Latest news

خیر سگالی کا جواب خیر سگالی!

دنیا میں اس وقت جتنے بھی علاقائی تنازعات عالمی امن کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں وہ کسی نہ کسی طور مسلمانوں ہی کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں۔ ایسا ہی ایک تنازع یمن کا کئی سال سے چل رہا ہے، مگر ختم ہونے کے بجائے روز بروز سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے خاتمے کے لئے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام اپچھلے سال اسٹاک ہوم معاہدہ ہوا تھا، مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ یمن کی حکومت کے خلاف بغاوت برپا ہے جس میں سرکاری فوج کو سعودی عرب اور باغیوں کو ایران کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یمن کی خانہ جنگی نے اپنی سرحدوں سے نکل کر بحیرہ احمر اور سعودی عرب کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ باغیوں نے میزائلوں سے حملہ کر کے سعودی آئل تنصیبات کو نقصان پہنچایا ،جبکہ بحیرہ احمر میں ایران کے تیل بردار ٹینکر کو مبینہ طور پر مخالف فریق نے آگ لگا دی، اس سے دو بڑے اسلامی ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہیںاس وقت ایران سعودی عرب اور ایران امریکہ تعلقات کشیدگی کی بدترین سطح پر ہیں۔ جنگ کے بادل چھٹنے کے بجائے مزید گہرے ہو چکے ہیں، جنگ کی صورت میں خطے کا امن بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ بدامنی عالمی امن کو بھی لپیٹ میں لے سکتی ہے ۔اس صورتحال کے تناظر میں کسی نے تو خطے کو ممکنہ تباہی سے بچانے کیلئے آگے آنا تھا، وزیراعظم عمران خان نے ثالثی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا جس میں کامیابی کے امکان روشن ہیں ۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اس خطے کا ایک ملک اور اس کا لیڈر ثالثی کیلئے سامنے آیا جو صورتحال کو بہت اچھی طرح جاننا اور سمجھتا ہے۔ عرب و عجم کو ایک صف میں لاکھڑا کرنا عمران خان کا تاریخی کارنامہ ہو گا۔
اس وقت مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں اور پاکستان کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ اگر اب سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا تو یہ مسلم امہ کے لیے بہت بڑا دھچکا ہو گا۔ انتشار اور افراتفری کے اس دور میں مسلم امہ سعودی عرب اور ایران کے اختلافات اور کشیدگی کی متحمل نہیں ہو سکتی، مسلم دنیا میں پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے‘ اس کے سعودی عرب اور ایران کے ساتھ گہرے برادرانہ تعلقات ہیں،دونوں مسلم ممالک کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے موقع پر پاکستان نے نہایت دانشمندانہ کردار ادا کیا اور کسی ایک مسلم ملک کے حق میں یکطرفہ کردار ادا کرنے اور کشیدگی کو ہوا دینے کے بجائے مثبت پالیسی اپناتے ہوئے دونوں مخالف برادر مسلم ممالک کو کشیدگی سے دور رہنے اور پرامن مذاکرات کے لیے اپنے اختلافات ختم کرنے پر زور دیا،یہی سبب ہے کہ دونوں مسلم ممالک پاکستان کے کردار کی تعریف اور اس کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں پوری مسلم دنیا میں صرف پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے متحرک ہو چکا ہے۔وزیر اعظم عمران خان اور ایرانی قیادت کے درمیان ملاقات کا اعلامیہ بتاتا ہے کہ خلیج میںامن و سلامتی کے فروغ کے لئے پاکستانی کوشش کی پذیرائی ہورہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور صدر حسن روحانی سے ایران سعودیہ کشیدگی ہی نہیں پاک ایران تجارتی و سیاسی تعاون پر بھی تفصیل سے بات کی ہے۔ وزیر اعظم نے ایرانی قیادت پر واضح کیا کہ پاکستان کسی کے کہنے پر نہیں، بلکہ ازخود دو برادر مسلم ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لئے کام کر رہا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور صدر حسن روحانی نے قیام امن کے لئے پاکستان کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے یقین دلایا کہ مثبت رویہ کا جواب مثبت ہو گا۔ عمران خان کو صدر ٹرمپ نے بھی ایران امریکہ تعلقات معمول پر لانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کر رکھی ہے جس کا ایران نے خیرمقدم کیا ہے۔ ایران سعودی عرب اور ایران امریکہ تعلقات کی بحالی بہت بڑے چیلنجز ہیں، توقع ہے کہ عمران خان اس امتحان میں سرخرو ہوں گے۔
بلا شبہ وزیراعظم عمران خان کا ثالثی مشن مسلم امہ کے وسیع تر مفاد میں ہے اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ یہ ثالثی مشن کامیاب ہو گا ۔اگر وزیر اعظم امریکہ اور ایران کے مابین اختلافات کو کم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اس کے اثرات پوری دنیا پر مثبت انداز میں مرتب ہوں گے۔ اچھی بات یہ ہے کہ امریکہ‘ سعودی عرب اور ایران پاکستان کے مصالحتی مشن کی حمایت کر رہے ہیں۔ سفارتی تنہائی کے طعنے سننے والے پاکستان کو خطے اور عالمی امن کے لئے بھر پور تائید ملنا ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کو علاقائی طاقت کے طور پر ایک کردار مل رہا ہے۔ بھارت اپنی تجارتی قوت اور منڈی کی بنیاد پر خود کو علاقائی طاقت تسلیم کرانے کی تگ و دو میں ہے۔ یقینا پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی فعال حکمت عملی نے یہ موقع تخلیق کیا ہےپا کستان ،ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی سے زیادہ سہولت کاری کا کردار ادا کررہا ہے، ایران کی طرح سعودی عرب نے بھی مثبت ردعمل ظاہر کیاہے۔ عمران خان امن مشن میں خیرسگالی کے جواب میں خیر سگالی کا پیغام خوصلہ افزا ہے،فریقین کے درمیان امن کے امکانات موجود ہیں، اگلے مرحلے میں تمام فریق اختلافی امور کی نشاندہی کر کے ان کو طے کرنے کے طریقہ کار پر بات کر سکتے ہیں۔ ہم جس دنیامیں رہتے ہیں، یہ اثرورسوخ سے فوائد کشید کرنے کی دنیا ہے۔ افغانستان میں قیام امن کے لئے کردار ادا کرنے کے بعد خلیج میں پاکستان کا نیا کردارتجارتی‘ معاشی اور سیاسی فوائد کی نئی صورت گری کر سکتا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.