اہم خبرِیں
پاکستان نیوی کے بحری بیڑے میں نئے اور جدید بحری جنگی جہازپی ای... معاشرے میں بگاڑ کے اسباب ”کشمیریوں کی زندگی کی بھی اہمیت ہے“ مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے پاکستان ترقی کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب، اقوام متحدہ کی رپورٹ... امریکی بحری جنگی جہاز میں دھماکا، 21 افراد زخمی سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پرمیزائلوں سے حملہ دنیا بھر میں آج یومِ شہدائے کشمیر منایا جائے گا پاکستان فرانسیسی شعبہ زراعت اور شعبہ حیوانات کی مہارت سے استفا... میر شکیل الرحمان کی ہمشیرہ کے انتقال پر سی پی این ای کا تعزیت ... شمالی وزیرستان، پاک فوج کا آپریشن، چاردہشت گرد جہنم وصل گھوٹکی ٹرین حادثے کو پندرہ سال بیت گئے پاکستان میں کورونا کے 2 ہزار 521 نئے کیسز،74 اموات انگلستان کی پاکستان میں ڈھائی لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری آیاصوفیہ مسجد کی کہانی ” آپ ایسا کریں کہ آپ کل آ جائیں“ اسٹیٹ بینک کےقوانین کی خلاف ورزی پر 15 کمرشل بینکوں کو بھاری ... ایرانی سیبوں کی درآمد، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر 22 درا... شاہد آفریدی کا کورونا میں مبتلا بچن خاندان کے لیے نیک خواہشات ... مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی پھر سے سر اُٹھانے لگ...

امریکی ریاست مینیسوٹا میں افسوس ناک واقعہ

امریکی شہر Miniaplois میں ایک سیاہ فام شخص کی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے واقعات پیش آئے ہیں۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے Tear Gas کا استعمال کیا جب کہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پولیس کی گاڑیوں پہ Paint سے نعرے لکھ دیئے۔
اس واقعے کی ویڈیو میں اپ دیکھ سکتے ہیں ایک
چھیالیس سالہ سیاہ فام جارج لوئیڈ گھٹی ہوئی آواز
میں کہہ رہا ہے کہ مجھے سانس نہیں آرہی جبکہ ایک پولیس والا اسکی گردن کو گھٹنے سے دبا رہا ہے۔ اس سلسلے میں چار پولیس والوں کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
اس واقعہ سے Eric Gorner کی یاد تازہ ہو گئی ہے جو کہ 2014 میں پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کی ہلاکت سے پولیس کی بربریت کے خلاف احتجاج شروع ہوا تھا جس سے ”بلیک لائف میٹرز”نامی تحریک نے جنم لیا تھا۔
شہریوں کی طرف سے احتجاج جس نے بعد میں پرتشدد صورت اختیار کر لی منگل کی سہ پہر کو شروع ہوا جب ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس انٹرسیکشن میں جمع ہو گئے جہاں یہ واقع پیر کی شام کو پیش آیا تھا۔
احتجاج کے منتظمین نے شرکاء کو پرسکون رکھنے کی کوشش کی اور کورونا وائرس کے پیش نظر Social Distance پر بھی عملدرآمد کروانے کی کوشش کی۔ مظاہرین ‘میں سانس نہیں لے سکتا’ یا ‘میں بھی اس کی جگہ ہو سکتا تھا’ کہ نعرے لگا رہے تھے۔
سینکڑوں کی تعداد میں مظاہرین نے اس سڑک پر جلوس نکالا جہاں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں اس سیاہ فام شخص کی موت واقع ہوئی تھی۔
پولیس کی گاڑیوں پر لوگوں نے پینٹ پھینکا اور پولیس سٹیشن کی عمارت پر پتھراؤ کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ، فلیش گرنیڈ اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔
کہا جارہا کے ”یہ بہت شرم کی بات ہے۔ پولیس کو یہ احساس کرنا چاہیے کہ یہ صورت حال ان کی اپنی پیدا کردہ ہے۔”
ایک اور شخص کے مطابق وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اْس نے اپنے ہاتھ ہوا میں بلند کر دیے لیکن اس کے باوجود پولیس نے اْس پر آنسو گیس پھینکی۔’
جبکہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے چلائی جانے والی ربڑ کی گولیوں سے ایک شخص کو معمولی زخم آئے ہیں۔
Miniaplois پولیس کے چیف میڈاریا ایراڈونڈو کا کہنا ہے کہ اب چار پولیس اہلکار ‘سابق اہلکار ہو چْکے ہیں۔
امریکہ کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف بی آئی) پیر کی شام پیش آنے والے اس واقعے کی تحقیقات کرے گا۔
Mannesota پولیس کا کہنا ہے کہ 46 برس کا جارج جو ایک ریستوران میں سکیورٹی کے فرائص سرانجام دیتا تھا ، کی پولیس کے ساتھ ‘آمنا سامنے ہونے’ کے بعد ایک ‘طبی واقعے’ میں موت ہو گئی۔
اس سے قبل ایک پریس کانفرنس میں مئیر جیکب فرے نے اس واقعے کو ‘مکمل طور پر اور سراسر غلط’ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا ‘میرے خیال میں جو میں نے دیکھا وہ ہر طرح سے غلط ہے۔ امریکہ میں سیاہ فام ہونے کا مطلب موت کی سزا نہیں ہونا چاہیے۔’
Minneapolis میں پیش آنے والے اس واقعے کی ابتدا کسی گاہک کی ایک دکان پر 20 ڈالر کے جعلی بل کے استعمال کرنے کی کوشش سے ہوئی۔
پولیس کے بیان کے مطابق اہلکاروں نے مشتبہ شخص کو اس کی کار میں دیکھا۔ انھیں بتایا گیا کہ وہ شخص، جس کی وقت تک شناخت نہیں ہوئی تھی، وہ ‘نیلی رنگ کی گاڑی کے اوپر بیٹھا ہوا تھا اور نشے کی حالت میں دکھائی دے رہا تھا۔’
پولیس نے جب اس شخص کو گاڑی سے اترنے کا حکم دیا تو اس نے پولیس اہلکاروں سے جسمانی مزاحمت کی۔ لیکن اس کے باوجود پولیس اہلکار مشتبہ شخص کو ہتھکڑیاں لگانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
ایک عینی شاہد کی جانب سے بنائی گئی اس ویڈیو میں اس شخص کو افسر نے زمین پر دبوچا ہوا ہے اور ایک موقع پر وہ کہتا ہے: ‘مجھے مت مارو۔’
عینی شاہدین نے آفیسر کو کہا کہ وہ اپنا گھٹنا شخص کی گردن سے ہٹا لیں کیونکہ وہ حرکت نہیں کر رہا تھا۔ ایک نے کہا ‘اس کے ناک سے خون آ رہا ہے’ جبکہ ایک اور نے التجا کی کہ ‘اس کی گردن چھوڑ دو۔’
سٹریچر اور پھر ایمبولینس میں ڈالنے سے پہلے وہ شخص بے حس و حرکت نظر آتا ہے۔
پولیس کے مطابق اس واقعے میں کسی ہتھیار کا استعمال نہیں کیا گیا جبکہ واقعے کی فوٹیج مینیسوٹا کے ادارہ برائے گرفتاری مجرمان (بیورو آف کریمنل ایپریہینشن) کے حوالے کر دی گئی ہے، جو اس واقعے کے تفتیش کر رہے ہیں۔
اس سے قبل پولیس نے جارج کی موت کے بارے میں ایک بیان میں کہا: ‘جیسے کہ اضافی معلومات دستیاب کر دی گئی ہیں، یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایف بی آئی اس تفتیش کا حصہ بنے گا۔’
پولیس چیف میڈاریا ایراڈونڈو نے کہا کہ تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر ‘کسی کو قابو میں رکھنے کے بارے میں’ فورس کی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
Minnesota پولیس افسران کو محکمے کی طاقت کے استعمال کی پالیسی کے تحت، مشتبہ شخص کی گردن پر گھٹنا ٹیکنے کی اجازت ہے، جب تک سانس کی نالی میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
ایف بی آئی مینیپولیس ڈویڑن کے مطابق ادارے کی تفتیش اس بات پر توجہ مرکوز رکھے گی کہ آیا پولیس افسران نے جان بوجھ کر اس فرد کو اس حق یا استحقاق سے محروم کیا جو امریکہ کے آئین یا قوانین کے تحت محفوظ ہے۔
تفتیش مکمل ہونے کے بعد ایجنسی اپنے نتائج منیسوٹا ریاست کے وکیل کے سامنے پیش کرے گی۔ مینیسوٹا کا ادارہ برائے گرفتاری مجرمان بیورو (آف کریمنل ایپریہینشن) جو زیادہ تر حراست میں ہونے والی اموات کی تفتیش کرتا ہے، ریاستی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزیوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اپنی تحقیقات جاری رکھے گا۔
بہرحال اس شخص اور اس کے خاندان کو انصاف ملنا چاہیے، ہماری کمیونٹی کو انصاف ملنا چاہیے، ہمارے ملک کو انصاف ملنا چاہیے۔’
جولائی 2014 میں Eric Gorner کی موت کے بعد ‘میں سانس نہیں لے سکتا’ امریکہ میں پولیس کے ظلم و ستم کے خلاف قومی نعرہ بن گے رہ گیا ہے۔
گارنر ایک غیر مسلح سیاہ فام، جنھیں پولیس نے کھلے سگریٹوں کی غیر قانونی فروخت کے شبے میں حراست میں لیا تھا، نے یہ جملہ 11 بار بولا۔ یہ 46 برس کے گارنر کے آخری الفاظ تھے جن کی موت پولیس آفیسر کے گلہ دبوچنے کی وجہ سے ہوئی۔
گارنر کی اس جان لیوا گرفتاری میں ملوث نیویارک پولیس کے اہلکار کو پانچ برس بعد اگست 2019 میں پولیس فورس سے نکال دیا گیا تاہم اس معاملے میں کسی آفیسر پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔
ہمارے وطنِ عزیز میں تو پولیس کے ظلمْ ستم کی کہانیاں زدِ عام ہیں۔ لیکن ان ترقی یافتہ ممالک میں بھی بعض اوقات اسطرح کے افسوس ناک واقعات ہو جاتے ہیں۔جنکا بعض اوقات تھرڈ ورلڈ ممالک میں رہنے والوں کو یقین بھی نہیں آتا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.