اہم خبرِیں
مریخ پر پانی سے بھرے سمندرکبھی نہیں تھے، سائنسدان گلوکار بلال سعید نے مسجد میں گانے کی ریکارڈنگ پر معافی مانگ لی ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع کی جائے، عرب ممالک بل گیٹس نے پاکستان کی کورونا کے خلاف کامیابی کو تسلیم کر لیا کورونا سے نمٹنے میں پاکستان دنیا کے لیے مثال ہے، اقوام متحدہ مسجد وزیرخان میں گانے کی عکس بندی، منیجر اوقاف معطل چمن، بم دھماکہ 5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی حب ڈیم، پانی کی سطح میں ریکارڈ اضافہ لاک ڈاؤن کے بعد کراچی میں تفریحی مقامات کھل گئے سپریم کورٹ کا کراچی سے تمام بل بورڈز فوری ہٹانے کا حکم پاکستان کو اٹھارویں ترمیم دی اس لیے مقدمات بن رہے ہیں، ، زردار... وفاق کے اوپر کوئی وزارت نہیں بن سکتی، اسلام آباد ہائی کورٹ پاکستان پوسٹ آن لائن سسٹم سے منسلک اختیارات کا ناجائز استعمال، چیئرمین لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ر... موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گندم کی پیداوارکم ہوئی، وزیراعظم اسٹاک مارکیٹ، کاروباری حجم 4 سال کی بلندترین پرپہنچ گیا سائنسی انقلاب، مرے ہوئے شخص سے "حقیقی ملاقات" ممکن آمنہ شیخ نے دوسری شادی کرلی؟ آئی سی سی کی نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری افغانستان لویہ جرگہ، 400 طالبان کی رہائی کی منظوری

ہم اور مسئلہ کشمیر

پاکستانی وزیر اعظم کے امریکہ کے دورے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سے زیادہ بار کشمیر کے مسلئے پر ثالثی کے لیے رضامندی کا اظہار کیا ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کشمیر کے معاملے میں سب کچھ ’بہت ٹھیک’ نہیں ہے۔پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے جو تلخی آئی تھی وہ بھی عمران خان کے واشنگٹن دورے سے بظاہر پگھلتی نظر آ رہی ہے۔ ایسے میں انڈیا کسی قسم کی حوصلہ مند پیش قدمی سے گریز کرے گا۔
دوسری جانب اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) نے انڈیا اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرے۔او آئی سی نے ایک ٹویٹ میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال سمیت یہاں پیراملٹری فورسز کی تعیناتی اور انڈین فوج کی جانب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شہریوں کو ممنوعہ کلسٹر بموں سے نشانہ بنائے جانے پر اسلامی تعاون تنظیم کو انتہائی تشویش ہے۔کشمیر کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے کے جسے انگریز نہ حل ہونے کے لئے چھوڑ گیا ہوا ہے۔اور میرے ناقص خیال کے مطابق یہ کب کا حل ہو بھی چکا ہوتا مگر اس کے نہ حل ہونے میں بڑے بڑوں کی دال روٹی شامل ہے اور کئی قسم کے مفادات بھی۔وہی بات کے “ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی”۔میں کچھ عرصہ قبل جسٹس جاوید اقبال کا انٹرویو س±ن رہا تھا جس میں انہوں نے کشمیر کے بارہ میں بڑی مفید باتیں کہی تھیں۔ مثلاً ا±ن کا کہنا تھا کہ دونوں ملک کشمیر کے حوالے سے اپنے اپنے علاقوں سے دستبردار ہو جائیں اور اسے آزاد ریاست کے طور پہ دنیا کے سامنے ابھرنے دیں۔ اور اگر ایسا ہو جائے تو کشمیر اشی کا سوزرلینڈ بن سکتا ہے۔ اور اس خطے میں بڑی ترقی ہو سکتی ہے۔ لیکن کچھ طاقتوں کو یہ کبھی منظور نہیں ہو گااور کوئی جسٹس جاوید اقبال کی ان باتوں سے متفق ہو نہ ہو مگر میں تو ضرور ہوں۔ کیونکہ یہ باتیں دل کو لگتی ہیں۔ کاش کہ ان باتوں پہ کوئی سوچے۔
میں نے ایک دانشور سے جب جسٹس صاحب کی یہ باتیں ڈسکس کیں تو وہ کہنے لگے کہ جناب طلعت صاحب یہ سب باتیں کتابی ہیں جو جسٹس صاحب کر گئے ہیں اور وہ بھی عمر کے آخری حصے میں۔ بہرحال اِن کو عملی جامہ پہنانا تقریباً ناممکن ہے۔پتہ نہیں کیوں مجھے ان دانشور کی باتوں سے یہ لگا کہ جیسے “نہ نو من تیل ہو گا، نہ رادھا ناچے گی”۔اب آخر میں رہ گئی بات ٹرمپ کی کشمیر کے معاملے پہ ثالثی کروانے کی آفر کرنے کی تو جناب بات یہ ہے کے ریچھ کیا ثالثی کروائے گا؟حماقت کی بھی کوئی آخری حد ہوتی ہے۔ٹرمپ ثالثی کروائے گا؟ ثالثی ہمیشہ غیر جانبدار ایمپائر کرواتا ہے۔ کیا ٹرمپ واقعی غیر جانبدار ہے؟کیا یہ ویسی ہی ثالثی ہوگی جیسی کہ ریڈ کلف نے تقسیم ہند کے وقت کی تھی؟۔اب آپ ہی بتائیں میں اور کیا کہوں؟


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.