مہنگائی کا جن کس کروٹ بیٹھے گا۔۔

پاکستان میں آمریت ہو یا جمہوریت عوام صرف ریلیف چاہتے ہیں ۔ مہنگائی کے سیلاب سے بچنا چاہتے ہیں ۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں سے بھی عوامی توقعات یہی تھیں لیکن وہ دونوں عوام کو ریلیف نہیں دے سکے البتہ پرویز مشرف کا دور ایسا دور تھا جس میں انہیں مہنگائی میں کمی کے علاوہ وہ اشیاءخریدنے کا بھی حوصلہ ہوا جو انکی دسترس میں نہیں تھی۔ آسانی سے گاڑیاں ، موٹر سائیکل ، رکشے ، ایئر کنڈیشنڈ مل جاتے تھے جو آسان اقساط پر مل جاتے تھے۔ لیکن ان اشیاءکی آسانی سے پٹرول کی کھپت بڑھ گئی ۔ بجلی کا استعمال بڑھ گیا ۔ پرویز مشرف کے ہی دور میں بجلی کا بحران بھی پیدا ہوگیا۔ آنے والی پی پی پی کی حکومت بھی سی این جی اور پٹرول کی قیمت بڑھانے کے ساتھ ساتھ بجلی کے بحران میں بھی اضافہ کرتی چلی گئی۔ن لیگ کی حکومت آئی تو ان اشیاءمیں کمی تو آئی لیکن لوڈ شیڈنگ اور بجلی کا بحران برقرار رہا۔ اسوقت کنٹینر پر موجود تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے وعدے اور عوام کو رعایتوں کے اعلانات میں بہت کشش تھی اور عوام کو یقین ہوگیا تھا کہ عمران خان کی حکومت انکے لئے آئیڈیل ہوگی۔ رواں سال کے انتخابات میں انکی یہ امید بر آئی ۔ انکی جیت پر بہت سے سوالیہ نشان ہیں تاہم ہم اس بحث میں جانا نہیں چاہتے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد عمران خان نے وزیر اعظم ہاﺅس نہ جانے اور کفایت شعاری کا اعلان کرکے عوام کے دل بھی جیت لئے۔ وزیر اعظم ہاﺅس کی بھینسیں اور گاڑیاں نیلام کرنے سے بھی ایک نئے پاکستان اور تبدیلی کی امیدبھی بندھی۔ یہ محسوس ہونے چلا تھا کہ اب نیا پاکستان تبدیلی اور عوام کا پاکستان بنے گا۔ لیکن عوام کے خواب چکنا چور ہوگئے۔ جب سی این جی کی قیمت پاکستان کے ریکارڈ میں پہلی بار پٹرول سے زیادہ ہوگئی۔ گیس کی قیمت سر چڑھ کر بولنے لگی ۔ صنعتوں کو مہنگی گیس ، مہنگی بجلی اور مہنگا ایندھن دینے کا اعلان کرنے کے بعد کنٹینر سے آئی ایم ایف پر لعنت بھیجنے والے اب آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ اسکی شرائط پر ڈاﺅن سائزنگ ، نجکاری ، محکمہ جات کو آﺅٹ سورس کر رہے ہیں ۔ پچاس لاکھ گھر بنانے کے لئے کراچی کے پاکستان کوارٹرز، مارٹن کوارٹرز، جہانگیر روڈ اور ایف سی ایریا کو سرکاری گھروں سے خالی کرکے انہیں بے دخل کیا جا رہا ہے۔ جبکہ اب پٹرول کی قیمت میں بھی ہوشربااضافہ کردیا گیا ہے۔ اگر اس پر ایک نگاہ ڈالی جائے تو سی این جی کی قیمتوں میں تاریخ کا سب سے بڑے اضافے کیا گیا ہے ۔ جسکے تحت فی کلو 22روپے اضافہ کیا گیا ہے ۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں سی این جی کی قیمت 103سے 104روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے ۔ یہ عمل تبدیلی کے خواہش مند عوام کے لئے افسوسناک اور انکی سوچ کے بر خلاف ہے قاعدے کے مطابق سی این جی کی قیمت پٹرول کی قیمتوں سے 30فیصد سستی ہونی چاہئے۔ لیکن حکومت نے اس پالیسی کی بھی نفی کردی ہے۔ جس پر عوام متذبزب ہیں ۔عوام میں یہ سوچ جنم لے رہی ہے کہ آئی ایم ایف کو خوش کرنے کے لئے عوام کو مہنگائی اور انکی کمر توڑنے والے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔سی این جی کی قیمتوں میں ہو شربااضافے کے بعد ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے نے بھی عوام کو اذیت میں مبتلا کردیا ہے اور مسلسل مہنگائی میں ا ضافہ عوام کےلئے باعث حیرت ہے ۔ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ بھی عوام کےلئے درد سر سے کم نہیں ۔ملک کی معیشت کے حوالے سے پہلے ہی صورتحال دگر گوں ہو رہی ہے۔ حکومت سے عوام دشمن مہنگائی، اضافوں میں کمی اور عوام دوست اقدامات کی توقع رکھنے والی عوام ماضی کی حکومتوں کواچھا کہنے پر مجبور ہو رہی ہے۔ حکومت نے چیف جسٹس آف پاکستان کی اس تجویز پر کہ زرعی ٹیکس لگایا جائے عمل نہیں کیا ہے کیونکہ عمران خان کے اردگرد بھی جاگیردار اور وڈیرے ہیں ۔ اسی طرح گیس کے بعد بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نے عوام کے ہوش اڑادیئے ہیں۔ گھریلو ، تجارتی اور صنعتی صارفین کے لئے بجلی 10سے 15فیصد تک مہنگی کردی گئی ہے ۔ اسکا اثر براہ راست عوام پر پڑے گا کیونکہ گیس مہنگی ہو یا بجلی یا پٹرول اسکا نزلہ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی شکل میں عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کے الیکٹرک نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ اوور بلنگ ، غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے بعد اب بڑے بریک ڈاﺅنز کی روایت بنا لی گئی ہے۔ عوام کے الیکٹرک کی کارکردگی سے بیزار ہیں۔ بجلی کے بریک ڈاﺅنز بھی عوام کوسازش لگتے ہیں۔ جسکی تحقیقات ہونی چاہئے کہ اصل محرکات کیا ہیں۔ بجلی کے بار بار بریک ڈاﺅنز سے عوام کرب و اذیت کا شکار ہیں اور ان میں اشتعال بھی پایا جاتا ہے۔ اسی طرح اسٹیٹ لائف اور ایچ بی ایف سی کی نجکاری کی جا رہی ہے۔ جبکہ عمراں خان تو اسکے برخلاف باتیں کرتے تھے۔ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ ماضی کی پیش رو پالیسیوں کو اپنا یا جا رہا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.