Daily Taqat

افغانستان میں امریکی ڈالر کرپشن کی نذر

امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکومت افغانستان میں اپنی17 برس جنگ کے حق میں عوامی حمایت حاصل کرنے کیلئے مسلسل ناقص اعدادوشمار پیش کررہی ہے۔ واشنگٹن اپنی عوام کو افغانستان کے حالات سے متعلق سچ بتانا نہیں چاہتا۔اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ امریکا17 سال بعد بھی افغانستان میں مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
پیو ریسرچ سینٹر نے افغانستان میں امریکی کی جنگ سے متعلق سروے رپورٹ جاری کی ہے جس میں امریکی شہریوں سے اس جنگ کے حوالے سے رائے لی گئی ہے۔ جس کے مطابق افغانستان پر امریکی حملے کے درست یا غلط ہونے پر امریکی قوم منقسم ہے اور 49 فیصد امریکی سمجھتے ہیں کہ واشنگٹن افغانستان میں مقاصد حاصل نہیں کر پایا۔ 16 فیصد امریکی اس ابہام کا شکار ہیں کہ افغانستان میں امریکا کامیاب ہوا یا ناکام۔ 2009 سے 2011 تک امریکیوں کا خیال تھا کہ امریکا اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگا لیکن اس میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور 2014 اور 2015 میں مثبت سے زیادہ منفی ردعمل سامنے آئے۔
رپورٹ کے مطابق نیویارک ٹائمز کی اپنی تحقیق اور امریکی حکومت کو عالمی ایڈ ایجنسیوں سے ملنے والے اعداد وشمار سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی حکومت افغانستان بارے جھوٹ بولتی ہے۔ امریکی حکومت کہتی ہے کہ طالبان کو افغانستان کے 44 فیصد اضلاع میں کنٹرول حاصل ہے جبکہ نیویارک ٹائمز کا دعوی ہے کہ جنگجوں کو دراصل 61 فیصد علاقے میں مکمل اثر ورسوخ حاصل ہے۔ اکتوبر 2001 میں امریکی آمد کے بعد سے 2017کے بعد طالبان کو افغان علاقوں میں سب سے زیادہ کنٹرول حاصل ہوا۔ تقریبا 2 ہزار 200 امریکی افغان جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں اور واشنگٹن 40 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم لگا چکا ہے۔ افغان جنگ مہنگی ترین جنگ ثابت ہورہی ہے۔ موجودہ لگنے والی رقم مارشل پلان سے زیادہ جس کے تحت جنگ عظیم دوم کے بعد یورپ کو ازسرنو تعمیر کرنے کے لیے درکار تھی۔
واشنگٹن کی جانب سے افغان جنگ میں اتنی بڑی رقم لگانے کے بعد امریکی عوام کا دباو¿ کم کرنے کے لیے ظاہر کیا گیا کہ افغانستان میں طالبان کا زور ٹوٹ رہا ہے۔ امریکی فوج کا دعوی ہے کہ افغان حکومت ملک کے 56 فیصد حصے پر اثر ورسوخ یا کنٹرول رکھتی ہے۔ دوسری جانب نیویارک ٹائمز کا دعوی ہے کہ متعدد اضلاع میں افغان حکومت صرف ضلعی ہیڈ کواٹر اور ملٹری بیس پر کنٹرول رکھتی ہے جبکہ طالبان دیگر انصرام سنبھالتے ہیں۔اسی طرح کاغذات میں طالبان کے مقابلے میں افغان سیکیورٹی فورسز کی تعداد 10 بتائی گئی لیکن ایک تہائی سے زیادہ فوجی اور پولیس افسران گھوسٹ ہیں۔ وہ فورس چھوڑ چکے ہیں یا بھی انہیں پے رول سے نکال دیا گیا۔دیگر کی ٹریننگ اہلیت اور قابلیت ناقص ہے۔
امریکہ کی افغانستان سے متعلق نئی پالیسی پر افغان طالبان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے اپنے فوجیوں کو افغانستان سے واپس نہ بلایا تو افغانستان کو امریکیوں کا قبرستان بنا دیں گے۔ امریکہ کو افغانستان سے اپنے فوجیوں کے انخلا کے بارے میں حکمت عملی تیار کرنی چاہیے ناکہ جنگ کو جاری رکھنے کی۔ جب تک ہماری سرزمین پر ایک امریکی فوجی بھی موجود ہے اور انہوں نے جنگ جاری رکھی تو ان کے خلاف ہمار جہاد جاری رہے گا۔طالبان ترجمان نے کہا کہ وہ کئی نسلوں سے یہ جنگ لڑرہے ہیں اور وہ خوفزدہ نہیں بلکہ وہ اپنے خون کے آخری قطرے تک جنگ جاری رکھیں گے۔ طالبان مذاکرات کے لیے کیوں تیار ہوں گے جب وہ افغانستان کے ایک بڑے حصہ پر قابض ہیں۔ 2001 کی نسبت طالبان افغانستان کے زیادہ بڑے حصے پر قابض ہیں۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے متعلق اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہوئے نیٹو سے فوج بڑھانے اور اتحادیوں سے فنڈز بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا۔ مدد ضرور کریں گے لیکن افغانستان کا بوجھ مستقل نہیں اٹھا سکتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پہلے ان کا ارادہ تھا کہ وہ افغانستان سے فوجیں جلد واپس بلا لیں گے ہم یہ غلطی افغانستان میں نہیں دہرائیں گے اور فتح تک ملک میں موجود رہیں گے۔
امریکا سالانہ بنیادوں پر40 ارب ڈالر افغان جنگ پر خرچ کر رہا ہے لیکن مستقبل قریب میں اس جنگ کے ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ امریکا جب سے افغانستان میں آیا ہے اس نے اربوں نہیں بلکہ کھربوں ڈالرز خرچ کیے ہیں لیکن پھر وہاں امن نہیں ہوسکا کیونکہ افغانستان میں اس پیسے کا ایک بڑا حصہ کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان میں کرپشن اپنے عروج پر ہے۔ سابق صدر حامد کرزئی اور ان کے بھائی پر بھی کرپشن کے سنگین الزامات تھے اور موجودہ افغان قیادت میں بھی کئی افراد کو ان الزامات کا سامنا ہے۔ جب آپ پیسہ لوگوں پر نہیں لگاتے، تو ان کا رجحان انتہا پسندی کی طرف بڑھتا ہے اور طالبان کی باتیں ان کے لیے پر کشش بن جاتی ہیں۔امریکا نے شروع میں گیارہ بارہ بلین ڈالرز افغان فوج کی تربیت پر سالانہ خرچ کیے۔ اب انہیں تقریباً چھ بلین ڈالرز چاہییں۔ لیکن اتنا پیسہ خرچ کرنے کے بعد ان کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ گھوسٹ ملازمین نہ صرف دوسرے سرکاری اداروں میں ہیں بلکہ فوج میں بھی ایسے ملازمین ہیں۔اسی ضمن میں ایک امریکی جریدے کی رپورٹ ہے کہ افغانوں نے ایک خطیر رقم سے اسکول تعمیر کیا لیکن کچھ ہی عرصے میں اس کی چھت اور دیواروں نے جواب دے دیا۔ تو کرپشن سمیت کئی اور مسائل بھی افغانستان کی خانہ جنگی کا باعث ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع نے افغانستان میں امریکہ کے جنگی اخراجات کی تفصیل فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ پانچ ارب ڈالر سالانہ افغان افواج کے لیے مختص ہیں اور تیرہ ارب ڈالر افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کے اخراجات ہیں۔ باقی اخراجات رسد پر آتے ہیں جبکہ افغانستان کی معاشی ترقی کے لیے اٹھہتر کروڑ ڈالر صرف کیے جاتے ہیں۔ افغان جنگ 2010-2012میں جب اپنے عروج پر تھی اس وقت افغانستان میں امریکہ کے ایک لاکھ سے زیادہ فوجی تعینات تھے اور ان پر مجموعی طور پر ایک سو ارب ڈالر سے زیادہ کے اخراجات آ رہے تھے۔
افغانستان میں جاری جنگ کی امریکہ کے ٹیکس دھندگان کو ہر سال 40 ارب ڈالر قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور یہ جنگ مستقبل قریب میں ختم ہوتی نظر بھی نہیں آتی۔اس وقت مجموعی طور پر سولہ ہزار امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔ امریکی منتخب اراکین نے جنہیں افغانستان میں کامیابی حاصل کرنے کا یقین نہیں، ٹرمپ انتظامیہ کو افغانستان میں طویل ترین جنگ اور اس جنگ کو جس سمت میں لے جایا جا رہا ہے اس پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔رپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے کہا کہ کروڑوں اربوں ڈالر ضائع کیے جا رہے ہیں۔ہم ایک کھائی میں پھنس گئے ہیں اور اس سے نکلنے کی بھی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر جیف مرکلی نے شکایت کی کہ ہر دو سال بعد امریکی حکومت یہ دعوی کرتی ہے کہ افغانستان میں بس جنگ کا پانسہ پلٹنے والا ہے۔ افغانستان میں کرپشن، مفلوج حکومت اور سکیورٹی فورسز اصل مسائل ہیں۔ جنگی دباو¿ بڑھا کر طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کی امریکی امیدیں بھی باور ثابت ہوتی نظر نہیں آتیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »