذہبی قیادت نے پولیس کوہمیشہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جس کے نتیجے میں پولیس اور عوام کے درمیان خلیج حائل ہوگئی ہے ۔ عوام کی پولیس سے نفرت اور پولیس کی عوام سے لا تعلقی بڑھتے بڑھتے اس مقام پر آ چکی ہے کہ پولیس وردی لوٹ کھسوٹ کا ذریعہ اور رشوت کا حصول اہلکاروں کا ایمان بن چکی ہے۔ پولیس اہلکار اپنے ذاتی و معاشی مفادات کے حصول کی خاطرسب کچھ کر گزرتے ہیں جس کا کوئی جنگلی معاشرہ بھی اجازت نہیں دیتا،اسی پولیس کے ظالم روئیے کے جواب میںصلاح الدین نامی شخص نے پہلے اے ٹی ایم کارڈ مشین کے کمیرے میں دیکھتے ہوئے منہ چڑایا اور بعدازاںپکڑے جانے پر سوال کیا تھا کہ لوگوں کو مارنا کہا ں سے سیکھا ہے،پولیس نے جواباً اس شخص کو تفتیش کے بہانے تشدد سے ہلاک کردیا، ڈیڑھ ماہ میں پنجاب پولیس کی حراست میں ہلاک ملزمان کی تعداد سات ہو گئی ہے ،جبکہ پولیس اہلکاروں کے نجی ٹار چرسیل کا سامنے آنا پولیس گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ کرپٹ اور دوران تفتیش جان لیوا تشدد کرنے والے ملازمین پولیس میں نہیں رہیں گے۔محکمہ پولیس سے کالی بھیڑوں کا اخراج وقت کی اہم ضرورت ہے ،مگر خالی زبانی کلامی بیانات سے پولیس گردی کلچر میں تبدیلی نہیں آئے گی ،اس کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
بلا شبہ پولیس ایک وقت میںظالم اور مظلوم بھی ہے، یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اس محکمے میں آنیوالا ہر فرد اپنے آپ کو ایک الگ ہی مخلوق سمجھنے لگ جاتا ہے،مگر بہت سے شریف اور فرض شناس لوگ بھی اس محکمے میں موجودہیں۔ محکمہ پولیس کے اہلکاروں کا واسطہ ہر وقت عام وخاص لوگوں سے پڑتا ہے۔اس محکمے کو بدنام کرنے میں جہاں اس محکمے میں موجود کچھ کالی بھیڑوں کا ہاتھ ہے، وہیں ہمارے ان بااثر لوگوں کا بھی پورا پورا ہاتھ ہے جو اپنے تعلقات کی بنا پر پولیس کواپنے غلط کاموں کیلئے مجبور کرتے ہیں، پولیس کے محکمے پر جب تک بااثر لوگوں کا دباوُ رہے گا،ان سے بہتر کاکردگی کی امید رکھنا فضول ہے۔محکمہ پولیس مکمل طور پر سیاسی دباﺅ کے زیر اثر قانون وانصاف کی فرہمی کا دعویدار ہے ،جبکہ پولیس افسران کے تبادلے و تعیناتیاں حکومتی عہدیداروں و سیاستدانوں کی مرہون منت ہیں جو افسر خود کسی سفارش پر تعیناتی کروا کر آتا ہے ، وہ ماتحت افسران و اہلکاروں کے تبادلے بھی سفارش پر کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ پنجاب میں تو اس وقت صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ جس کی سفارش نہیں، اس کی پوسٹنگ بھی نہیں ہوتی ہے۔ گزشتہ دنوں ایک پولیس افسر سے غیر رسمی گفتگو کے دوران پتہ چلاکہ ایک وزیر نے اپنا ڈی پی او تعینات کروانے کیلئے ذاتی کوشش کی، مگر دیگر لابی آڑے آ گئی اور اپنا من پسند افسر تعینات کروا لیاگیا، پولیس افسران کی تعیناتیوں میں جب بدانتظامی ہو گی اور میرٹ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا تو رزلٹ بھی ایسے ہی ملیں گے،یہی وجہ ہے کہ ڈپی او ،افس سے لے کر عام تھانوں میں سیاسی وصحافی کاریگر حضرات کی ایجارہ داری دیکھنے کو ملتی ہے۔ہمارے ہاں سیاسی و غیر سیاسی اثر ورسوخ کی بدولت لاقانونیت بڑھ گئی ہے،قانون کے رکھوالے ہی دیدہ دلیری سے قانون کی دھجیاں بکھیر تے نظر آتے ہیں ،محکمہ پولیس میں کرپٹ پولیس مافیا قانون شکنی کو فروغ دینے کا ذمہ دار ہے جس کا سد باب سخت کاروائی کا متقاضی ہے ،اعلی افسران کی کاروائی بیان بازی کی حد تک محدود رہونے کے سبب کرپٹ پولیس مافیا کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے ،اگر کسی ایک واقعہ کو ٹیسٹ کیس بناتے ہوئے ملزمان کو نشان عبرت بنادیا جائے تو پولیس گردی کے واقعات میں کمی لائی جاسکتی ہے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.