Daily Taqat

فنڈز کیوں رکتے ہیں؟

سیاسی گروپوں میں محبت و یگانگت ہوتوعوامی مسائل کے ساتھ ساتھ علاقے کے مسائل بھی حل ہوسکتے ہیں مگراس کیلئے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھنا ضروری ہوتا ہے مگرسیاسی ماحول میں ہرکوئی اپنی چودھراہٹ بنانے میں کرسی پرقابض رہنے میں کسی حد تک جاسکتے ہیں میں آج اپنے قارائین کو جتوئی کے بارے میں کچھ بتاتا ہوں کہ یہ علاقہ جتوئی کیوں ہے اور اس میں سیاسی تبدیلیاں کیوں آئیں تو بات کرتے ہیں جتوئی کو آخرجتوئی کیوں کہاجاتا ہے تو اس کی وجہ جتوئی خاندان ہے جس کے وڈیرے نذرمحمدخان نے جتوئی کوتحصیل کا درجہ دلوایااس کے بعد تحصیل جتوئی میں کو گرلزوبوائزڈگری کالج تعمیرکیے گئے ۔2008کے الیکشن میں پی پی پی کے ٹکٹ سے جیت کر سردارعبدالقیوم جتوئی نے ڈیڑھ کروڑ ارب روپے کا خطیرفنڈمنظورکرایا جو جتوئی کے علاقہ کیلئے کسی تحفہ سے کم نہ تھااور2013کے الیکشن تک 80%کام مکمل بھی ہوگیا مگرجگہ جگہ گڑھے اور پی پی پی کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے لوگوں کی ناراضگی نے اس منصوبے کو ٹھپ کردیااور جتوئی عوام کی بدقسمتی کی بخاری صاحبان کے جیتنے کے بعد انہوں نے اس منصوبے کوکامیاب بنانے کے بجائے اس میں نقص نکالے اور یہ منصوبہ مکمل نہ ہوسکا مگرسہیل غوری جیسے وفاداروں نے سپریم کورٹ میں یہ کیس لے گئے جس کی وجہ سے جتوئی کے کچھ علاقوں کو سوئی گیس مل رہی ہے مگراکثرعلاقے محروم ہیں جن کا کریڈٹ سراسربخاری گروپ کوجاتا ہے کیوں کہ اگریہ منصوبہ کامیاب ہوتا تو اس کا کریڈٹ جتوئی گروپ کو جاتا اور بخاری گروپ کا اقتدار نہ آنے کا ڈر تھا۔میں اپنے قارائین کو بتاتاچلوں اس وقت کے ایم پی اے سردارخان محمدجتوئی کوڈیڑھ سال معطل کیا گیا جس کی وجہ سے ان کے خطیرفنڈز بھی روک دیے گئے جو 60سے 70کروڑ کے لگ بھگ بنتے تھے کہاجاتا ہے ان کے اس وقت کے حلیف اور بعد میں حریف بخاری گروپ نے رکوادیے اس علاقہ ترقی میں حوالے سے مندہ چل رہا ہے ویسے تو کوئی کام ہوتا نہیں اگرکوئی کام ہونے بھی لگ جائے تو ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے ہوئے اس علاقے کے قائدین اپنے مفاد کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں بخاری گروپ کے اسی وجہ سے خان محمدجتوئی نالاں ہوئے اور بلدیاتی الیکشن میں اپنی بیگم کو چیئرمین شپ کا امیدوار بنا کھڑا کیااور وائس چیئرمین شپ جتوئی گروپ کو دلوادی جس سے محسوس ہوتاتھا کہ دونوں جتوئی صاحبزادوں میں پیجپ ہوجائے گا مگرسیاست ہے کچھ بھی چلتا ہے جس کا نتیجہ جنرل الیکشن میں الٹ ہی نکلاکیوں کہ جتوئی گروپ کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ ملا تو ایم این اے معظم علی جتوئی کھڑے ہوئے اور ضیاءاللہ جتوئی کوپی پی 272کی ٹکٹ دے دی اس کے بعد جتوئی گروپ کے چیف سردار عبدالقیوم جتوئی نے پی پی 275میں بخاری گروپ کے حلیف اور چنوں خان کے صاحبزادے کے خلاف میدان سجایاجس کے نتیجہ سے سردارخرم سہیل نے عبدالقیوم کوہراکران کو RESTکامشورہ دیاسردارخرم اور بخاری گروپ کی جیت کاسہراچنوں لغاری کے عوامی لیڈرہونے کی بدولت ہوااور بیٹے کی جیت ان کی اپنی ہی جیت ہے چونکہ چنوں لغاری کے چودھری پرویز الٰہی اور چودھری سرور کےساتھ ذاتی مراسم ہیں اور پی ٹی آئی میں کافی دیرسے شامل ہیں تو بڑی شان کے ساتھ خرم لغاری کو پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بنایاتواس نوجوان کو وزارت تونہ دی گئی مگروزیراعلٰی پنجاب کا معاون خصوصی بنا دیا گیاجس کے بعدان کا اپنے علاقے میں آمد پر والہانہ استقبال کیا گیا ۔اپنے قارائین کو یاد دلاتاچلوں سردارخرم خان لغاری کا منشور تھا 1۔ الگ صوبہ کا قیام2۔تحصیل جتوئی میں یونیورسٹی کا قیام3۔کرمدادقریشی سے علی پور ون وے روڈ کی تعمیر4۔تحصیل جتوئی کے تمام ملحقہ علاقوں میں سوئی گیس کی فراہمی5۔میرہزارخان میں گرلزوبوائز ڈگری کالجز کاقیام6۔بکائنی میں گرلزوبوائز ہائی سکولز اورہسپتال کا قیام7۔تحصیل ہیڈکوآرٹرہسپتال،رورل ہیلتھ سنٹرشہرسلطان کی اپ گریڈیشن8۔مظفرگڑھ تاترنڈہ ون وے روڈ9۔تحصیل جتوئی کے تمام ہیلتھ سنٹرز کی اپ گریڈیشنز10۔تحصیل جتوئی کی تمام رابطہ سڑکوں کی از سرنوتعمیر11۔دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پرلنڈی پتافی،رام پوراورجھگی والا میں سپربندکی تعمیر12۔دریائے سندھ کے کٹاﺅ سے متاثرین کی مستقل بحالی13۔تحصیل جتوئی میں صاف پانی مہیا کرنے کیلئے فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب14۔تحصیل جتوئی کے تمام دیہی علاقوں میں بجلی کی سپلائی میرامقصداپنے قارائین کو منشوریاددلوانے کے ساتھ ساتھ معاون خصوصی وزیراعلیٰ کوبھی یاددلانا تھا کہ آپ نے اپنے علاقے سے جووعدے کیے ہیں وہ وفا ضرورکرنا ورنہ عوام بڑی بے وفا ہے میں یہ نہیں کہتا کہ آج سے کام شروع ہوکیوں کہ حکومت کو ابھی چندماہ ہی تو ہوئے ہیںمگرآپ نے الیکشن سے پہلے اور اب تک لوگوں کے دلوں میں جوجگہ بنائی ہے وہ ہمیشہ قائم رکھنااسی لیے تخت لہور کوبھول کے اپنوں کو زیادہ ترجیح دینا تاکہ اپنے غیرنہ بنیں۔اللہ ہمارااور آپ کا حامی وناصرہو آمین آخر میں میںتمام سیاستدانوں سے صرف اتنا کہوں گا کہ خدارا آپ الیکشن لڑیں آپ ہی جیتیں مگراپنی اس جنگ میں معصوم عوام کو مت پسیں اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور ایک دوسرے کو براثابت کرنے کیلئے علاقے کے فنڈز کے دشمن نہ بنیں کیوں کہ آپ بھی اسی علاقے میںرہتے ہیں اور شایدآپ کے بچے بھی یہیں پررہتے ہوں۔
اگرکچھ سمجھ آیاٹھیک ورنہ شاعر کی زباں سے سنیں:
کوئی مرجائے کسی پریہ کہاں دیکھا ہے !!!!
جایئے جایئے سرکارہم نے بھی جہاں دیکھا ہے


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »