اہم خبرِیں
امریکی شہر کیلی فورنیا میں کورونا نے تباہی مچا دی پاکستان نیوی کے بحری بیڑے میں نئے اور جدید بحری جنگی جہازپی ای... معاشرے میں بگاڑ کے اسباب ”کشمیریوں کی زندگی کی بھی اہمیت ہے“ مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے پاکستان ترقی کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب، اقوام متحدہ کی رپورٹ... امریکی بحری جنگی جہاز میں دھماکا، 21 افراد زخمی سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پرمیزائلوں سے حملہ دنیا بھر میں آج یومِ شہدائے کشمیر منایا جائے گا پاکستان فرانسیسی شعبہ زراعت اور شعبہ حیوانات کی مہارت سے استفا... میر شکیل الرحمان کی ہمشیرہ کے انتقال پر سی پی این ای کا تعزیت ... شمالی وزیرستان، پاک فوج کا آپریشن، چاردہشت گرد جہنم وصل گھوٹکی ٹرین حادثے کو پندرہ سال بیت گئے پاکستان میں کورونا کے 2 ہزار 521 نئے کیسز،74 اموات انگلستان کی پاکستان میں ڈھائی لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری آیاصوفیہ مسجد کی کہانی ” آپ ایسا کریں کہ آپ کل آ جائیں“ اسٹیٹ بینک کےقوانین کی خلاف ورزی پر 15 کمرشل بینکوں کو بھاری ... ایرانی سیبوں کی درآمد، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر 22 درا... شاہد آفریدی کا کورونا میں مبتلا بچن خاندان کے لیے نیک خواہشات ...

کیسی حقیقت کیسا افسانہ

اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی طرح ایران اور سعودی عرب صلح کر لیں تو مسلم دنیا ”خانہ جنگی“ سے باہر نکل آئے گی۔ عرب اور عجم کی لڑائی نے مسلمانوں کو تقسیم کر رکھا ہے۔ عرب اور فارس کی تقسیم نے لوگوں کو فرقوں میں بانٹ رکھا ہے۔ایک بڑی لڑائی کا خاتمہ ہو سکتا ہے اس میں کوئی دو رائے نہیںکہ اگر مسلمانوں کو دنیا میں اپنی عزت’ بحال“ کرنا ہے تو اپنی اندرونی لڑائیوں کو ختم کرنا ہو گا۔مسلمان ملکوں کی اور فرقوں کی آپسی لڑائی میں ہی یہود و ہنود کا فائدہ ہے ۔
سعودی عرب اور ایران براہ راست جنگ بھی نہیں کرتے بلکہ دوسرے ملکوں میں” پراکسی وار“ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان ان چند ایک اسلامی ملکوں میں سے ہے جودونوں سے برابری کے تعلقات چاہتا ہے ۔
بادی النظر میں پاکستان اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ سعودی اور یمن میں ثالثی کا کردار ادا کر سکے اور دونوں ملکوں نے اس بات کا بھی اشارہ بھی نہیں دیا کہ وہ پاکستان کو ثالث کے طور پر قبول کرنے کو تیا رہیں ۔ثالثی تو وہ کراتا ہے جو دونوں سے زیادہ طاقت ور ہو جس کی دونوں فریقین سننے کو بھی تیار ہو جائیں ۔
اگر تو خان صاحب نے صرف اپنے ذہن میں سوچا ہے کہ یمن اور سعودی عرب کی صلح ہونی چاہیے اور اگر یہ صلح ان کے ذریعے ہو جائے تو وہ مسلم امہ کہ سب سے بڑے لیڈر بن جائیں گے، دنیا انکے قدموں میں بچھ جائے گی تو ایسا سوچنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
خان صاحب باتیں بڑی اچھی کر لیتے ہیں انکی باتیں اور دعوے لوگوں کو متاثر کرتے ہیںاوروہ زیادہ دیر کوئی بات دل میں نہیں رکھتے بلکہ بات” اُگلے“ بنا نہیں رہتے ۔لیکن تادم تحریر نہ سعودی عرب نے ان کے دعوے پر کوئی ری ایکشن دیا ہے نہ یمن کی طرف سے اس اعلان کا خیر مقدم کیا گیا اور نہ ایران نے اسکو کوئی اہمیت دی ہے، کوئی تردید بھی نہیں آئی ۔کیا ہمارے وزیراعظم کے بیان کی اتنی بھی اہمیت نہیں کہ کہیں سے کوئی رسپانس ملتا ؟پھر ڈینگیں مارنے کی کیا ضرورت تھی ؟
اگر تو سعودی عرب اور یمن اس بات پر اعلان کر دیں کہ انہیں پاکستان کی ثالثی قبول ہے تو یہ اچھی بات ہے عمران خان پہلے ہی ”پاپولر “ ہیں پوری قوم کے ہیرو ہیں پھر مسلم ممالک کے بھی ہیرو بن سکتے ہیں ۔
ایک طرف تو خان صاحب” ثالثی کے بلند و بانگ دعوے کر رہے ہیں تو دوسری جانب خان صاحب یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اپوزیشن ان سے اپنے مقدمات اور جرائم کے حوالے سے” ریلیف “مانگ رہی ہے ۔یہ نہیں معلوم کہ براہ راست مانگ رہی ہے یا بالواسطہ مانگ رہی ہے مگر مانگ رہی ہے ۔وہ ”ریلیف “جسکا نام آج کل” این آر او“ ہے، اب سوال یہ ہے کہ سعودی عرب میں آخر ایسا کیا ہوا کہ وزیراعظم جب سے واپس آئے ہیں ” این آر او“ نہ دینے کا اعلان کر رہے ہیں؟ ان کے وزراء نوازشریف کو دوبارہ جیل بھیجنے کے دعوے کر رہے ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ نوازشریف کی رہائی نے حکومت کو پریشان کر رکھا ہے۔
اور یہی وہ ہڈی ہے جو نہ اگلی جا رہی ہے نہ نگلی جا رہی ہے۔ کبھی یہ دھمکی دی جاتی ہے کہ این آر او نہیں دیں گے اور کبھی یہ کہا جا رہا ہے کہ پھر سے جیل ہونے والی ہے ۔
خان صاحب چاہتے ہیں کہ انکے راستے کہ سارے” سیاسی کانٹے “ختم کر دیئے جائیں ۔سارے شریف اور سارے زرداری ”ما ئنس“ کر کے جیل میں ڈال دئیے جائیں یا پھر نظروں سے اوجھل کر دیئے جائیں اور صرف ان کو ”پلس“(انگریزی والا) رکھا جائے۔
جبکہ طاقت ور حلقے کچھ اور سوچ رہے ہیںجن کا خیال یہ ہے کہ عمران خان پر دباﺅ رکھنے کے لئے نوازشریف اور زرداری کو سیاست میں رہنا چاہیے ۔ انکا خیال ہے کہ اگر عمران خان پر پریشر بنا رہے تو وہ قابو میں رہیں گے لیکن اگر نوازشریف اور زرداری کا کانٹا مکمل طور پر نگل گیا تو عمران خان کو قابو کرنا مشکل ہو جائے گا ۔ یہی بات خان صاحب کو پریشان کر رہی ہے ۔اور وہ اس وقت ”مضطرب“ کہ دونوں سیاسی مخالفین کے معاملات کو حتمی انجام تک پہنچایا جائے ۔زرداری اور نواز شریف کو کھلے عام گھومتے پھرتے دیکھ کر انہیں یہ بھی لگتا ہے کہ کہیں کوئی ڈیل تو نہیں ہو رہی جسے این آر او کہتے ہیں۔ خان صاحب کو یہی خدشہ ہے کہ طاقت ور حلقے کہیں ”بالاہی بالا“ انہیں ریلیف نہ دے دیں اور وہ” حفظ ماتقدم “کے طور پر ابھی سے دباو¿ بڑھا رہے ہیں۔
جو” این آر او“ مشرف نے دیا تھا وہ 90 کی دہائی میں ہونےوالی گندی سیاست کے خاتمے کے لیے سیاسی جماعتوں میں ”چارٹر آف ڈیمو کریسی‘ ہونے کی وجہ سے دیا گیا چونکہ سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے پرجھوٹے اوربوگس مقد مات بنا رکھے تھے ۔ سیاست بری طرح ذاتی انتقام سے آلودہ ہوچکی تھی۔ پی پی پی اور ن لیگ دنوں اخلاقیات کی نچلی سطح پر لڑ رہے تھے” این آر او“ سے اس ”گند“ کو صاف کرنے کی کوشش کی گئی بیوروکریسی نے بڑی چالاکی کےساتھ خود کو بھی اس میں مستفید کر لیا ۔
”چارٹر آف ڈیمو کریسی‘نے یہ تاثر پیدا کر دیا تھاکہ اب دونوں جماعتیں کبھی آپس میں نہیں لڑیں گی، ایک دوسرے کی حکومت کو گرانے کے لیئے آخری حدوں کو نہیں چھوئیں گی۔ ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کیاجائے گا لیکن یہ بات کچھ اور طاقت ور حلقوں کو پسند نہیں آئی جنہوں نے اس تصور کو فروغ دینا شروع کر دیا کہ یہ دونوں تومل گئے ہیں اور نہوں نے نظام پر قبضہ کرلیا ہے، اگر یہ دونوں جماعتیں طاقت پکڑ گئیں تو یہاں امریکہ اور برطانیہ کی طرح” دو جماعتی نظام“ حکومت بن جائے گا۔ اصل خرابی یہ ہو گی کہ ان جماعتوں پر دو خاندان قابض ہوں گے یا تو ان جماعتوں کو خاندانوں سے نجات دلائی جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ خاندان بادشاہ بن جائیں گے اور عوام ان کے غلام ۔ اسی لیے نوازشریف کو ”بادشاہ سلامت‘ قرار دے کر ان کے خلاف” پروپیگنڈہ “کیا گیا ۔اور اسی نظریے کے تحت انہیں فارغ کردیا گیا ۔یہ زمینی حقائق ہیں لیکن آج جس این آر او کی بات کی جا رہی ہے وہ سیاسی مخالفین کو بدنام کرنے کا پروپیگنڈہ ہے ۔
اپوزیشن بار بار سوال کر رہی ہے کہ ” این آر او“ مانگنے والے کا نام بتایا جائے ،کس سے مانگا جا رہا ہے یہ بھی بتایا جائے ۔لیکن حکومت ہنوز اس کا جواب نہیں دے سکی اور آئیں بائیں شائیں مار رہی ہے۔جس سے لگتا ہے کہ حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے این آر او کو ڈھال کے طور پر استعمال کر ے گی ۔ حکومت اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرس سے بھی خائف نظر آ رہی ہے۔بادی النظر میں حکومت نے اپوزیشن کی متوقع صف بندی کے جواب میں این آر او کا ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،اورحکومت یہ موقف اختیار کرے گی کہ اپوزیشن کچھ بھی کر لے این آر او نہیں ملے گا۔ سب کو معلوم ہے کہ ” این آر او“ کون دے سکتا ہے ۔ اور جب وہ فیصلہ کر لیں گے توانہیں ” ناں“ نہیں ہوتی۔
مسئلہ صرف یہ ہے کہ اس بار ”این آر او“ لینے والا کوئی نہیں ۔بادی النظر میں اس کا مقصد صرف ایک نظر آتا ہے کہ نوازشریف تینوں اڈیالہ دا واسطہ اے باہر چلا جا۔آپ وی خوش رہ سانوں وی خوش رہن دے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.