جب شیطان قید ہوگیا

سبزی منڈی میں رمضان مبارک کی آمدکاجشن بپا تھا۔ لاﺅڈ سپیکر پر اونچی آواز میں ”آمد رمضان مرحبا“ کے ترانے گائے جارہے تھے۔ ہرطرف ایک ایمان افروز منظر آنکھوںکوخیرہ کر رہا تھا۔ سبزی منڈی کا ہر آڑھتی اور دوکاندار ایمان کی دولت سے مالامال اللہ تعالیٰ سے گریہ وزاری سے یہ دعائیں مانگ رہا تھا کہ اے اللہ! سال کے بارہ کے بارہ مہنے رمضان کیو نہیں ہو تاہے ۔ سب دوکانداروں نے احترام رمضان میں رنگ برنگی ٹوپیوں سے سر دھانپے ہوئے تھے۔ یہ جذبہ¿ ایمانی دیکھ کر بھولے کو اپنے خطاکار ہونے پر سخت شرمندگی ہورہی تھی وہ بھی خواہش کررہا تھا کہ کا ش وہ بھی اتنا مومن ہو تا کہ اس سبزی منڈی کا آرھتی نہ سہی کم از کم چھوٹا دوکاندار ہی ہو تا تاکہ ” سو روپے کی سبزی یا فروٹ آسانی کے ساتھ تین سو رو پے میں فروخت کر سکتا“


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »