اہم خبرِیں

ٹڈی دل سے دل لگی مہنگی پڑے گی 

کسانوںپر خوف کا عالم ہے، سال بھر کی کمائی ٹڈیوں کے رحم و کرم پر ہے، کورونا وبا کی طرح ٹڈی دل کے تدارک میں بھی دیر ہو چکی، وہ جو پہلے کرنا چاہئے تھا ،وہ ہوا نہیں، جو اَب کیا جا رہا ہے،بے اثر ہے۔کورونا وبا کے باعث خاموشی سے تیار ہونے والی ٹڈی کی نئی نسل بالکل نظر انداز کردی گئی، یہ نئی نسل اب پاکستان کی فضائوں میں آفت بن کر موجود ہے، جہاں سے گزرتی ہے، تباہی مچاتی دیتی ہے ۔اس ٹڈی دل کی آفت سے پاکستان کی معیشت کو 600 ارب روپے کے نقصان کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ حکومت اچھی طر ح جانتی ہے کہ ہماری تقریبا 65 فیصدآبادی بالواسطہ یا بلا واسطہ زراعت سے وابستہ ہے، ٹڈی دل کے حملوں سے خراب ہونے والی فصل کا اثر صرف کسان پر ہی نہیں ،بلکہ دیگر ایسے تمام لوگوں پر پڑے گا جو کھیت کھلیان سے وابستہ ہیں۔ملک کا کسان طبقہ کئی ماہ سے ٹڈی دل کے حملے کے خدشات کا اظہار کر رہاتھا، مگرمتعلقہ اداروں کی طرف سے مناسب اقدامات میں کوتاہی برتی گئی ،تا خیر ی حربوں کے باعث اعلیٰ حکام کے احکامات بے اثر ہوئے اور اب ملک بھر کے کھیتوں میں جہاں سے ٹڈی دل گزر گئے ،بر بادی نظر آتی ہے ۔ اس صورتحال کا تیس سال قبل بھی کسانوں کو سامنا تھااور آج بھی کسان ٹڈی دل کے حملوں میں اضافے کے باعث پریشان حال ہے،جبکہ حکومتی وزراء ،مشیر الزم تراشی کی سیاست کو فروغ دے کر ٹڈی دل سے دلگی کررہے ہیں جو انہیں بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔
یہ امر واضح ہے کہ پاکستان میں ٹڈی دل کی آمد حالیہ نہیں،بلکہ گزشتہ سال جولائی سے ٹڈی دل حملوں کا سامنا ہے۔ یہ ٹڈیاں افریقی ممالک ایتھوپیا’ صومالیہ’ یمن اور پھر سعودی عرب اور عمان سے ہوتی ہوئی ایران کے راستے بلوچستان میںآئیں اور وہاں سے سندھ پر حملوں کے بعد پنجاب میں داخل ہوکر فصلوں کی بربادی کا باعث بن رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں انتباہ کیا گیا تھا کہ رواں سال جون اور وسط جولائی میں ٹڈی دل کے بڑے حملے کا خطرہ ہے، کیونکہ اس وقت ٹڈی دل اپنی افزائش نسل کے دور سے گزر رہا ہے،لیکن حکومت نے اس سلسلہ میںبروقت موثر اقدامات کو یقینی بنانے میں کوئی پیش رفت نہیں کی اور کورونا ،لاک ڈائون میں الجھی رہی ہے۔اس کوتاہی کے پیش نظروہی کچھ ہوا جس کا اندیشہ تھا، ٹڈی دل کسانوں کے لیے قدرتی آفت ثابت ہوا ہے اور مذیدخدشہ ہے کہ کسانوں کے ساتھ ساتھ ملک کو بھی شدید معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ٹڈی دل ایک ایسی آفت ہے جس سے بچا جاسکتا تھا، مگر پاکستان کی بیوروکریسی اور حکومت نے ہمیشہ کی طرح حالات کے بے قابو ہونے کا انتہائی صبر اور استقامت کے ساتھ انتظار کیا اور اب اس کا خمیازہ کسان اور عوام بھگتیں گے۔
اس میں شک نہیں کہ زراعت سے متعلق مختلف حلقے مسلسل حکومت کی توجہ ٹڈی دل آفت کی طرف دلاتے رہے تھے، تاکہ بروقت اقدامات اُٹھائے جاسکیں اور کسی بڑے نقصان سے بچا جاسکے ۔کورونا کے نام پر کیے جانے والے لاک ڈاؤن کی بناء پر پہلے ہی صنعتی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے،اگر کچھ آسرا زرعی پیداوار سے تھا توحکومتی وزراء نے انتہائی مہارت سے اس کا بھی خاتمہ کردیاہے۔آخر کب تک وزیر اعظم عمران خان اکیلے کا بینہ کی نااہلیوں کا بوجھ اُٹھاتے رہیں گے،وزرا کاکام ملکی اداروں کو فعال بنانا ہے ،کیا وجہ ہے کہ ادارے اپنی ذمہ داریوں سے عہدا برا نہیں ہو رہے ہیں ۔ملک میں ٹڈی دل کے بارے میں خبر دینے کی ذمہ داری محکمہ موسمیات کی ہے تو اس نے اپنی ذمہ داری کو پورا کیوںنہیں کیا، ٹڈی دل بے قابو ہونے سے پہلے اس کے خاتمہ کی ذمہ داری پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی ہے تو اس نے اس ذمہ داری کو کیوں پورا نہیں کیا، اسپرے کے لیے چار جہازوں پر مشتمل پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے پاس فضائی بیڑا موجود ہے تو اسے حالات کو دیکھتے ہوئے قابل استعمال کیوں نہیں بنایا گیا۔ اگر پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے پاس موجود جہاز ناکارہ اور پائلٹ نہیں تو حکومتی اعلیٰ عہدیداروں کے پاس موجود جہازوں کو کیوں نہ ہنگامی حالت میں طلب کرلیا گیا، اب تو پائلٹ والے جہازوں کا زرعی اسپرے کے لیے استعمال ہی متروک ہوگیا ہے، بلکہ اس کے لیے بڑے ڈرون استعمال کیے جارہے ہیں تو پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ نے جدید ڈرون حاصل کرنے کی طرف توجہ کیوں نہیں دی۔ایسے بہت سے سوالات کے جواب عوام جاننا چاہتے ہیں ،مگر الزام تراشی اور اپنی کو تاہیاں دوسروں پر ڈالنے کے علاوہ کسی کے پاس کوئی مدلل جواب نہیں ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح کو تاہی کے ازالے کے لیے حکومت نے اعلان کیا ہے کہ متاثرہ کسانوں کو پچاس ارب روپے کا زرتلافی ادا کیا جائے گا۔ در اصل یہ کسانوںکو دیا جانے والا زرتلافی نہیں ، بلکہ قوم کو لگایا جانے والا پچاس ارب روپے کا ٹیکا ہے۔ یہ ٹیکا اس سیکڑوں ارب روپے کے نقصان کے علاوہ ہے جو زرعی پیداوار کے ٹڈی دل کے شکار ہونے اور درآمد کی صورت میں ملک کے ٹیکس دہندگان بھگتیں گے۔ یہ پچاس ارب روپے کا زرتلافی بھی اپنوں میں بٹ جائے گا اور درمیانے ،چھوٹے درجے کے کسان یونہی دربدر پھرنے پر مجبور ہوں گے۔ ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ اس ملک میں ایک توایسا کوئی ادارہ موجود ہی نہیںجو اس قسم کے اقدامات پر ذمہ داروں کی پکڑ کرسکے ،دوسرا عوام بھی شعور رکھنے کے باوجود بے شعوری کا مظاہرہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔اس کا بھر پور فائدہ عوام کے نام پر منتخب
نمائندے اُٹھا تے ہیں ،وہ بخوبی عوام کو ہینڈل کر نے کا فن جا نتے ہیں،ٹڈیوں کو تلف کرنے کا جو کام چند کروڑ روپے میں ہوسکتا تھا، اب اس کی جگہ قوم سیکڑوں ارب روپے کا نقصان برداشت کرے گی اور ذمہ دار یونہی بے فکرسکون کی بانسری بجاتے رہیں گے۔ اس ملک پر جو بھی آفت آئے، اس سے خود کو بری الذمہ قرار دینے کا آزمودہ نوسخہ ایک دوسرے پر الزام تراشی ہے۔ الزام تراشی کے اس کھیل میں اتنی زور سے دھول اڑائی جاتی ہے کہ اس میں ہر چیز چھپ جاتی ہے،لیکن اس بارٹڈی دل کی تباہی کسی الزام تراشی کی دھول گرد میں چھپنے والی نہیں،اگر حکومت نے فوری ٹڈی دل کے سد باب کے لیے موثر اقدامات کو یقینی نہ بنایا اور عوام کو ٹڈی دل بھگانے کے لیے ڈھول بجانے پر لگائے رکھاتوحکومتی وزرا کی یہ ٹڈی دل سے دلگی ان کے اپنے گلے پڑجائے گی۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.