Latest news

ہم اور مسئلہ کشمیر

پاکستانی وزیر اعظم کے امریکہ کے دورے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سے زیادہ بار کشمیر کے مسلئے پر ثالثی کے لیے رضامندی کا اظہار کیا ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کشمیر کے معاملے میں سب کچھ ’بہت ٹھیک’ نہیں ہے۔پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے جو تلخی آئی تھی وہ بھی عمران خان کے واشنگٹن دورے سے بظاہر پگھلتی نظر آ رہی ہے۔ ایسے میں انڈیا کسی قسم کی حوصلہ مند پیش قدمی سے گریز کرے گا۔
دوسری جانب اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) نے انڈیا اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرے۔او آئی سی نے ایک ٹویٹ میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال سمیت یہاں پیراملٹری فورسز کی تعیناتی اور انڈین فوج کی جانب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شہریوں کو ممنوعہ کلسٹر بموں سے نشانہ بنائے جانے پر اسلامی تعاون تنظیم کو انتہائی تشویش ہے۔کشمیر کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے کے جسے انگریز نہ حل ہونے کے لئے چھوڑ گیا ہوا ہے۔اور میرے ناقص خیال کے مطابق یہ کب کا حل ہو بھی چکا ہوتا مگر اس کے نہ حل ہونے میں بڑے بڑوں کی دال روٹی شامل ہے اور کئی قسم کے مفادات بھی۔وہی بات کے “ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی”۔میں کچھ عرصہ قبل جسٹس جاوید اقبال کا انٹرویو س±ن رہا تھا جس میں انہوں نے کشمیر کے بارہ میں بڑی مفید باتیں کہی تھیں۔ مثلاً ا±ن کا کہنا تھا کہ دونوں ملک کشمیر کے حوالے سے اپنے اپنے علاقوں سے دستبردار ہو جائیں اور اسے آزاد ریاست کے طور پہ دنیا کے سامنے ابھرنے دیں۔ اور اگر ایسا ہو جائے تو کشمیر اشی کا سوزرلینڈ بن سکتا ہے۔ اور اس خطے میں بڑی ترقی ہو سکتی ہے۔ لیکن کچھ طاقتوں کو یہ کبھی منظور نہیں ہو گااور کوئی جسٹس جاوید اقبال کی ان باتوں سے متفق ہو نہ ہو مگر میں تو ضرور ہوں۔ کیونکہ یہ باتیں دل کو لگتی ہیں۔ کاش کہ ان باتوں پہ کوئی سوچے۔
میں نے ایک دانشور سے جب جسٹس صاحب کی یہ باتیں ڈسکس کیں تو وہ کہنے لگے کہ جناب طلعت صاحب یہ سب باتیں کتابی ہیں جو جسٹس صاحب کر گئے ہیں اور وہ بھی عمر کے آخری حصے میں۔ بہرحال اِن کو عملی جامہ پہنانا تقریباً ناممکن ہے۔پتہ نہیں کیوں مجھے ان دانشور کی باتوں سے یہ لگا کہ جیسے “نہ نو من تیل ہو گا، نہ رادھا ناچے گی”۔اب آخر میں رہ گئی بات ٹرمپ کی کشمیر کے معاملے پہ ثالثی کروانے کی آفر کرنے کی تو جناب بات یہ ہے کے ریچھ کیا ثالثی کروائے گا؟حماقت کی بھی کوئی آخری حد ہوتی ہے۔ٹرمپ ثالثی کروائے گا؟ ثالثی ہمیشہ غیر جانبدار ایمپائر کرواتا ہے۔ کیا ٹرمپ واقعی غیر جانبدار ہے؟کیا یہ ویسی ہی ثالثی ہوگی جیسی کہ ریڈ کلف نے تقسیم ہند کے وقت کی تھی؟۔اب آپ ہی بتائیں میں اور کیا کہوں؟


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.